حدیث نمبر: 15757
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حَسَنٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ رَجُلَيْنِ مِنْ مُزَيْنَةَ أَحَدُهُمَا، عَنِ الْآخَرِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُوَيْمٍ، وَغَالِبِ بْنِ أَبْجَرَ، - قَالَ مِسْعَرٌ: وَأَرَى غَالِبًا الَّذِي سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، لَمْ يَبْقَ مِنْ مَالِي شَيْءٌ أُطْعِمُهُ أَهْلِي إِلَّا حُمُرًا، قَالَ: «فَأَطْعِمْ أَهْلَكَ مِنْ سَمِينِ مَالِكَ، فَإِنَّمَا أُحَرِّمُ عَلَيْكُمْ جَوَّالَ الْقَرْيَةِ»
ترجمہ

(مسعر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ یہ غالب ہی ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا تھا) سیدنا غالب بن ابجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے مال میں سے اپنے گھر والوں کو کھلانے کے لیے صرف گدھے رہ گئے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے گھر والوں کو اپنے مال کے موٹے تازے جانوروں میں سے کھلاؤ، میں نے تو تم پر گاؤں میں گندگی کھانے والے (جلالہ) جانوروں کو حرام کیا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الغين / حدیث: 15757
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 266، حدیث 666