المعجم الكبير للطبراني
باب القاف— حرف قاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمر بن قتادة بن النعمان، عن أبيه باب: عمر بن قتادہ بن نعمان کی اپنے والد سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ حَمَّادٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ: «مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّيْفَ بِحَقِّهِ؟» ، فَقَامَ عَلِيٌّ، فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «اقْعُدْ» ، فَقَعَدَ، ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ: «مَنْ يَأْخُذُ هَذَا السَّيْفَ بِحَقِّهِ؟» ، فَقَامَ أَبُو دُجَانَةَ الثَّانِيَةَ، فَدَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ سَيْفَهُ ذَا الْفَقَارِ، فَقَامَ أَبُو دُجَانَةَ فَرَبَطَ عَلَى عَيْنَيْهِ عِصَابَةً حَمْرَاءَ، فَرَفَعَ حَاجِبَيْهِ عَنْ عَيْنَيْهِ مِنَ الْكِبْرِ، ثُمَّ مَشَى بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّيْفِسیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ احد کے دن فرمایا: ”کون ہے جو اس تلوار کا حق ادا کرتے ہوئے اسے لے؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ۔“ تو وہ بیٹھ گئے۔ پھر آپ ﷺ نے دوبارہ فرمایا: ”کون ہے جو اس تلوار کا حق ادا کرتے ہوئے اسے لے؟“ تو دوسری بار سیدنا ابودجانہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی تلوار ذوالفقار انہیں دے دی۔ سیدنا ابودجانہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، اپنے سر پر ایک سرخ پٹی باندھی، اور غرور (جنگی جوش) سے اپنی بھنویں اپنی آنکھوں کے اوپر اٹھا لیں، پھر تلوار لیے رسول اللہ ﷺ کے آگے آگے چلنے لگے۔