المعجم الكبير للطبراني
باب القاف— حرف قاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمر بن قتادة بن النعمان، عن أبيه باب: عمر بن قتادہ بن نعمان کی اپنے والد سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي شُعَيْبٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ: كَانَ أَهْلُ بَيْتٍ يُقَالُ لَهُمْ بَنُو أُبَيْرِقَ، بِشْرٌ، وَبَشِيرٌ، وَمُبَشِّرٌ، وَكَانَ بَشِيرٌ رَجُلًا مُنَافِقًا، وَكَانَ يَقُولُ الشَّعْرَ يَهْجُو بِهِ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَنْحَلُهُ لِبَعْضِ الْعَرَبِ، وَيَقُولُ: قَالَ فُلَانٌ كَذَا، وَقَالَ فُلَانٌ كَذَا، فَإِذَا سَمِعَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ الشَّعْرِ، قَالُوا: وَاللهِ مَا يَقُولُ هَذَا الشَّعْرَ إِلَّا الْخَبِيثُ، فَقَالَ: أَوَكُلَّمَا قَالَ الرَّجُلُ قَصِيَدةً قَالُوا: ابْنُ أُبَيْرِقٍ قَالَهَا، وَكَانُوا أَهْلَ بَيْتِ فَاقَةٍ وَحَاجَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالْإِسْلَامِ، وَكَانَ النَّاسُ إِنَّمَا طَعَامُهُمْ بِالْمَدِينَةِ التَّمْرُ وَالشَّعِيرُ، فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا كَانَ لَهُ الْيَسَارُ أَكَلَ الْبُرَّ، فَقَدِمَ طَعَامٌ مِنَ الشَّامِ، فَابْتَاعَ عَمِّي رِفَاعَةُ بْنُ زَيْدٍ حِمْلًا مِنَ الدَّرْمَكِ، فَجَعَلَهُ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ، وَفِي الْمَشْرُبَةِ سِلَاحٌ لَهُ دِرْعَانِ وَسَيْفَاهُمَا، وَمَا يُعَلِّمُهُمَا، فَعُدِّيَ عَلَيْهِ مِنْ تَحْتِ اللَّيْلِ، وَنُقِبَتِ الْمَشْرُبَةُ، وَأُخِذَ الطَّعَامُ وَالسِّلَاحُ، فَأَتَانِي عَمِّي رِفَاعَةُ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي تَعْلَمُ أَنَّهُ عُدِّيَ عَلَيْنَا فِي لَيْلَتِنَا هَذِهِ، فَنُقِبَتِ الْمَشْرُبَةُ، فَذُهِبَ بِطَعَامِنَا وَسِلَاحِنَا، فَتَحَسَّسْنَا فِي الدَّارِ وَسَأَلْنَا، فَقِيلَ: قَدْ رَأَيْنَا بَنِي أُبَيْرِقٍ، وَاسْتَوْقَدُوا فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ، وَمَا نَرَى فِيمَا نَرَى إِلَّا أَنَّهُ عَلَى بَعْضِ طَعَامِكُمْ، وَقَدْ كَانَ يَقُولُ بَنُو أُبَيْرِقٍ وَنَحْنُ نَسْأَلُ فِي الدَّارِ: وَاللهِ مَا نَرَى صَاحِبَكُمْ إِلَا لَبِيدَ بْنَ سَهْلٍ، رَجُلٌ مِنَّا لَهُ صَلَاحٌ وَإِسْلَامٌ، فَلَمَّا سَمِعَ بِذَلِكَ لَبِيدٌ اخْتَرَطَ سَيْفَهُ، وَقَالَ: أَنَا أَسْرِقُ، وَاللهِ لَيُخَالِطَنَّكُمْ هَذَا السَّيْفُ أَوْ لَتُبَيِّنُنَّ هَذِهِ السَّرِقَةَ، قَالُوا: إِلَيْكَ عَنَّا أَيُّهَا الرَّجُلُ، وَاللهِ مَا أَنْتَ بِصَاحِبِهَا، فَسَأَلْنَا فِي الدَّارِ حَتَّى لَمْ يُشَكَّ أَنَّهُمْ أَصْحَابُهَا، فَقَالَ لِي عَمِّي: يَا ابْنَ أَخِي لَوْ أَتَيْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتَ ذَلِكَ لَهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَّا أَهْلَ جَفَاءٍ، عَمَدُوا إِلَى عَمِّي رِفَاعَةَ بْنِ زَيْدٍ فَنَقَبُوا مَشْرُبَةً لَهُ، وَأَخَذُوا سِلَاحَهُ وَطَعَامَهُ، فَلْيَرْدُدْ إِلَيْنَا سِلَاحَنَا، أَمَا الطَّعَامُ فَلَا حَاجَةَ لَنَا بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَأَنْظُرُ فِي ذَلِكَ» ، فَلَمَّا سَمِعَ بِذَلِكَ بَنُو أُبَيْرِقٍ أَتَوْا رَجُلًا مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ: أُسَيْدُ بْنُ عُرْوَةَ، وَكَلَّمُوهُ فِي ذَلِكَ، وَاجْتَمَعَ لَهُ ثَلَاثُونَ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ، فَأَتَوْا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ: إِنَّ قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ وَعَمَّهُ عَمَدَا إِلَى أَهْلِ بَيْتٍ مِنَّا أَهْلِ إِسْلَامٍ وَصَلَاحٍ يَرْمُونَهُمْ بِالسَّرِقَةِ مِنْ غَيْرِ بَيِّنَةٍ، وَلَا ثَبْتٍ، قَالَ قَتَادَةُ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَلَّمَتْهُ، فَقَالَ: «أَعَمَدْتُمْ إِلَى قَوْمٍ ذُكِرَ مِنْهُمْ إِسْلَامٌ وَصَلَاحٌ تَرْمُونَهُمْ بِالسَّرِقَةِ؟» ، فَرَجَعْتُ وَلَوَدِدْتُ أَنِّي خَرَجْتُ مِنْ بَعْضِ مَالِي وَلَمْ أُكَلِّمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَأَتَانِي عَمِّي رِفَاعَة، فَقَالَ: ابْنَ أَخِي مَا صَنَعْتَ؟، فَأَخْبَرْتُهُ مَا قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اللهُ الْمُسْتَعَانُ، فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ نَزَلَ الْقُرْآنُ: {إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللهُ وَلَا تَكُنْ لِلْخَائِنِينَ خَصِيمًا} [النساء: ١٠٥] ، بَنِي أُبَيْرِقٍ، {وَاسْتَغْفَرِ اللهَ} [النساء: ١٠٦] ، أَيْ مِمَّا قُلْتَ لِقَتَادَةَ، {إِنَّ اللهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِينَ يَخْتَانُونَ أَنْفُسَهُمْ} [النساء: ١٠٧] ، بَنِي أُبَيْرِقٍ، {إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا أَثِيمًا يَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُونَ مِنَ اللهِ، وَهُوَ مَعَهُمْ إِذْ يُبَيَّتُونَ مَا لَا يَرْضَى مِنَ الْقَوْلِ، وَكَانَ اللهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطًا هَا أَنْتُمْ هَؤُلَاءِ جَادَلْتُمْ عَنْهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَمَنْ يُجَادِلُ اللهَ عَنْهُمْ} ، الْآيَةُ إِلَى قَوْلِهِ: {غَفُورًا رَحِيمًا} [النساء: ٢٣] ، أَيْ لَوْ أَنَّهُمُ اسْتَغْفَرُوا اللهَ لَغَفَرَ لَهُمْ، {وَمَنْ يَكْسِبْ إِثْمًا} [النساء: ١١١] فَإِنَّمَا يَكْسِبُهُ عَلَى نَفْسِهِ وَكَانَ اللهُ عَلِيمًا حَكِيمًا وَمَنْ يَكْسِبْ خَطِيئَةً أَوْ إِثْمًا ثُمَّ يَرْمِ بِهِ بَرِيئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا، قَوْلُهُمْ لِلَبِيدٍ، {وَلَوْلَا فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ لَهَمَّتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَضُرُّونَكَ مِنْ شَيْءٍ} [النساء: ١١٣] ، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَلَمَّا نَزَلَ الْقُرْآنُ أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسِّلَاحِ، فَرَدُّهُ إِلَى رِفَاعَةَ. قَالَ قَتَادَةُ: فَلَمَّا أَتَيْتُ عَمِّيَ بِالسِّلَاحِ، وَكَانَ شَيْخًا قَدْ عَمِيَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكُنْتُ أَرَى إِسْلَامَهُ مَدْخُولًا، فَلَمَّا أَتَيْتُهُ بِالسِّلَاحِ، قَالَ: ابْنَ أَخِي هُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ، فَعَرَفْتُ أَنَّ إِسْلَامَهُ كَانَ صَحِيحًا، فَلَمَّا نَزَلَ الْقُرْآنُ لَحِقَ بَشِيرٌ بِالْمُشْرِكِينَ، فَنَزَلَ عَلَى سُلَافَةَ بِنْتِ سَعِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ فَأَنْزَلَ اللهُ فِيهِ {وَمَنْ يُشَاقِقِ} [النساء: ١١٥] الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعَ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا، إِنَّ اللهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا، فَلَمَّا نَزَلَ عَلَى سُلَافَةَ بِنْتِ سَعِيدٍ رَمَاهَا بِأَبْيَاتِ شَعَرٍ، أَخَذَتْ رَحْلَهُ فَوَضَعَتْهُ عَلَى رَأْسِهَا، ثُمَّ خَرَجَتْ بِهِ فَرَمَتْ بِهِ الْأَبْطَحَ، وَأَنَّهُ نَفَتَ عَلَى قَوْمٍ مِنْهُمْ لِيَسْرِقَ مَتَاعَهُمْ فَأَلْقَى الله عَلَيْهِ صَخْرَةً، فَكَانَتْ قَبْرَهُ...اور انہوں نے اس کا ہتھیار اور کھانا لے لیا، تو وہ ہمارا ہتھیار ہمیں واپس کر دے، رہا کھانا تو ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس بارے میں غور کروں گا۔“ جب بنو اُبَیرِق کو اس کی خبر ہوئی تو وہ اپنے میں سے ایک شخص کے پاس آئے جسے اسید بن عروہ کہا جاتا تھا اور اس سے اس بارے میں بات کی، اور اس کے ساتھ گھر والوں میں سے تیس آدمی جمع ہو گئے، وہ سب رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: یا رسول اللہ! قتادہ بن نعمان اور ان کے چچا نے ہمارے ایک ایسے گھرانے کا رخ کیا ہے جو ہم میں سے مسلمان اور نیک لوگوں کا گھرانہ ہے، اور انہیں بغیر کسی ثبوت اور دلیل کے چوری کا الزام دیتے ہیں۔ قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اور آپ ﷺ سے یہ بات کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم ایسے لوگوں کا رخ کرتے ہو جن کا اسلام اور نیکی مشہور ہے اور انہیں چوری کا الزام دیتے ہو؟“ تو میں واپس آ گیا اور دل میں چاہا کہ کاش میں اپنے کچھ مال سے دستبردار ہو جاتا اور رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں بات ہی نہ کرتا۔ پھر میرے چچا رفاعہ رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہا: بھتیجے! تم نے کیا کیا؟ تو میں نے انہیں وہ بات بتائی جو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمائی تھی، تو انہوں نے کہا: اللہ ہی سے مدد مانگی جائے۔ ابھی زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ قرآن نازل ہوا: ”بےشک ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ کتاب نازل کی ہے تاکہ آپ لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے آپ کو دکھایا، اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنیں“ [سورۃ النساء: 105] - یعنی بنو اُبَیرِق کی طرف سے - ”اور اللہ سے بخشش مانگیے“ [سورۃ النساء: 106] - یعنی قتادہ سے جو کچھ کہا اس کی معافی مانگیے - ”بےشک اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے، اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑیے جو اپنے آپ سے خیانت کرتے ہیں“ [سورۃ النساء: 107] - یعنی بنو اُبَیرِق - ”بےشک اللہ اسے پسند نہیں کرتا جو بہت خیانت کرنے والا، گناہ گار ہو، وہ لوگوں سے چھپتے ہیں مگر اللہ سے نہیں چھپ سکتے، جبکہ وہ ان کے ساتھ ہے جب وہ راتوں کو ایسی بات پر مشورہ کرتے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں، اور اللہ ان کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ دیکھو، تم لوگ ہو جنہوں نے دنیا کی زندگی میں ان کی طرف سے جھگڑا کیا، تو قیامت کے دن ان کی طرف سے اللہ سے کون جھگڑے گا؟“ - آیت سے لے کر ”بخشنے والا، رحم کرنے والا“ کے الفاظ تک [سورۃ النساء: 23، متن میں یوں ہی درج ہے] - یعنی اگر وہ اللہ سے بخشش مانگتے تو وہ انہیں بخش دیتا - ”اور جو شخص کوئی گناہ کمائے تو وہ اسے اپنے ہی خلاف کماتا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا، حکمت والا ہے“ [سورۃ النساء: 111]، ”اور جو شخص کوئی خطا یا گناہ کمائے پھر اسے کسی بے گناہ پر ڈال دے، تو اس نے بہتان اور کھلا گناہ اٹھا لیا“ - یہ (چوری کی تہمت) انہوں نے لبید پر ڈالی تھی - ”اور اگر آپ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ان میں سے ایک گروہ نے آپ کو گمراہ کرنے کا ارادہ کر لیا تھا، حالانکہ وہ صرف اپنے آپ کو گمراہ کرتے ہیں اور آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے“ [سورۃ النساء: 113] آیت کے آخر تک۔ جب قرآن نازل ہوا تو رسول اللہ ﷺ کے پاس ہتھیار لایا گیا اور آپ ﷺ نے اسے رفاعہ رضی اللہ عنہ کو واپس کر دیا۔ قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب میں اپنے چچا کے پاس ہتھیار لے کر آیا - وہ ایک بوڑھے آدمی تھے جو زمانہ جاہلیت میں نابینا ہو گئے تھے، اور میں ان کے اسلام کو مشکوک سمجھتا تھا - تو جب میں ان کے پاس ہتھیار لے کر آیا تو انہوں نے کہا: بھتیجے! یہ اللہ کی راہ میں (وقف) ہے، تو مجھے معلوم ہو گیا کہ ان کا اسلام سچا تھا۔ جب قرآن نازل ہوا تو بشیر مشرکوں سے جا ملا اور سلافہ بنت سعید بن سہیل کے پاس جا ٹھہرا، تو اللہ نے اس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: ”اور جو شخص رسول کی مخالفت کرے، بعد اس کے کہ اس پر ہدایت واضح ہو چکی ہو، اور مومنوں کے راستے کے سوا کسی اور راستے پر چلے، تو ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جس طرف وہ خود متوجہ ہوا، اور اسے جہنم میں داخل کریں گے، اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔ بےشک اللہ یہ نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک ٹھہرایا جائے، اور اس کے علاوہ جسے چاہے بخش دے گا، اور جو شخص اللہ کا شریک ٹھہرائے وہ دور کی گمراہی میں جا پڑا“ [سورۃ النساء: 115]۔ جب وہ سلافہ بنت سعید کے پاس ٹھہرا تو اس پر (ہجو کے) اشعار کہے، تو اس نے اس کا سامان اٹھا کر اپنے سر پر رکھا اور اسے لے جا کر ابطح میں پھینک دیا، اور وہ کسی قوم پر (چوری کے ارادے سے) گیا تاکہ ان کا سامان چرائے، تو اللہ نے اس پر ایک چٹان گرا دی، جو اس کی قبر بن گئی۔