المعجم الكبير للطبراني
باب القاف— حرف قاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
قيس بن السائب بن عائذ بن عبيد الله بن عمر بن محروم شريك النبي صلى الله عليه وسلم في الجاهلية باب: سیدنا قیس بن سائب بن عائذ بن عبیداللہ بن عمر بن محروم رضی اللہ عنہ، جو زمانۂ جاہلیت میں نبی کریم ﷺ کے شریکِ کار تھے
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ فَهْمٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثَنَا هَارُونُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ هَارُونَ البُهْرِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيه، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: " أَقْحَمَتِ السَّنَةُ نَابِغَةَ بَنِي جَعْدَةَ فَأَتَى عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَهُوَ جَالِسٌ بِالْمَدِينَةِ فَأَنْشَدَهُ فِي الْمَسْجِدِ:
[البحر الطويل]
حَكَيْتَ لَنَا الصِّدِّيقَ لَمَّا وَلِيتَنَا ... وَعُثْمَانَ وَالفَارُوقَ فَارْتَاحَ مُعْدَمُ
وَسَوَّيْتَ بَيْنَ النَّاسِ فِي الْحَقِّ فَاسْتَوُوا ... فَعَادَ صَبَاحًا حَالِكَ اللَّوْنِ مُظْلِمُ
أَتَاكَ أَبُو لَيْلَى تَجُوبُ بِهِ الدُّجَى ... دُجَى اللَّيْلِ جَوَّابُ الْفَلَاةِ عَتَمْتَمُ
لِتَجْبُرَ مِنْهُ جَانِبًا زَعْزَعَتْ بِهِ ... صُرُوفُ اللَّيَالِي وَالزَّمَانُ المُصَمِّمُ
فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: إِلَيْكَ أَبَا لَيْلَى فَإِنَّ الشِّعْرَ أَهْوَنُ وَسَائِلِكَ عِنْدَنَا، أَمَّا صَفْوَةُ مَالِنَا فِلِآلِ الزُّبَيْرِ، وَأَمَّا عَفْوَتُهُ فَإِنَّ بَنِي أَسَدٍ يَشْغَلُهَا عَنْكَ وَتَمِيمًا، وَلَكِنْ لَكَ فِي مَالِ اللهِ حَقَّانِ حَقٌّ لِرُؤْيَتِكَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَقٌّ لِشِرْكَتِكَ أَهْلِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَأُدْخِلَ دَارَ النِّعَمِ، وَأُمِرَ لَهُ بِقَلَائِصَ سَبْعٍ وَحَمَلٍ وَخَيْلٍ، وَأَوْقَرَ لَهُ الرِّكَابَ بُرًّا وَتَمْرًا، فَجَعَلَ النَّابِغَةُ يَسْتَعْجِلُ فَيَأْكُلُ الْحَبَّ صُفْرًا فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: وَيْحَ أَبِي لَيْلَى لَقَدْ بَلَغَ بِهِ الْجَهْدُ فَقَالَ النَّابِغَةُ " أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا وَلِيَتْ قُرَيْشٌ فَعَدَلَتْ، وَاسْتُرْحِمَتْ فَرَحِمَتْ، وَعَاهَدَتْ فَوَفَّتْ، وَوَعَدَتْ فَأَنْجَزَتْ إِلَّا كُنْتُ أَنَا وَالنَّبِيُّونَ فِرَاطَ القَاصِفِينَ»عبداللہ بن عروہ بن زبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ قحط سالی نابغہ بنی جعدہ رضی اللہ عنہ کو (شہر کی طرف) دھکیل لائی، تو وہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے جبکہ وہ مدینہ میں بیٹھے ہوئے تھے، اور مسجد میں انہیں یہ اشعار سنائے: (1) جب آپ ہمارے حاکم بنے تو آپ نے ہمیں صدیق، عثمان اور فاروق کی یاد دلا دی، تو نادار کو راحت ملی۔ (2) اور آپ نے حق میں لوگوں کے درمیان برابری کی تو وہ برابر ہو گئے، اور سیاہ تاریک (رات) صبح بن گئی۔ (3) آپ کے پاس ابولیلیٰ آیا ہے، اسے رات کی تاریکیوں کو چیرتی ہوئی، بیابانوں کو طے کرنے والی ایک مضبوط اونٹنی لے کر آئی ہے، (4) تاکہ آپ اس کے اس پہلو کو سنبھال دیں جسے راتوں کی گردشوں اور سخت زمانے نے ہلا ڈالا ہے۔ تو ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: ابولیلیٰ! رہنے دو، شعر ہمارے نزدیک تمہارے وسیلوں میں سب سے کم تر ہے۔ رہا ہمارا عمدہ مال تو وہ آلِ زبیر کے لیے ہے، اور رہا اس کا زائد حصہ تو بنو اسد اور بنو تمیم اسے تم سے روکے رکھتے ہیں، لیکن اللہ کے مال میں تمہارے دو حق ہیں: ایک حق رسول اللہ ﷺ کو دیکھنے کی وجہ سے، اور ایک حق اہلِ اسلام کے ساتھ شریک ہونے کی وجہ سے۔ پھر ان کے بارے میں حکم دیا تو انہیں دار النعم (جانوروں کے باڑے) میں لے جایا گیا، اور ان کے لیے سات جوان اونٹنیوں، ایک بار برداری کے جانور اور گھوڑوں کا حکم دیا گیا، اور ان کی سواریوں کو گندم اور کھجور سے لاد دیا گیا۔ پھر نابغہ رضی اللہ عنہ (بھوک کی شدت سے) جلدی جلدی کچے دانے کھانے لگے، تو ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: ابولیلیٰ پر افسوس، انہیں کتنی تکلیف پہنچی ہے! تو نابغہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جب بھی قریش نے حکومت کی اور انصاف کیا، ان سے رحم کی درخواست کی گئی تو رحم کیا، عہد کیا تو پورا کیا، اور وعدہ کیا تو پورا کیا، تو میں اور تمام انبیاء (روزِ قیامت) امڈتی ہوئی بھیڑ کے لیے (حوض پر) پیش رو ہوں گے۔“