المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
رجال غير مسمين، عن معاذ باب: کچھ نامعلوم راویوں کی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَدَقَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ، ثنا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ الْيَحْمَدِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ: كُنْتُ ثَالِثَ ثَلَاثَةٍ يَخْدُمُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، فَلَمَّا حُضِرَ قُلْنَا لَهُ: يَرْحَمُكَ اللهُ، إِنَّمَا صَحِبْنَاكَ وانْقَطَعْنَا إِلَيْكَ وَاتَّبَعْنَاكَ لِمِثْلِ هَذَا الْيَوْمِ، فَحَدِّثْنَا بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَنْتَفِعُ بِهِ، قَالَ: نَعَمْ، وَمَا سَاعَةُ الْكَذِبِ هَذِهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ مَاتَ وَهُوَ يُوقِنُ بِثَلَاثٍ: أَنَّ اللهَ حَقٌّ، وَأَنَّ السَّاعَةَ قَائِمَةٌ، وَأَنَّ اللهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ " - وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ: فَأَنَا نَسِيتُ إِمَّا - قَالَ: «دَخَلَ الْجَنَّةَ» ، وَإِمَّا قَالَ: «نَجَا مِنَ النَّارِ»ابن دیلمی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں ان تین آدمیوں میں سے تیسرا تھا جو سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی خدمت کیا کرتے تھے۔ جب ان کی وفات کا وقت آیا تو ہم نے ان سے کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے! ہم نے آپ کی صحبت اختیار کی، آپ سے وابستہ ہوئے اور آپ کی پیروی کی تھی بس ایسے ہی دن کے لیے، تو ہمیں کوئی ایسی حدیث سنا دیجیے جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو، ہم اس سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، اور اس گھڑی میں جھوٹ کہاں! میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جو اس حال میں مرے کہ اسے تین چیزوں کا یقین ہو: یہ کہ اللہ حق ہے، اور یہ کہ قیامت قائم ہونے والی ہے، اور یہ کہ اللہ قبروں میں پڑے لوگوں کو اٹھائے گا۔“ ابن سیرین (راوی) کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جنت میں داخل ہوگا“، یا فرمایا: ”وہ آگ سے نجات پا گیا۔“