کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: سیدنا قیس بن سائب بن عائذ بن عبیداللہ بن عمر بن محروم رضی اللہ عنہ، جو زمانۂ جاہلیت میں نبی کریم ﷺ کے شریکِ کار تھے
❮
❯
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ نِزَارٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنِي مُجَاهِدُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ السَّائِبِ، يَقُولُ: «إِنَّ شَهْرَ رَمَضَانَ يَفْتَدِي بِهِ الْإِنْسَانُ، يُطْعِمُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ مِسْكِينًا، فَأَطْعِمُوا عَنِّي مِسْكِينًا لِكُلِّ يَوْمٍ صَاعًا، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِيكًا لِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَخَيْرُ شَرِيكٍ لَا يُمَارِي وَلَا يُسَارِي»
ترجمہ
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا قیس بن سائب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: رمضان کا مہینہ ایسا ہے کہ انسان اس کا فدیہ دے سکتا ہے، اس میں ہر دن ایک مسکین کو کھانا کھلائے، لہٰذا میری طرف سے ہر دن ایک صاع (اناج) مسکین کو کھلاؤ، اور رسول اللہ ﷺ زمانہ جاہلیت میں میرے شریک (کاروباری ساتھی) تھے، تو آپ ﷺ بہترین شریک تھے، نہ جھگڑتے تھے اور نہ دھوکہ دیتے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب القاف / حدیث: 16020
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 363، حدیث 929
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مِقْلَاصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّ قَيْسَ بْنَ السَّائِبِ كَبِرَ حَتَّى مَرَّتْ بِهِ سِتُّونَ عَلَى الْمِائَةِ وَضَعُفَ عَنِ الصِّيَامِ فَأَطْعَمَ عَنْهُ "
ترجمہ
مجاہد بیان کرتے ہیں کہ سیدنا قیس بن سائب رضی اللہ عنہ اتنے بوڑھے ہو گئے کہ ان کی عمر ایک سو ساٹھ برس سے تجاوز کر گئی اور وہ روزہ رکھنے سے کمزور ہو گئے، تو ان کی طرف سے کھانا کھلایا جاتا (فدیہ دیا جاتا) تھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب القاف / حدیث: 16021
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 363، حدیث 930
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ السَّرَّاجُ، ثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، ثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ، ثَنَا مُسْلِمٌ الْمُلَائِيُّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كُنْتُ أَقُودُ مَوْلَاي قَيْسَ بْنَ السَّائِبِ فَيَقُولُ: أَدْلَكَتِ الشَّمْسُ؟ فَإِذَا قُلْتُ: نَعَمْ، صَلَّى الظُّهْرَ وَيَقُولُ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ حَيَّةٌ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ وَالصَّائِمُ يَتَمَارَى أَنْ يُفْطِرَ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْفَجْرَ حِينَ يَتَغَشَّى النُّورُ السَّمَاءَ "
النَّابِغَةُ الْجَعْدِيُّ وَاسْمُهُ قَيْسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ وَيُكَنَّى أَبَا لَيْلَى
ترجمہ
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں اپنے آقا سیدنا قیس بن سائب رضی اللہ عنہ کو (راستہ دکھانے کے لیے) لے کر چلتا تھا، تو وہ پوچھتے: کیا سورج ڈھل گیا؟ جب میں کہتا: جی ہاں، تو وہ ظہر پڑھتے اور فرماتے: رسول اللہ ﷺ اسی طرح کیا کرتے تھے۔ اور نبی کریم ﷺ عصر اس وقت پڑھتے جب سورج سفید اور تیز ہوتا، اور مغرب اس وقت پڑھتے جب روزہ دار کو شک ہونے لگتا کہ افطار کا وقت ہوا بھی ہے یا نہیں (یعنی بہت جلدی پڑھتے)، اور فجر اس وقت پڑھتے جب روشنی آسمان پر پھیل جاتی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب القاف / حدیث: 16022
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 363، حدیث 931
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ الْجُمَحِيِّ، قَالَ: «أَبُو لَيْلَى نَابِغَةُ بَنِي جَعْدَةَ وَهُوَ قَيْسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ غَدِيرِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عُدُسِ بْنِ كَعْبِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ»
ترجمہ
محمد بن سلام جمحی بیان کرتے ہیں: ”ابولیلیٰ نابغہ بنی جعدہ رضی اللہ عنہ، اور ان کا نام قیس بن عبداللہ بن غدیر بن ربیعہ بن عدس بن کعب بن ربیعہ بن عامر بن صعصعہ تھا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب القاف / حدیث: 16023
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 364، حدیث 932
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ فَهْمٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثَنَا هَارُونُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ هَارُونَ البُهْرِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيه، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: " أَقْحَمَتِ السَّنَةُ نَابِغَةَ بَنِي جَعْدَةَ فَأَتَى عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَهُوَ جَالِسٌ بِالْمَدِينَةِ فَأَنْشَدَهُ فِي الْمَسْجِدِ:
[البحر الطويل]
حَكَيْتَ لَنَا الصِّدِّيقَ لَمَّا وَلِيتَنَا ... وَعُثْمَانَ وَالفَارُوقَ فَارْتَاحَ مُعْدَمُ
وَسَوَّيْتَ بَيْنَ النَّاسِ فِي الْحَقِّ فَاسْتَوُوا ... فَعَادَ صَبَاحًا حَالِكَ اللَّوْنِ مُظْلِمُ
أَتَاكَ أَبُو لَيْلَى تَجُوبُ بِهِ الدُّجَى ... دُجَى اللَّيْلِ جَوَّابُ الْفَلَاةِ عَتَمْتَمُ
لِتَجْبُرَ مِنْهُ جَانِبًا زَعْزَعَتْ بِهِ ... صُرُوفُ اللَّيَالِي وَالزَّمَانُ المُصَمِّمُ
فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: إِلَيْكَ أَبَا لَيْلَى فَإِنَّ الشِّعْرَ أَهْوَنُ وَسَائِلِكَ عِنْدَنَا، أَمَّا صَفْوَةُ مَالِنَا فِلِآلِ الزُّبَيْرِ، وَأَمَّا عَفْوَتُهُ فَإِنَّ بَنِي أَسَدٍ يَشْغَلُهَا عَنْكَ وَتَمِيمًا، وَلَكِنْ لَكَ فِي مَالِ اللهِ حَقَّانِ حَقٌّ لِرُؤْيَتِكَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَقٌّ لِشِرْكَتِكَ أَهْلِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَأُدْخِلَ دَارَ النِّعَمِ، وَأُمِرَ لَهُ بِقَلَائِصَ سَبْعٍ وَحَمَلٍ وَخَيْلٍ، وَأَوْقَرَ لَهُ الرِّكَابَ بُرًّا وَتَمْرًا، فَجَعَلَ النَّابِغَةُ يَسْتَعْجِلُ فَيَأْكُلُ الْحَبَّ صُفْرًا فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: وَيْحَ أَبِي لَيْلَى لَقَدْ بَلَغَ بِهِ الْجَهْدُ فَقَالَ النَّابِغَةُ " أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا وَلِيَتْ قُرَيْشٌ فَعَدَلَتْ، وَاسْتُرْحِمَتْ فَرَحِمَتْ، وَعَاهَدَتْ فَوَفَّتْ، وَوَعَدَتْ فَأَنْجَزَتْ إِلَّا كُنْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ فِرَاطَ القَاصِفِينَ»
ترجمہ
عبداللہ بن عروہ بن زبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ قحط سالی نابغہ بنی جعدہ رضی اللہ عنہ کو (شہر کی طرف) دھکیل لائی، تو وہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے جبکہ وہ مدینہ میں بیٹھے ہوئے تھے، اور مسجد میں انہیں یہ اشعار سنائے: (1) جب آپ ہمارے حاکم بنے تو آپ نے ہمیں صدیق، عثمان اور فاروق کی یاد دلا دی، تو نادار کو راحت ملی۔ (2) اور آپ نے حق میں لوگوں کے درمیان برابری کی تو وہ برابر ہو گئے، اور سیاہ تاریک (رات) صبح بن گئی۔ (3) آپ کے پاس ابولیلیٰ آیا ہے، اسے رات کی تاریکیوں کو چیرتی ہوئی، بیابانوں کو طے کرنے والی ایک مضبوط اونٹنی لے کر آئی ہے، (4) تاکہ آپ اس کے اس پہلو کو سنبھال دیں جسے راتوں کی گردشوں اور سخت زمانے نے ہلا ڈالا ہے۔ تو ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: ابولیلیٰ! رہنے دو، شعر ہمارے نزدیک تمہارے وسیلوں میں سب سے کم تر ہے۔ رہا ہمارا عمدہ مال تو وہ آلِ زبیر کے لیے ہے، اور رہا اس کا زائد حصہ تو بنو اسد اور بنو تمیم اسے تم سے روکے رکھتے ہیں، لیکن اللہ کے مال میں تمہارے دو حق ہیں: ایک حق رسول اللہ ﷺ کو دیکھنے کی وجہ سے، اور ایک حق اہلِ اسلام کے ساتھ شریک ہونے کی وجہ سے۔ پھر ان کے بارے میں حکم دیا تو انہیں دار النعم (جانوروں کے باڑے) میں لے جایا گیا، اور ان کے لیے سات جوان اونٹنیوں، ایک بار برداری کے جانور اور گھوڑوں کا حکم دیا گیا، اور ان کی سواریوں کو گندم اور کھجور سے لاد دیا گیا۔ پھر نابغہ رضی اللہ عنہ (بھوک کی شدت سے) جلدی جلدی کچے دانے کھانے لگے، تو ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: ابولیلیٰ پر افسوس، انہیں کتنی تکلیف پہنچی ہے! تو نابغہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جب بھی قریش نے حکومت کی اور انصاف کیا، ان سے رحم کی درخواست کی گئی تو رحم کیا، عہد کیا تو پورا کیا، اور وعدہ کیا تو پورا کیا، تو میں اور تمام انبیاء (روزِ قیامت) امڈتی ہوئی بھیڑ کے لیے (حوض پر) پیش رو ہوں گے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب القاف / حدیث: 16024
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 364، حدیث 933