کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عمر بن قتادہ بن نعمان کی اپنے والد سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ: كَانَتْ لَيْلَةٌ شَدِيدَةُ الظُّلْمَةِ وَالْمَطَرِ، فَقُلْتُ: لَوْ أَنِّي اغْتَنَمْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ شُهُودَ الْعَتَمَةِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفَعَلْتُ فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَنِي وَمَعَهُ عُرْجُونٌ يَمْشِي عَلَيْهِ، فَقَالَ: «مَا لَكَ يَا قَتَادَةُ هَهُنَا هَذِهِ السَّاعَةَ؟» ، قُلْتُ: اغْتَنَمْتُ شُهُودَ الصَّلَاةِ مَعَكَ يَا رَسُولَ اللهُ، فَأَعْطَانِيَ الْعُرْجُونَ، فَقَالَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ خَلْفَكَ فِي أَهْلِكَ، فَاذْهَبْ بِهَذَا الْعُرْجُونِ، فَأَمْسَكْ بِهِ حَتَّى تَأْتِيَ بَيْتَكَ، فَخُذْهُ مِنْ وَرَاءِ الْبَيْتِ فَاضْرِبْهُ بِالْعُرْجُونِ» ، فَخَرَجْتُ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَأَضَاءَ الْعُرْجُونُ مِثْلَ الشَّمْعَةِ نُورًا فَاسْتَضَأْتُ بِهِ، فَأَتَيْتُ أَهْلِي فَوَجَدْتُهُمْ رُقُودًا، فَنَظَرْتُ فِي الزَّاوِيَةِ، فَإِذَا فِيهَا قُنْفُذٌ، فَلَمْ أَزَلْ أَضْرِبُهُ بِالْعُرْجُونِ حَتَّى خَرَجَ
ترجمہ
(میں نے چاہا) کہ اس رات نبی کریم ﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز میں حاضری کا موقع غنیمت جانوں، چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا۔ جب نبی کریم ﷺ نماز سے فارغ ہو کر واپس ہوئے تو مجھے دیکھا، آپ ﷺ کے ساتھ کھجور کی ایک ٹہنی (عرجون) تھی جس پر ٹیک لگائے چل رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے قتادہ! تم اس وقت یہاں کیوں ہو؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آپ کے ساتھ نماز میں حاضری کا موقع غنیمت جانا۔ تو آپ ﷺ نے مجھے وہ ٹہنی عطا فرمائی اور فرمایا: ”شیطان تمہارے پیچھے تمہارے گھر والوں میں (کچھ کرنے کے لیے) موجود ہے، یہ ٹہنی لے جاؤ اور اسے تھامے رکھو یہاں تک کہ اپنے گھر پہنچ جاؤ، پھر گھر کے پیچھے سے اسے پکڑو اور اس سے مارو۔“ چنانچہ میں مسجد سے نکلا تو وہ ٹہنی موم بتی کی طرح روشن ہو گئی، میں نے اس کی روشنی سے راستہ دیکھا، اپنے گھر پہنچا تو گھر والوں کو سوتا پایا، میں نے کونے میں دیکھا تو وہاں ایک خارپشت (کانٹے دار جانور) تھا، میں اسے اس ٹہنی سے مارتا رہا یہاں تک کہ وہ نکل گیا۔
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ وَقَعَ فِي قُرَيْشٍ فَكَأَنَّهُ نَالَ مِنْهُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَهْلًا يَا قَتَادَةُ لَا تَسُبَّنَّ قُرَيْشًا، فَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يُرَى مِنْهُمْ رِجَالًا تَزْدَرِي عَمَلَكَ مَعَ أَعْمَالِهِمْ، وَفِعْلَكَ مَعَ أَفْعَالِهِمْ، لَوْلَا أَنْ تَطْغَى قُرَيْشٌ لَأَخْبَرْتُهَا بِمَا لَهَا عِنْدَ اللهِ»
ترجمہ
عاصم بن عمر بن قتادہ اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے قریش کے بارے میں کچھ کہا، گویا انہیں برا بھلا کہا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ٹھہرو، اے قتادہ! قریش کو گالی نہ دو، عنقریب تم ان میں سے ایسے لوگ دیکھو گے جن کے اعمال کے سامنے تمہارے اعمال اور جن کے کاموں کے سامنے تمہارے کام حقیر معلوم ہوں گے۔ اگر مجھے یہ خدشہ نہ ہوتا کہ قریش سرکش ہو جائے گی تو میں انہیں بتا دیتا کہ اللہ کے ہاں ان کا کیا مقام ہے۔“
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ حَمَّادٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي الْفَضْلُ، عَنْ أَبِيهِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْزَلَ اللهُ إِلَيَّ جِبْرِيلَ بِأَحْسَنِ مَا كَانَ يَأْتِينِي صُورَةً، فَقَالَ: إِنَّ السَّلَامَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ يَا مُحَمَّدُ، وَيَقُولُ: إِنِّي أَوْحَيْتُ إِلَى الدُّنْيَا أَنْ تَمَرَّرِي، وَتَكَدَّرِي، وَتَضَيَّقِي، وَتَشَدَّدِي عَلَى أَوْلِيَائِي حَتَّى يُحِبُّوا لِقَائِي، وَتَسَهَّلِي، وَتَوَسَّعِي، وَتَطَيَّبِي لِأَعْدَائِي حَتَّى يَكْرَهُوا لِقَائِي، فَإِنِّي جَعَلْتُهَا سِجْنًا لِأَوْلِيَائِي، وَجَنَّةً لِأَعْدَائِي "
ترجمہ
سیدنا قتادہ بن نعمان بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے میری طرف جبرائیل کو ان کی سب سے حسین صورت میں بھیجا، انہوں نے کہا: اے محمد! سلام (اللہ) آپ کو سلام کہتا ہے، اور فرماتا ہے: میں نے دنیا کی طرف وحی کی ہے کہ تو تلخ بن جا، اور میلی ہو جا، اور تنگ ہو جا، اور اپنے دوستوں پر سختی کر یہاں تک کہ وہ میری ملاقات کو پسند کریں، اور تو نرم بن جا، اور کشادہ ہو جا، اور اپنے دشمنوں کے لیے خوشگوار بن جا یہاں تک کہ وہ میری ملاقات کو ناپسند کریں، کیونکہ میں نے تجھے اپنے دوستوں کے لیے قید خانہ اور اپنے دشمنوں کے لیے جنت بنایا ہے۔“
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ حَمَّادٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ: أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْسٌ فَدَفَعَهَا إِلَيَّ يَوْمَ أُحُدٍ، فَرَمَيْتُ بِهَا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْدَقَّتْ عَنْ سِنَّتِهَا، وَلَمْ أَزَلْ عَنْ مَقَامِي نَصْبَ وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْقَى السِّهَامَ بِوَجْهِي، كُلَّمَا مَالَ سَهْمٌ مِنْهَا إِلَى وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيَّلْتُ رَأْسِي لِأَقِيَ وَجْهَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَا رَمْيٍ أَرْمِيَهِ، فَكَانَ آخِرُهَا سَهْمًا بَدَرَتْ مِنْهُ حَدَقَتِي عَلَى خَدِّي، وَتَفَرَّقَ الْجَمْعُ فَأَخَذْتُ حَدَقَتِي بِكَفِّي، فَسَعَيْتُ بِهَا فِي كَفِّي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَفِّي دَمَعَتْ عَيْنَاهُ، فَقَالَ: «اللهُمَّ إِنَّ قَتَادَةَ قَدْ أَوْجَهَ نَبِيَّكَ بِوَجْهِهِ، فَاجْعَلْهَا أَحْسَنَ عَيْنَيْهِ وَأَحَدَّهُمَا نَظَرًا» ، فَكَانَتْ أَحْسَنَ عَيْنَيْهِ وَأَحَدَّهُمَا نَظَرًا
ترجمہ
اور مجمع منتشر ہو گیا تو میں نے اپنی آنکھ کا ڈھیلا اپنی ہتھیلی پر رکھا اور اسے ہتھیلی میں لیے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے پاس دوڑا، جب رسول اللہ ﷺ نے اسے میری ہتھیلی میں دیکھا تو آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! قتادہ نے اپنے چہرے سے تیرے نبی کے چہرے کی حفاظت کی ہے، اسے اس کی دونوں آنکھوں میں سب سے اچھی اور سب سے تیز نظر والی بنا دے۔“ چنانچہ وہ اس کی دونوں آنکھوں میں سب سے اچھی اور سب سے تیز نظر والی بن گئی۔
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ حَمَّادٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ: «كُنْتُ نَصْبَ وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ، أَقِي وَجْهَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِي، وَكَانَ أَبُو دُجَانَةَ سِمَاكُ بْنُ خَرَشَةَ مُوقِيًا لِظَهْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِظَهْرِهِ، حَتَّى امْتَلَأَ ظَهْرُهُ سِهَامًا، وَكَانَ ذَلِكَ يَوْمَ أُحُدٍ»
ترجمہ
سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں غزوہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ کے چہرے کے سامنے (کھڑا) تھا، اپنے چہرے سے آپ ﷺ کے چہرے کی حفاظت کر رہا تھا، اور سیدنا ابودجانہ سماک بن خرشہ رضی اللہ عنہ اپنی پیٹھ سے رسول اللہ ﷺ کی پیٹھ کی حفاظت کر رہے تھے، یہاں تک کہ ان کی پیٹھ تیروں سے بھر گئی، اور یہ غزوہ احد کے دن ہوا۔
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ حَمَّادٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ: «مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّيْفَ بِحَقِّهِ؟» ، فَقَامَ عَلِيٌّ، فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «اقْعُدْ» ، فَقَعَدَ، ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ: «مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّيْفَ بِحَقِّهِ؟» ، فَقَامَ أَبُو دُجَانَةَ الثَّانِيَةَ، فَدَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ، فَقَامَ أَبُو دُجَانَةَ فَرَبَطَ عَلَى عَيْنَيْهِ عِصَابَةً حَمْرَاءَ، فَرَفَعَ حَاجِبَيْهِ عَنْ عَيْنَيْهِ مِنَ الْكِبْرِ، ثُمَّ مَشَى بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّيْفِ
ترجمہ
سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ احد کے دن فرمایا: ”کون ہے جو اس تلوار کا حق ادا کرتے ہوئے اسے لے؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ۔“ تو وہ بیٹھ گئے۔ پھر آپ ﷺ نے دوبارہ فرمایا: ”کون ہے جو اس تلوار کا حق ادا کرتے ہوئے اسے لے؟“ تو دوسری بار سیدنا ابودجانہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی تلوار ذوالفقار انہیں دے دی۔ سیدنا ابودجانہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، اپنے سر پر ایک سرخ پٹی باندھی، اور غرور (جنگی جوش) سے اپنی بھنویں اپنی آنکھوں کے اوپر اٹھا لیں، پھر تلوار لیے رسول اللہ ﷺ کے آگے آگے چلنے لگے۔
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُعَيْبٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ: كَانَ أَهْلُ بَيْتٍ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو أُبَيْرِقَ، بِشْرٌ، وَبَشِيرٌ، وَمُبَشِّرٌ، وَكَانَ بَشِيرٌ رَجُلًا مُنَافِقًا، وَكَانَ يَقُولُ الشَّعْرَ يَهْجُو بِهِ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَنْحَلُهُ لِبَعْضِ الْعَرَبِ، وَيَقُولُ: قَالَ فُلَانٌ كَذَا، وَقَالَ فُلَانٌ كَذَا، فَإِذَا سَمِعَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ الشَّعْرِ، قَالُوا: وَاللهِ مَا يَقُولُ هَذَا الشَّعْرَ إِلَّا الْخَبِيثُ، فَقَالَ: أَوَكُلَّمَا قَالَ الرَّجُلُ قَصِيَدةً قَالُوا: ابْنُ أُبَيْرِقٍ قَالَهَا، وَكَانُوا أَهْلَ بَيْتِ فَاقَةٍ وَحَاجَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالْإِسْلَامِ، وَكَانَ النَّاسُ إِنَّمَا طَعَامُهُمْ بِالْمَدِينَةِ التَّمْرُ وَالشَّعِيرُ، فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا كَانَ لَهُ الْيَسَارُ أَكَلَ الْبُرَّ، فَقَدِمَ طَعَامٌ مِنَ الشَّامِ، فَابْتَاعَ عَمِّي رِفَاعَةُ بْنُ زَيْدٍ حِمْلًا مِنَ الدَّرْمَكِ، فَجَعَلَهُ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ، وَفِي الْمَشْرُبَةِ سِلَاحٌ لَهُ دِرْعَانِ وَسَيْفَاهُمَا، وَمَا يُعَلِّمُهُمَا، فَعُدِّيَ عَلَيْهِ مِنْ تَحْتِ اللَّيْلِ، وَنُقِبَتِ الْمَشْرُبَةُ، وَأُخِذَ الطَّعَامُ وَالسِّلَاحُ، فَأَتَانِي عَمِّي رِفَاعَةُ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي تَعْلَمُ أَنَّهُ عُدِّيَ عَلَيْنَا فِي لَيْلَتِنَا هَذِهِ، فَنُقِبَتِ الْمَشْرُبَةُ، فَذُهِبَ بِطَعَامِنَا وَسِلَاحِنَا، فَتَحَسَّسْنَا فِي الدَّارِ وَسَأَلْنَا، فَقِيلَ: قَدْ رَأَيْنَا بَنِي أُبَيْرِقٍ، وَاسْتَوْقَدُوا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ، وَمَا نَرَى فِيمَا نَرَى إِلَّا أَنَّهُ عَلَى بَعْضِ طَعَامِكُمْ، وَقَدْ كَانَ يَقُولُ بَنُو أُبَيْرِقٍ وَنَحْنُ نَسْأَلُ فِي الدَّارِ: وَاللهِ مَا نَرَى صَاحِبَكُمْ إِلَا لَبِيدَ بْنَ سَهْلٍ، رَجُلٌ مِنَّا لَهُ صَلَاحٌ وَإِسْلَامٌ، فَلَمَّا سَمِعَ بِذَلِكَ لَبِيدٌ اخْتَرَطَ سَيْفَهُ، وَقَالَ: أَنَا أَسْرِقُ، وَاللهِ لَيُخَالِطَنَّكُمْ هَذَا السَّيْفُ أَوْ لَتُبَيِّنُنَّ هَذِهِ السَّرِقَةَ، قَالُوا: إِلَيْكَ عَنَّا أَيُّهَا الرَّجُلُ، وَاللهِ مَا أَنْتَ بِصَاحِبِهَا، فَسَأَلْنَا فِي الدَّارِ حَتَّى لَمْ يُشَكَّ أَنَّهُمْ أَصْحَابُهَا، فَقَالَ لِي عَمِّي: يَا ابْنَ أَخِي لَوْ أَتَيْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتَ ذَلِكَ لَهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَّا أَهْلَ جَفَاءٍ، عَمَدُوا إِلَى عَمِّي رِفَاعَةَ بْنِ زَيْدٍ فَنَقَبُوا مَشْرُبَةً لَهُ، وَأَخَذُوا سِلَاحَهُ وَطَعَامَهُ، فَلْيَرْدُدْ إِلَيْنَا سِلَاحَنَا، أَمَا الطَّعَامُ فَلَا حَاجَةَ لَنَا بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَأَنْظُرُ فِي ذَلِكَ» ، فَلَمَّا سَمِعَ بِذَلِكَ بَنُو أُبَيْرِقٍ أَتَوْا رَجُلًا مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ: أُسَيْدُ بْنُ عُرْوَةَ، وَكَلَّمُوهُ فِي ذَلِكَ، وَاجْتَمَعَ لَهُ ثَلَاثُونَ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ، فَأَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ: إِنَّ قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ وَعَمَّهُ عَمَدَا إِلَى أَهْلِ بَيْتٍ مِنَّا أَهْلِ إِسْلَامٍ وَصَلَاحٍ يَرْمُونَهُمْ بِالسَّرِقَةِ مِنْ غَيْرِ بَيِّنَةٍ، وَلَا ثَبْتٍ، قَالَ قَتَادَةُ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَلَّمَتْهُ، فَقَالَ: «أَعَمَدْتُمْ إِلَى قَوْمٍ ذُكِرَ مِنْهُمْ إِسْلَامٌ وَصَلَاحٌ تَرْمُونَهُمْ بِالسَّرِقَةِ؟» ، فَرَجَعْتُ وَلَوَدِدْتُ أَنِّي خَرَجْتُ مِنْ بَعْضِ مَالِي وَلَمْ أُكَلِّمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَأَتَانِي عَمِّي رِفَاعَة، فَقَالَ: ابْنَ أَخِي مَا صَنَعْتَ؟، فَأَخْبَرْتُهُ مَا قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اللهُ الْمُسْتَعَانُ، فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ نَزَلَ الْقُرْآنُ: {إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللهُ وَلَا تَكُنْ لِلْخَائِنِينَ خَصِيمًا} [النساء: ١٠٥] ، بَنِي أُبَيْرِقٍ، {وَاسْتَغْفَرِ اللهَ} [النساء: ١٠٦] ، أَيْ مِمَّا قُلْتَ لِقَتَادَةَ، {إِنَّ اللهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِينَ يَخْتَانُونَ أَنْفُسَهُمْ} [النساء: ١٠٧] ، بَنِي أُبَيْرِقٍ، {إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا أَثِيمًا يَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُونَ مِنَ اللهِ، وَهُوَ مَعَهُمْ إِذْ يُبَيَّتُونَ مَا لَا يَرْضَى مِنَ الْقَوْلِ، وَكَانَ اللهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطًا هَا أَنْتُمْ هَؤُلَاءِ جَادَلْتُمْ عَنْهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَمَنْ يُجَادِلُ اللهَ عَنْهُمْ} ، الْآيَةُ إِلَى قَوْلِهِ: {غَفُورًا رَحِيمًا} [النساء: ٢٣] ، أَيْ لَوْ أَنَّهُمُ اسْتَغْفَرُوا اللهَ لَغَفَرَ لَهُمْ، {وَمَنْ يَكْسِبْ إِثْمًا} [النساء: ١١١] فَإِنَّمَا يَكْسِبُهُ عَلَى نَفْسِهِ وَكَانَ اللهُ عَلِيمًا حَكِيمًا وَمَنْ يَكْسِبْ خَطِيئَةً أَوْ إِثْمًا ثُمَّ يَرْمِ بِهِ بَرِيئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا، قَوْلُهُمْ لِلَبِيدٍ، {وَلَوْلَا فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ لَهَمَّتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَضُرُّونَكَ مِنْ شَيْءٍ} [النساء: ١١٣] ، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَلَمَّا نَزَلَ الْقُرْآنُ أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسِّلَاحِ، فَرَدُّهُ إِلَى رِفَاعَةَ. قَالَ قَتَادَةُ: فَلَمَّا أَتَيْتُ عَمِّيَ بِالسِّلَاحِ، وَكَانَ شَيْخًا قَدْ عَمِيَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكُنْتُ أَرَى إِسْلَامَهُ مَدْخُولًا، فَلَمَّا أَتَيْتُهُ بِالسِّلَاحِ، قَالَ: ابْنَ أَخِي هُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ، فَعَرَفْتُ أَنَّ إِسْلَامَهُ كَانَ صَحِيحًا، فَلَمَّا نَزَلَ الْقُرْآنُ لَحِقَ بَشِيرٌ بِالْمُشْرِكِينَ، فَنَزَلَ عَلَى سُلَافَةَ بِنْتِ سَعِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ فَأَنْزَلَ اللهُ فِيهِ {وَمَنْ يُشَاقِقِ} [النساء: ١١٥] الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعَ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا، إِنَّ اللهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا، فَلَمَّا نَزَلَ عَلَى سُلَافَةَ بِنْتِ سَعِيدٍ رَمَاهَا بِأَبْيَاتِ شَعَرٍ، أَخَذَتْ رَحْلَهُ فَوَضَعَتْهُ عَلَى رَأْسِهَا، ثُمَّ خَرَجَتْ بِهِ فَرَمَتْ بِهِ الْأَبْطَحَ، وَأَنَّهُ نَفَتَ عَلَى قَوْمٍ مِنْهُمْ لِيَسْرِقَ مَتَاعَهُمْ فَأَلْقَى الله عَلَيْهِ صَخْرَةً، فَكَانَتْ قَبْرَهُ
ترجمہ
...اور انہوں نے اس کا ہتھیار اور کھانا لے لیا، تو وہ ہمارا ہتھیار ہمیں واپس کر دے، رہا کھانا تو ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس بارے میں غور کروں گا۔“ جب بنو اُبَیرِق کو اس کی خبر ہوئی تو وہ اپنے میں سے ایک شخص کے پاس آئے جسے اسید بن عروہ کہا جاتا تھا اور اس سے اس بارے میں بات کی، اور اس کے ساتھ گھر والوں میں سے تیس آدمی جمع ہو گئے، وہ سب رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: یا رسول اللہ! قتادہ بن نعمان اور ان کے چچا نے ہمارے ایک ایسے گھرانے کا رخ کیا ہے جو ہم میں سے مسلمان اور نیک لوگوں کا گھرانہ ہے، اور انہیں بغیر کسی ثبوت اور دلیل کے چوری کا الزام دیتے ہیں۔ قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اور آپ ﷺ سے یہ بات کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم ایسے لوگوں کا رخ کرتے ہو جن کا اسلام اور نیکی مشہور ہے اور انہیں چوری کا الزام دیتے ہو؟“ تو میں واپس آ گیا اور دل میں چاہا کہ کاش میں اپنے کچھ مال سے دستبردار ہو جاتا اور رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں بات ہی نہ کرتا۔ پھر میرے چچا رفاعہ رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہا: بھتیجے! تم نے کیا کیا؟ تو میں نے انہیں وہ بات بتائی جو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمائی تھی، تو انہوں نے کہا: اللہ ہی سے مدد مانگی جائے۔ ابھی زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ قرآن نازل ہوا: ”بےشک ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ کتاب نازل کی ہے تاکہ آپ لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے آپ کو دکھایا، اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنیں“ [سورۃ النساء: 105] - یعنی بنو اُبَیرِق کی طرف سے - ”اور اللہ سے بخشش مانگیے“ [سورۃ النساء: 106] - یعنی قتادہ سے جو کچھ کہا اس کی معافی مانگیے - ”بےشک اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے، اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑیے جو اپنے آپ سے خیانت کرتے ہیں“ [سورۃ النساء: 107] - یعنی بنو اُبَیرِق - ”بےشک اللہ اسے پسند نہیں کرتا جو بہت خیانت کرنے والا، گناہ گار ہو، وہ لوگوں سے چھپتے ہیں مگر اللہ سے نہیں چھپ سکتے، جبکہ وہ ان کے ساتھ ہے جب وہ راتوں کو ایسی بات پر مشورہ کرتے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں، اور اللہ ان کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ دیکھو، تم لوگ ہو جنہوں نے دنیا کی زندگی میں ان کی طرف سے جھگڑا کیا، تو قیامت کے دن ان کی طرف سے اللہ سے کون جھگڑے گا؟“ - آیت سے لے کر ”بخشنے والا، رحم کرنے والا“ کے الفاظ تک [سورۃ النساء: 23، متن میں یوں ہی درج ہے] - یعنی اگر وہ اللہ سے بخشش مانگتے تو وہ انہیں بخش دیتا - ”اور جو شخص کوئی گناہ کمائے تو وہ اسے اپنے ہی خلاف کماتا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا، حکمت والا ہے“ [سورۃ النساء: 111]، ”اور جو شخص کوئی خطا یا گناہ کمائے پھر اسے کسی بے گناہ پر ڈال دے، تو اس نے بہتان اور کھلا گناہ اٹھا لیا“ - یہ (چوری کی تہمت) انہوں نے لبید پر ڈالی تھی - ”اور اگر آپ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ان میں سے ایک گروہ نے آپ کو گمراہ کرنے کا ارادہ کر لیا تھا، حالانکہ وہ صرف اپنے آپ کو گمراہ کرتے ہیں اور آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے“ [سورۃ النساء: 113] آیت کے آخر تک۔ جب قرآن نازل ہوا تو رسول اللہ ﷺ کے پاس ہتھیار لایا گیا اور آپ ﷺ نے اسے رفاعہ رضی اللہ عنہ کو واپس کر دیا۔ قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب میں اپنے چچا کے پاس ہتھیار لے کر آیا - وہ ایک بوڑھے آدمی تھے جو زمانہ جاہلیت میں نابینا ہو گئے تھے، اور میں ان کے اسلام کو مشکوک سمجھتا تھا - تو جب میں ان کے پاس ہتھیار لے کر آیا تو انہوں نے کہا: بھتیجے! یہ اللہ کی راہ میں (وقف) ہے، تو مجھے معلوم ہو گیا کہ ان کا اسلام سچا تھا۔ جب قرآن نازل ہوا تو بشیر مشرکوں سے جا ملا اور سلافہ بنت سعید بن سہیل کے پاس جا ٹھہرا، تو اللہ نے اس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: ”اور جو شخص رسول کی مخالفت کرے، بعد اس کے کہ اس پر ہدایت واضح ہو چکی ہو، اور مومنوں کے راستے کے سوا کسی اور راستے پر چلے، تو ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جس طرف وہ خود متوجہ ہوا، اور اسے جہنم میں داخل کریں گے، اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔ بےشک اللہ یہ نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک ٹھہرایا جائے، اور اس کے علاوہ جسے چاہے بخش دے گا، اور جو شخص اللہ کا شریک ٹھہرائے وہ دور کی گمراہی میں جا پڑا“ [سورۃ النساء: 115]۔ جب وہ سلافہ بنت سعید کے پاس ٹھہرا تو اس پر (ہجو کے) اشعار کہے، تو اس نے اس کا سامان اٹھا کر اپنے سر پر رکھا اور اسے لے جا کر ابطح میں پھینک دیا، اور وہ کسی قوم پر (چوری کے ارادے سے) گیا تاکہ ان کا سامان چرائے، تو اللہ نے اس پر ایک چٹان گرا دی، جو اس کی قبر بن گئی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ أَيُّوبَ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحَرِيشِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ،: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَسْفِرُوا بِالصُّبْحِ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ»
ترجمہ
سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”فجر کی نماز خوب اجالا ہونے پر پڑھا کرو، کیونکہ یہ اجر میں زیادہ ہے۔“