المعجم الكبير للطبراني
باب القاف— حرف قاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمر بن قتادة بن النعمان، عن أبيه باب: عمر بن قتادہ بن نعمان کی اپنے والد سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ حَمَّادٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ: أُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْسٌ فَدَفَعَهَا إِلَيَّ يَوْمَ أُحُدٍ، فَرَمَيْتُ بِهَا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْدَقَّتْ عَنْ سِنَّتِهَا، وَلَمْ أَزَلْ عَنْ مَقَامِي نَصْبَ وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْقَى السِّهَامَ بِوَجْهِي، كُلَّمَا مَالَ سَهْمٌ مِنْهَا إِلَى وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيَّلْتُ رَأْسِي لِأَقِيَ وَجْهَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَا رَمْيٍ أَرْمِيَهِ، فَكَانَ آخِرُهَا سَهْمًا بَدَرَتْ مِنْهُ حَدَقَتِي عَلَى خَدِّي، وَتَفَرَّقَ الْجَمْعُ فَأَخَذْتُ حَدَقَتِي بِكَفِّي، فَسَعَيْتُ بِهَا فِي كَفِّي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كَفِّي دَمَعَتْ عَيْنَاهُ، فَقَالَ: «اللهُمَّ إِنَّ قَتَادَةَ قَدْ أَوْجَهَ نَبِيَّكَ بِوَجْهِهِ، فَاجْعَلْهَا أَحْسَنَ عَيْنَيْهِ وَأَحَدَّهُمَا نَظَرًا» ، فَكَانَتْ أَحْسَنَ عَيْنَيْهِ وَأَحَدَّهُمَا نَظَرًاسیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک کمان ہدیہ میں دی گئی تو آپ ﷺ نے غزوہ احد کے دن وہ مجھے دے دی، میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس سے تیر چلائے یہاں تک کہ وہ اپنے سرے سے ٹوٹ گئی، اور میں رسول اللہ ﷺ کے چہرے کے سامنے اپنی جگہ پر ڈٹا رہا، تیروں کو اپنے چہرے پر روکتا رہا، جب بھی کوئی تیر رسول اللہ ﷺ کے چہرے کی طرف مڑتا تو میں اپنا سر اس کی طرف جھکا دیتا تاکہ رسول اللہ ﷺ کے چہرے کو بچاؤں، جبکہ میرے پاس چلانے کو کوئی تیر نہ تھا۔ ان میں آخری ایک تیر تھا جس سے میری آنکھ کا ڈھیلا نکل کر میرے رخسار پر آ گرا، اور مجمع منتشر ہو گیا تو میں نے اپنی آنکھ کا ڈھیلا اپنی ہتھیلی پر رکھا اور اسے ہتھیلی میں لیے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے پاس دوڑا، جب رسول اللہ ﷺ نے اسے میری ہتھیلی میں دیکھا تو آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! قتادہ نے اپنے چہرے سے تیرے نبی کے چہرے کی حفاظت کی ہے، اسے اس کی دونوں آنکھوں میں سب سے اچھی اور سب سے تیز نظر والی بنا دے۔“ چنانچہ وہ اس کی دونوں آنکھوں میں سب سے اچھی اور سب سے تیز نظر والی بن گئی۔