حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَا: ثنا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ، ثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فَضَالَةَ الظَّفَرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ: وَكَانَ مِمَّنْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُمْ فِي مَسْجِدِ بَنِي ظُفُرٍ فَجَلَسَ عَلَى الصَّخْرَةِ الَّتِي فِي مَسْجِدِ بَنِي ظُفُرٍ الْيَوْمَ، وَمَعَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَارِئًا، فَقَرَأَ حَتَّى أَتَى عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ: {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا} [النساء: ٤١] ، فَبَكَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى اضْطَرَبَ لَحْيَاهُ، فَقَالَ: «أَيْ رَبُّ شَهِدْتُ عَلَى مَنْ أَنَا بَيْنَ ظَهْرَيْهِ فَكَيْفَ بِمَنْ لَمْ أَرَ؟»
ترجمہ
(راوی کہتے ہیں:) ...یہاں تک کہ آپ ﷺ اس آیت پر پہنچے: ”پھر کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے“ [سورۃ النساء: 41]، تو رسول اللہ ﷺ رو پڑے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے دونوں جبڑے کانپنے لگے، اور فرمایا: ”اے میرے رب! میں تو ان لوگوں پر گواہی دیتا ہوں جن کے درمیان میں رہا، تو ان لوگوں کا کیا ہو گا جنہیں میں نے دیکھا ہی نہیں؟“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقَطَوَانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَزَّازُ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ، قَالَا: ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ثنا إِدْرِيسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَنَسَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ فَضَالَةَ، حَدَّثَنِي جَدِّي، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَأَنَا ابْنُ أُسْبُوعَيْنِ، فَأُتِيَ بِي إِلَيْهِ فَمَسَحَ عَلَى رَأْسِي، وَقَالَ: «سَمُّوهُ بِاسْمِي، وَلَا تُكَنُّوهُ بِكُنْيَتِي» . وَحَجَّ بِي مَعَهُ حَجَّةَ الْوَدَاعِ وَأَنَا ابْنُ عَشْرِ سِنِينٍ، قَالَ: فَلَقَدْ عُمِّرَ مُحَمَّدٌ حَتَّى شَابَ رَأْسُهُ، وَمَا شَابَ مَوْضِعُ يَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ
(محمد بن فضالہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:) میرے دادا اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو میں دو ہفتے کا تھا، تو مجھے آپ ﷺ کے پاس لایا گیا، آپ ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: ”اسے میرے نام پر نام دو، لیکن اسے میری کنیت مت دینا۔“ اور حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ مجھے اپنے ساتھ حج پر لے گئے جبکہ میری عمر دس سال تھی۔ کہتے ہیں: محمد رضی اللہ عنہ اتنی لمبی عمر پائی کہ ان کا سر سفید ہو گیا، مگر جہاں نبی کریم ﷺ کا ہاتھ لگا تھا وہ جگہ سفید نہ ہوئی۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، ثنا إِدْرِيسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُونُسَ الظَّفَرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: «أَنَّهُ حَضَرَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَجَّةَ الْوَدَاعِ وَهُوَ ابْنُ عَشْرِ سِنِينٍ وَلَهُ ذُؤَابَةٌ»
ترجمہ
(راوی کے دادا اپنے والد سے روایت کرتے ہیں) کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع میں حاضر ہوئے جبکہ ان کی عمر دس سال تھی اور ان کی ایک چوٹی تھی۔