کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ابوقبیل حیی بن ہانی معافری کی سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ الْمَعَافِرِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْكِتَابُ وَاللَّبَنُ، فَأَمَّا اللَّبَنُ فَيُفْتَحُ لِأَقْوَامٍ فِيهِ فَيَتْرُكُونَ الْجُمُعَةَ وَالْجُمُعَاتِ، وَأَمَّا الْكِتَابُ فَيُفْتَحُ لِأَقْوَامٍ فِيهِ فَيُجَادِلُونَ بِهِ الَّذِينَ آمَنُوا»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اپنی امت پر جس چیز کا سب سے زیادہ خوف ہے وہ کتاب (قرآن) اور دودھ ہیں۔ دودھ کے بارے میں یہ کہ کچھ لوگوں کے لیے یہ کھل جائے گا تو وہ جمعہ اور جمعہ کی نمازیں چھوڑ دیں گے، اور قرآن کے بارے میں یہ کہ کچھ لوگوں کے لیے یہ کھل جائے گا (یعنی وہ اسے پڑھنا سیکھ لیں گے) تو وہ اس کے ذریعے اہل ایمان سے جھگڑا کریں گے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ زُغْبَةَ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَشَدَّ مَا أَخَافُ أَوْ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي اللَّبَنُ وَالْكِتَابُ» فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا بَالُ اللَّبَنِ؟ قَالَ: «يَخْرُجُونَ مِنَ الْجَمَاعَاتِ وَيَتْرُكُونَ الْجُمُعَاتِ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا بَالُ الْكِتَابِ؟ قَالَ: «يُفْتَحُ لِأَقْوَامٍ فَيَقْرَءُونَهُ فَيُجَادِلُونَ بِهِ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ خوف دودھ اور کتاب کا ہے“ (یا فرمایا: ”جس چیز کا سب سے زیادہ خوف ہے“)۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! دودھ کا کیا معاملہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جماعتوں سے نکل جائیں گے اور جمعے چھوڑ دیں گے۔“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! کتاب کا کیا معاملہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کچھ لوگوں کے لیے یہ کھل جائے گی تو وہ اسے پڑھ کر اس کے ذریعے جھگڑا کریں گے۔“
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، ثَنَا مَالِكُ بْنُ الْخَيْرِ الزِّيَادِيُّ، عَنْ أَبِي قَبِيلٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «سَيَهْلِكُ مِنْ أُمَّتِي فِي الْكِتَابِ وَاللَّبَنِ» قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ: فَقُلْتُ: وَمَا أَهْلُ الْكِتَابِ؟ قَالَ: «قَوْمٌ يَتَعَلَّمُونَ كِتَابَ اللهِ يُجَادِلُونَ بِهِ الَّذِينَ آمَنُوا» قُلْتُ: وَمَا أَهْلُ اللَّبَنِ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «قَوْمٌ يَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ ويُضَيِّعُونَ الصَّلَوَاتِ»
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”میری امت میں سے کچھ لوگ کتاب اور دودھ کی وجہ سے ہلاک ہوں گے۔“ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اہل کتاب کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ لوگ جو اللہ کی کتاب سیکھتے ہیں اور اس کے ذریعے اہل ایمان سے جھگڑتے ہیں۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اہل لبن کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ لوگ جو خواہشات کی پیروی کرتے ہیں اور نمازیں ضائع کرتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهْ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثَنَا أَبُو السَّمْحِ، ثَنَا أَبُو قَبِيلٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَخْوَفُ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي اثْنَتَينِ: يَتَّبِعُونَ الْآيَاتِ وَالشَّهَوَاتِ، وَيَتْرُكُونَ الْقُرْآنَ وَالصَّلَوَاتِ أَنْ يَتَعَلَّمَهُ الْمُنَافِقُونَ يُجَادِلُونَ بِهِ أَهْلَ الْعِلْمِ "
ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اپنی امت پر دو چیزوں کا سب سے زیادہ خوف ہے: یہ کہ وہ متشابہ آیات اور خواہشات کی پیروی کریں اور قرآن اور نمازیں چھوڑ دیں، اور یہ کہ منافقین اسے سیکھ کر اہل علم سے اس کے ذریعے جھگڑا کریں۔“