المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
محمد بن عبد الله بن جحش بن رياب الأسدي باب: سیدنا محمد بن عبداللہ بن جحش بن ریاب اسدی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 16609
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، مَوْلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفِنَاءِ الْمَسْجِدِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: «سُبْحَانَ اللهِ مَاذَا أُنْزِلَ مِنَ التَّشْدِيدِ؟» ، فَظَلَلْنَا بَقِيَّةَ يَوْمِنَا وَلَيْلَتِنَا، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَاذَا أُنْزِلَ مِنَ التَّشْدِيدِ؟، قَالَ: «لَوْ أَنَّ رَجُلًا قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللهِ ثُمَّ أُحْيِيَ ثُمَّ قُتِلَ ثم أُحْيِىَ لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ»ترجمہ
سیدنا محمد بن عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مسجد کے صحن میں تھے کہ آپ ﷺ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور فرمایا: ”سبحان اللہ! یہ کیسی سختی نازل کی گئی ہے؟“ ہم اپنا باقی دن اور رات اسی حال میں رہے، پھر جب صبح ہوئی تو میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کیسی سختی نازل کی گئی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر کوئی آدمی اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے، پھر زندہ کیا جائے، پھر قتل کیا جائے، پھر زندہ کیا جائے، تو وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا جبکہ اس پر قرض ہو۔“