کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدنا محمد بن عبداللہ بن جحش بن ریاب اسدی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هِشَامٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشِ بْنِ رِيَابِ بْنِ يَعْمَرَ بْنِ صَبِرَةَ بْنِ مَرَّةَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ غَنْمِ بْنِ دُودَانَ بْنِ أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ مُدْرِكَةَ بْنِ إِلْيَاسَ بْنِ مُضَرَ بْنِ نِزَارٍ حَلِيفُ بَنِي أُمَيَّةَ، جَدَّتُهُ أُمُّ أَبِيهِ أُمَيْمَةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقُتِلَ أَبُوهُ يَوْمَ أُحُدٍ شَهِيدًا، وَعَمَّتُهُ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ
محمد بن اسحاق کہتے ہیں: محمد بن عبداللہ بن جحش بن ریاب بن یعمر بن صبرہ بن مرہ بن کثیر بن غنم بن دودان بن اسد بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار، بنو امیہ کے حلیف تھے، ان کے والد کی دادی امیمہ بنت عبدالمطلب رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی تھیں، اور ان کے والد احد کے دن شہید ہوئے، اور ان کی پھوپھی سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ تھیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنِي أَبُو كَثِيرٍ، مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَّ عَلَى مَعْمَرٍ، وَهُوَ جَالِسٌ عِنْدَ دَارِهِ بِالسُّوقِ وَفَخِذَاهُ مَكْشُوفَانِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْمَرُ غَطِّ فَخِذَيْكَ فَإِنَ الْفَخِذَيْنِ عَوْرَةٌ»
ترجمہ
سیدنا محمد بن عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا، آپ ﷺ کا گزر معمر پر ہوا جو بازار میں اپنے گھر کے پاس بیٹھے تھے اور ان کی رانیں کھلی ہوئی تھیں، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے معمر! اپنی رانیں ڈھانپو، کیونکہ دونوں ران ستر ہیں۔“
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ عَلَى مَعْمَرٍ وَفَخِذَاهُ مَكْشُوفَانِ، فَقَالَ: «يَا مَعْمَرُ غَطِّ فَخِذَيْكَ، فَإِنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ» ،
ترجمہ
سیدنا محمد بن جحش رضی اللہ عنہ کے غلام ابو کثیر، محمد بن جحش سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کا گزر معمر پر ہوا جبکہ میں آپ ﷺ کے ساتھ تھا، اور ان کی رانیں کھلی ہوئی تھیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے معمر! اپنی رانیں ڈھانپو، کیونکہ ران ستر ہے۔“
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا محمد بن عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَرُوبَةَ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبُو الْمُعَافَى مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَّ بِنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَدِيٍّ كَاشِفٌ عَنْ فَخِذِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غَطِّ فَخِذَكَ يَا مَعْمَرُ فَإِنَّهَا مِنَ الْعَوْرَةِ»
ترجمہ
سیدنا محمد بن عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، پس بنو عدی کے ایک آدمی کا ہمارے پاس سے گزر ہوا جس کی ران کھلی ہوئی تھی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے معمر! اپنی ران ڈھانپ لو، یہ ستر (چھپانے کی جگہ) میں سے ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيِّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ، فَمَرَّ عَلَى مَعْمَرٍ عَلَى بَابِهِ مَكْشُوفَةٌ فَخِذُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غَطِّ فَخِذَكَ يَا مَعْمَرُ فَإِنَّهَا مِنَ الْعَوْرَةِ» .
ترجمہ
سیدنا محمد بن عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ بازار میں تھا، آپ ﷺ کا گزر معمر کے پاس سے ہوا جو اپنے دروازے پر تھے اور ان کی ران کھلی ہوئی تھی، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے معمر! اپنی ران ڈھانپ لو، یہ ستر میں سے ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا محمد بن عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ صَلَاحٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَوْ أَنَّ رَجُلًا قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ ثُمَّ أُحْيِيَ ثُمَّ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ ثُمَّ أُحْيِيَ لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ دَيْنُهُ، وَلَيْسَ ثَمَّةَ ذَهَبٌ وَلَا فِضَّةٌ، إِنَّمَا هِيَ الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ»
ترجمہ
سیدنا محمد بن عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اگر کوئی آدمی اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے، پھر زندہ کیا جائے، پھر اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے، پھر زندہ کیا جائے، تو وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا جب تک اس کا قرض ادا نہ کر دیا جائے، اور وہاں نہ سونا ہوگا نہ چاندی، بلکہ نیکیاں اور گناہ (کے بدلے چکائے جائیں گے)۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ، مَوْلَى اللَّيْثِيِّينَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللهِ؟، قَالَ: «الْجَنَّةُ» ، فَلَمَّا وَلَّى، قَالَ: «إِلَّا الدِّينَ، سَارَّنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ آنِفًا»
ترجمہ
سیدنا محمد بن عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر میں اللہ کی راہ میں قتل کر دیا جاؤں تو (کیا ہوگا)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنت۔“ پھر جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مگر قرض کے بغیر، ابھی ابھی جبریل علیہ السلام نے مجھ سے سرگوشی میں یہ بات کہی ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا دُحَيْمٌ، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، ثنا أَبِي، قَالَا: ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، مَوْلَى الْأَسْلَمِيِّينَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَاذَا تَرَى إِنْ قَاتَلْتُ فِي سَبِيلِ اللهِ حَتَّى أُقْتَلَ؟، قَالَ: «الْجَنَّةُ» ، فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ قَالَ: «كُرُّوهُ عَلِيَّ» ، فَلَمَّا جَاءَ قَالَ: " إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ: إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَلَيْهِ دَيْنٌ "
ترجمہ
سیدنا محمد بن عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کیا خیال فرماتے ہیں اگر میں اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے قتل ہو جاؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنت۔“ پھر جب وہ آدمی پیٹھ پھیر کر گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے میرے پاس واپس لاؤ۔“ جب وہ آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام نے کہا ہے: مگر یہ کہ اس پر قرض ہو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " قَالَ لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: لَوْ أَنَّ عَبْدًا قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ دَيْنُهُ "
ترجمہ
سیدنا محمد بن عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھ سے جبریل علیہ السلام نے کہا: اگر کوئی بندہ اللہ کی راہ میں قتل کر دیا جائے اور اس پر قرض ہو، تو وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا جب تک اس کا قرض ادا نہ کر دیا جائے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفِنَاءِ الْمَسْجِدِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: «سُبْحَانَ اللهِ مَاذَا أُنْزِلَ مِنَ التَّشْدِيدِ؟» ، فَظَلَلْنَا بَقِيَّةَ يَوْمِنَا وَلَيْلَتِنَا، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَاذَا أُنْزِلَ مِنَ التَّشْدِيدِ؟، قَالَ: «لَوْ أَنَّ رَجُلًا قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ ثُمَّ أُحْيِيَ ثُمَّ قُتِلَ ثم أُحْيِىَ لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ»
ترجمہ
سیدنا محمد بن عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مسجد کے صحن میں تھے کہ آپ ﷺ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور فرمایا: ”سبحان اللہ! یہ کیسی سختی نازل کی گئی ہے؟“ ہم اپنا باقی دن اور رات اسی حال میں رہے، پھر جب صبح ہوئی تو میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کیسی سختی نازل کی گئی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر کوئی آدمی اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے، پھر زندہ کیا جائے، پھر قتل کیا جائے، پھر زندہ کیا جائے، تو وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا جبکہ اس پر قرض ہو۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ، عَنْ أَبِيهِ: «أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ كَانَتْ تَغْسِلُ رَأْسَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِخْضَبٍ مِنْ صُفْرٍ» . قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: قَدْ رَأَيْتُ ذَلِكَ الْمِخْضَبَ "
ترجمہ
سیدنا محمد بن عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کا سر پیتل کے ایک برتن میں دھویا کرتی تھیں۔ عبداللہ بن عمر کہتے ہیں: میں نے وہ برتن دیکھا ہے۔