حدیث نمبر: 16059
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ: كَانَتْ لَيْلَةٌ شَدِيدَةُ الظُّلْمَةِ وَالْمَطَرِ، فَقُلْتُ: لَوْ أَنِّي اغْتَنَمْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ شُهُودَ الْعَتَمَةِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفَعَلْتُ فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَنِي وَمَعَهُ عُرْجُونٌ يَمْشِي عَلَيْهِ، فَقَالَ: «مَا لَكَ يَا قَتَادَةُ هَهُنَا هَذِهِ السَّاعَةَ؟» ، قُلْتُ: اغْتَنَمْتُ شُهُودَ الصَّلَاةِ مَعَكَ يَا رَسُولَ اللهُ، فَأَعْطَانِيَ الْعُرْجُونَ، فَقَالَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ خَلْفَكَ فِي أَهْلِكَ، فَاذْهَبْ بِهَذَا الْعُرْجُونِ، فَأَمْسَكْ بِهِ حَتَّى تَأْتِيَ بَيْتَكَ، فَخُذْهُ مِنْ وَرَاءِ الْبَيْتِ فَاضْرِبْهُ بِالْعُرْجُونِ» ، فَخَرَجْتُ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَأَضَاءَ الْعُرْجُونُ مِثْلَ الشَّمْعَةِ نُورًا فَاسْتَضَأْتُ بِهِ، فَأَتَيْتُ أَهْلِي فَوَجَدْتُهُمْ رُقُودًا، فَنَظَرْتُ فِي الزَّاوِيَةِ، فَإِذَا فِيهَا قُنْفُذٌ، فَلَمْ أَزَلْ أَضْرِبُهُ بِالْعُرْجُونِ حَتَّى خَرَجَ
ترجمہ

(میں نے چاہا) کہ اس رات نبی کریم ﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز میں حاضری کا موقع غنیمت جانوں، چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا۔ جب نبی کریم ﷺ نماز سے فارغ ہو کر واپس ہوئے تو مجھے دیکھا، آپ ﷺ کے ساتھ کھجور کی ایک ٹہنی (عرجون) تھی جس پر ٹیک لگائے چل رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے قتادہ! تم اس وقت یہاں کیوں ہو؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آپ کے ساتھ نماز میں حاضری کا موقع غنیمت جانا۔ تو آپ ﷺ نے مجھے وہ ٹہنی عطا فرمائی اور فرمایا: ”شیطان تمہارے پیچھے تمہارے گھر والوں میں (کچھ کرنے کے لیے) موجود ہے، یہ ٹہنی لے جاؤ اور اسے تھامے رکھو یہاں تک کہ اپنے گھر پہنچ جاؤ، پھر گھر کے پیچھے سے اسے پکڑو اور اس سے مارو۔“ چنانچہ میں مسجد سے نکلا تو وہ ٹہنی موم بتی کی طرح روشن ہو گئی، میں نے اس کی روشنی سے راستہ دیکھا، اپنے گھر پہنچا تو گھر والوں کو سوتا پایا، میں نے کونے میں دیکھا تو وہاں ایک خارپشت (کانٹے دار جانور) تھا، میں اسے اس ٹہنی سے مارتا رہا یہاں تک کہ وہ نکل گیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب القاف / حدیث: 16059
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 5، حدیث 9