المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
علي بن رباح، عن عقبة بن عامر باب: علی بن رباح کی سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 14878
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَسَدِ بْنِ مُوسَى، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ كَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ النَّاسُ: كَسَفَتِ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللهِ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ»ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا ابراہیم (رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے) کی وفات ہوئی تو سورج کو گرہن لگ گیا۔ لوگوں نے کہا: سورج کو ابراہیم کی وفات کی وجہ سے گرہن لگا ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے نہیں گہناتے، جب تم ایسا دیکھو تو نماز کی طرف دوڑو۔“