حدیث نمبر: 16060
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ وَقَعَ فِي قُرَيْشٍ فَكَأَنَّهُ نَالَ مِنْهُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَهْلًا يَا قَتَادَةُ لَا تَسُبَّنَّ قُرَيْشًا، فَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يُرَى مِنْهُمْ رِجَالًا تَزْدَرِي عَمَلَكَ مَعَ أَعْمَالِهِمْ، وَفِعْلَكَ مَعَ أَفْعَالِهِمْ، لَوْلَا أَنْ تَطْغَى قُرَيْشٌ لَأَخْبَرْتُهَا بِمَا لَهَا عِنْدَ اللهِ»
ترجمہ

عاصم بن عمر بن قتادہ اپنے والد سے، وہ اپنے دادا سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے قریش کے بارے میں کچھ کہا، گویا انہیں برا بھلا کہا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ٹھہرو، اے قتادہ! قریش کو گالی نہ دو، عنقریب تم ان میں سے ایسے لوگ دیکھو گے جن کے اعمال کے سامنے تمہارے اعمال اور جن کے کاموں کے سامنے تمہارے کام حقیر معلوم ہوں گے۔ اگر مجھے یہ خدشہ نہ ہوتا کہ قریش سرکش ہو جائے گی تو میں انہیں بتا دیتا کہ اللہ کے ہاں ان کا کیا مقام ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب القاف / حدیث: 16060
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 19، صفحہ 6، حدیث 10