حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ خَالِدٍ الْعَبْسِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُقَرِّنٍ الْمُزَنِيِّ، عَنْ غَالِبِ بْنِ أَبْجَرَ قَالَ: ذَكَرْتُ قَيْسَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَحِمَ اللهُ قَيْسًا، رَحِمَ اللهُ قَيْسًا» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، تَرَحَّمُ عَلَى قَيْسٍ؟ قَالَ: «نَعَمْ إِنَّهُ كَانَ عَلَى دَيْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ اللهِ، يَا قَيْسُ حَيِّ يَمَنًا، يَا يَمَنُ حَيِّ قَيْسًا، إِنَّ قَيْسًا فُرْسَانُ اللهِ فِي الْأَرْضِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَيْسَ لِهَذَا الدِّينِ نَاصِرٌ غَيْرُ قَيْسٍ، إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فُرْسَانًا مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ مُسَوِّمِينَ، وَفُرْسَانًا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ مُعَلِّمِينَ، فَفَرَسَانُ اللهِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ قَيْسٌ، إِنَّمَا قَيْسٌ بَيْضَةٌ تَفَلَّقَتْ عَنَّا أَهْلِ الْبَيْتِ، إِنَّ قَيْسًا ضَرَّاءُ اللهِ فِي الْأَرْضِ» يَعْنِي أَسَدُ اللهِ
ترجمہ
سیدنا غالب بن ابجر مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے قبیلہ قیس کا ذکر کیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ قیس پر رحم فرمائے، اللہ قیس پر رحم فرمائے۔“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! آپ قیس کے لیے رحمت کی دعا فرما رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، وہ ابواسماعیل (سیدنا اسماعیل علیہ السلام) بن ابراہیم خلیل اللہ کے دین پر قائم تھے۔ اے قیس! یمن کو زندہ رکھو، اے یمن! قیس کو زندہ رکھو۔ بے شک قیس زمین میں اللہ کے سوار ہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ اس دین کا قیس کے سوا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ بے شک اللہ عزوجل کے اہلِ آسمان میں سے نشان زدہ گھڑ سوار ہیں، اور اہلِ زمین میں سے سکھائے ہوئے گھڑ سوار ہیں، تو اہلِ زمین میں سے اللہ کے (ان) گھڑ سواروں میں قیس ہیں۔ قیس تو ایک ایسا انڈا ہے جو ہم اہل بیت سے پھوٹا ہے۔ بے شک قیس زمین میں اللہ کا زور آور ہتھیار ہیں“ یعنی اللہ کا شیر۔
حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ غَالِبِ بْنِ أَبْجَرَ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَمْ يَبْقَ لِي مِنْ طُعْمَةِ أَهْلِي إِلَّا أَحْمِرَةً عِنْدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَطْعِمْ أَهْلَكَ مِنْ سَمِينِ مَالِكَ، فَإِنَّمَا قَذِرْتُ جَوَّالِي الْقَرْيَةِ»
ترجمہ
سیدنا غالب بن ابجر مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس اپنے گھر والوں کو کھلانے کے لیے صرف گدھے رہ گئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے گھر والوں کو اپنے مال کے موٹے تازے جانوروں میں سے کھلاؤ، میں نے تو تمہارے لیے گاؤں میں (گندگی) کھانے والے جانوروں (جلالہ) کو ناپسند کیا تھا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثنا أَبِي ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أُنَاسٍ مِنْ مُزَيْنَةَ الطَّاهِرَةِ، عَنْ غَالِبِ بْنِ الْأَبْجَرِ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مَالِي إِلَّا الْأَحْمِرَةُ، فَقَالَ: «أَطْعِمْ أَهْلَكَ مِنْ سَمِينِ مَالِكَ، إِنَّمَا كَرِهْتُ لَكُمْ جَوَّالَةَ الْقَرْيَةِ»
ترجمہ
سیدنا غالب بن ابجر مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: میرے مال میں سے صرف گدھے رہ گئے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے گھر والوں کو اپنے مال کے موٹے تازے جانوروں میں سے کھلاؤ، میں نے تو تمہارے لیے گاؤں میں گندگی کھانے والے (جلالہ) جانوروں کو ناپسند کیا تھا۔“
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حَسَنٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ رَجُلَيْنِ مِنْ مُزَيْنَةَ أَحَدُهُمَا، عَنِ الْآخَرِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُوَيْمٍ، وَغَالِبِ بْنِ أَبْجَرَ، - قَالَ مِسْعَرٌ: وَأَرَى غَالِبًا الَّذِي سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، لَمْ يَبْقَ مِنْ مَالِي شَيْءٌ أُطْعِمُهُ أَهْلِي إِلَّا حُمُرًا، قَالَ: «فَأَطْعِمْ أَهْلَكَ مِنْ سَمِينِ مَالِكَ، فَإِنَّمَا أُحَرِّمُ عَلَيْكُمْ جَوَّالَ الْقَرْيَةِ»
ترجمہ
(مسعر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ یہ غالب ہی ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا تھا) سیدنا غالب بن ابجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے مال میں سے اپنے گھر والوں کو کھلانے کے لیے صرف گدھے رہ گئے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے گھر والوں کو اپنے مال کے موٹے تازے جانوروں میں سے کھلاؤ، میں نے تو تم پر گاؤں میں گندگی کھانے والے (جلالہ) جانوروں کو حرام کیا ہے۔“
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ عَلِيٍّ الْبَزَّارُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ مَعْقِلَ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ، عَنْ نَاسٍ مِنْ مُزَيْنَةَ، أَنَّ أَبْجَرَ أَوِ ابْنَ أَبْجَرَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مَالِي إِلَّا حُمُرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَطْعِمْ أَهْلَكَ مِنْ سَمِينِ مَالِكَ، وَإِنَّمَا كَرِهْتُ لَكُمْ جَوَّالَ الْقَرْيَةِ»
ترجمہ
ابجر یا ابن ابجر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے مال میں سے صرف گدھے رہ گئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے گھر والوں کو اپنے مال کے موٹے تازے جانوروں میں سے کھلاؤ، میں نے تو تمہارے لیے گاؤں میں گندگی کھانے والے (جلالہ) جانوروں کو ناپسند کیا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ رَجُلَيْنِ، مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَا: إِنَّ السَّنَةَ أَصَابَتْنَا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ
مزینہ کے دو آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: ہم پر قحط سالی آ پڑی ہے، پھر (راوی نے) وہی حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ غَالِبِ بْنِ دُرَيْخٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ، وَإِنَّ سَمِينَ مَالِنَا الْحُمُرُ، فَقَالَ: «كُلْ مِنْ سَمِينِ مَالِكَ - وَقَالَ - إِنَّمَا قَذِرْتُ لَكُمْ أَوْ كَرِهْتُ لَكُمْ جَلَّالَةَ الْقَرْيَةِ»
ترجمہ
سیدنا غالب بن دریخ (ابجر) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم پر قحط پڑ گیا اور ہمارے مال کے موٹے تازے جانور گدھے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے مال کے موٹے تازے جانوروں میں سے کھاؤ، میں نے تو تمہارے لیے گاؤں میں گندگی کھانے والے (جلالہ) جانوروں کو ناپسند کیا تھا۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ غَالِبِ بْنِ دُرَيْخٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَصَابَتْنَا سَنَةٌ، وَسَمِينُ مَالِنَا فِي الْحُمُرِ، فَقَالَ: «كُلْ مِنْ سَمِينِ مَالِكَ، إِنَّمَا قَذِرْتُ جَوَّالِي الْقَرْيَةِ»
ترجمہ
سیدنا غالب بن دریخ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم پر قحط پڑ گیا اور ہمارے مال کے موٹے تازے جانور گدھوں میں ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے مال کے موٹے تازے جانوروں میں سے کھاؤ، میں نے تو گاؤں میں گندگی کھانے والے (جلالہ) جانوروں کو ناپسند کیا تھا۔“