کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: بشیر بن ابی مسعود کی اپنے والد سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: كُنَّا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَأَخَّرَ صَلَاةَ الْعَصْرِ، فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ: حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخَّرَ الصَّلَاةَ مَرَّةً - يَعْنِي الْعَصْرَ - فَقَالَ لَهُ أَبُو مَسْعُودٍ: «أَمَا وَاللهِ يَا مُغِيرَةُ، لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أُنْزِلَ فَصَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى النَّاسُ مَعَهُ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى النَّاسُ مَعَهُ، حَتَّى عَدَّ خَمْسَ صَلَوَاتٍ» . فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: انْظُرْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةَ، وَإنَّ جِبْرِيلَ هُوَ سَنَّ وَقْتَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ: كَذَلِكَ حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: فَمَا زَالَ عُمَرُ يَعْلَمُ وَقْتَ الصَّلَاةِ بِعَلَامَةٍ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا
ترجمہ
(عروہ نے کہا:) مجھے بشیر بن ابی مسعود انصاری نے بتایا کہ مغیرہ بن شعبہ نے ایک بار نماز - یعنی عصر - میں تاخیر کی، تو سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے مغیرہ! اللہ کی قسم تمہیں معلوم ہے کہ جبریل علیہ السلام اترے اور انہوں نے نماز پڑھی تو رسول اللہ ﷺ نے بھی نماز پڑھی اور لوگوں نے آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر وہ دوبارہ اترے اور نماز پڑھی تو رسول اللہ ﷺ نے بھی نماز پڑھی اور لوگوں نے آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، یہاں تک کہ انہوں نے پانچ نمازیں شمار کیں۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عروہ سے کہا: دیکھو اے عروہ! تم کیا کہہ رہے ہو، جبریل نے تو نماز کا وقت مقرر کیا تھا۔ عروہ نے کہا: مجھے بشیر بن ابی مسعود نے یہی بتایا ہے۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس دن سے مرتے دم تک ایک علامت کے ذریعے نماز کا وقت پہچانتے رہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14783
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 256، حدیث 711
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَسْأَلُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ فَقَالَ عُرْوَةُ: مَسَّى الْمُغِيرَةُ بِصَلَاةِ الْعَصْرِ وَهُوَ عَلَى الْكُوفَةِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أبو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ: مَا هَذَا يَا مُغِيرَةُ؟ أَمَا وَاللهِ لَقَدْ عَلِمْتَ، لَقَدْ نَزَلَ جِبْرِيلُ فَصَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى النَّاسُ خَمْسَ صَلَوَاتٍ يَقُولُهُ، ثُمَّ قَالَ: «هَكَذَا أُمِرْتُ» ، فَقَالَ عُمَرُ لِعُرْوَةَ: اعْلَمْ مَا تَقُولُهُ، فَإِنَّ جِبْرِيلَ هُوَ الَّذِي أَقَامَ وَقْتَ الصَّلَاةِ قَالَ عُرْوَةُ: كَذَلِكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ
ترجمہ
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ (مغیرہ کے پاس) گئے اور کہا: اے مغیرہ! یہ کیا ہے؟ اللہ کی قسم! تمہیں معلوم ہے، جبریل علیہ السلام اترے تو انہوں نے نماز پڑھی، تو رسول اللہ ﷺ نے بھی نماز پڑھی، اور لوگوں نے پانچ نمازیں اسی طرح پڑھیں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اسی طرح حکم دیا گیا ہے۔“ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عروہ سے کہا: جان لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو، کیونکہ جبریل ہی نے نماز کا وقت مقرر کیا تھا۔ عروہ کہتے ہیں: بشیر بن ابی مسعود اپنے والد کے حوالے سے یہی بیان کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14784
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 257، حدیث 712
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ح وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْياطِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أَنَا مَالِكٌ، ح، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا وَهُوَ بِالْكُوفَةِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ: يَا مُغِيرَةُ، أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ أنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ نَزَلَ فَصَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «بِهَذَا أُمِرْتُ» ، فَقَالَ عُمَرُ لِعُرْوَةَ: اعْلَمْ مَا تُحَدِّثُ يَا عُرْوَةَ أَوَ إِنَّ جِبْرِيلَ هُوَ أَقَامَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقْتَ الصَّلَاةِ؟ فَقَالَ عُرْوَةُ: كَذَلِكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ
ترجمہ
سیدنا مغیرہ کوفہ میں تھے تو سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور کہا: اے مغیرہ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ جبریل علیہ السلام اترے اور نماز پڑھی تو رسول اللہ ﷺ نے بھی نماز پڑھی، پھر فرمایا: ”مجھے یہی حکم دیا گیا ہے۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عروہ سے کہا: اے عروہ! جان لو کہ تم کیا بیان کر رہے ہو، کیا جبریل نے ہی رسول اللہ ﷺ کے لیے نماز کا وقت مقرر کیا تھا؟ عروہ نے کہا: بشیر بن ابی مسعود اپنے والد کے حوالے سے یہی بیان کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14785
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 257، حدیث 713
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، ح، وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالُوا: ثَنَا سُفْيَانُ، ثَنَا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخَّرَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الصَّلَاةَ يَوْمًا، فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ نَزَلَ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ نَزَلَ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، حَتَّى عَدَّ الصَّلَوَاتَ الْخُمُسَ» فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: اتَّقِ اللهَ يَا عُرْوَةُ فَانْظُرْ مَا تَقُولُ، قَالَ عُرْوَةُ: أَخْبَرَنِيهِ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّفْظُ لِلْحُمَيْدِيِّ
ترجمہ
امام زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: عمر بن عبدالعزیز نے ایک دن نماز میں تاخیر کی تو عروہ بن زبیر نے ان سے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام اترے اور انہوں نے میری امامت کی تو میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر وہ دوبارہ اترے اور میری امامت کی تو میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر وہ اترے اور میری امامت کی تو میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی“، یہاں تک کہ انہوں نے پانچوں نمازیں شمار کر دیں۔ اس پر عمر بن عبدالعزیز نے ان سے کہا: اے عروہ! اللہ سے ڈرو اور دیکھو کیا کہہ رہے ہو۔ عروہ نے کہا: مجھے یہ حدیث بشیر بن ابی مسعود نے اپنے والد کے حوالے سے بتائی ہے۔
یہ الفاظ حمیدی کی روایت کے ہیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14786
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 258، حدیث 714
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثَنَا شُعَيْبُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، أَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ح، وَحَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، فَحَسَبَ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ»
ترجمہ
عروہ بن زبیر کہتے ہیں: میں نے بشیر بن ابی مسعود انصاری کو یہ کہتے سنا: میں نے ابومسعود رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جبریل علیہ السلام اترے اور انہوں نے میری امامت کی تو میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی“، اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں پر پانچ نمازیں شمار کیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14787
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 258، حدیث 715
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ح، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْعُتْبِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُمْ كَانُوا عَلَى كَرَاسِيِّ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَمَعَهُمْ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ فَدَعَاهُ الْمُؤَذِّنُ لِصَلَاةِ الْعَصْرِ فَأَمَّنِي قَبْلَ أنْ نُصَلِّيَهَا، فَلَمَّا رَجَعُوا قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: هَلْ شَعَرْتَ أنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ نَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى مَعَهُ فَأَخْبَرَهُ بِوَقْتِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ عُمَرُ: مَا تَقُولُ يَا عَبْدَ اللهِ؟ فَقَالَ عُرْوَةُ عِنْدَ ذَلِكَ: أَخْبَرَنِي بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: نَزَلَ عَلَيَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْهَاجِرَةَ حِينَ تَزِيغُ الشَّمْسُ وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا فِي شِدَّةِ الْحَرِّ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُرْتَفِعَةٌ يَسِيرُ الرَّجُلُ حَتَّى يَنْصَرِفَ مِنْهَا إِلَى ذِي الْحُلَيْفَةِ سِتَّةَ أَمْيَالٍ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتِ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ إِذَا اسْوَدَّ الْأُفُقُ، وَيُصَلِّي الصُّبْحَ بِغَلَسٍ، ثُمَّ صَلَّاهَا يَوْمًا فَأَسْفَرَ بِهَا، ثُمَّ لَمْ يَعُدْ إِلَى الْإِسْفَارِ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ " وَاللَّفْظُ لِأَبِي صَالِحٍ
ترجمہ
(ابن شہاب کہتے ہیں:) وہ لوگ عمر بن عبدالعزیز کی مجلس میں کرسیوں پر بیٹھے تھے اور ان کے ساتھ عروہ بن زبیر بھی تھے، مؤذن نے انہیں عصر کی نماز کے لیے بلایا تو انہوں نے نماز پڑھنے سے پہلے تاخیر کی۔ جب وہ واپس آئے تو عروہ بن زبیر نے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ جبریل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ پر اترے اور آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ ﷺ کو نماز کا وقت بتایا؟ اس پر سیدنا عمر (بن عبدالعزیز) نے پوچھا: تم کیا کہہ رہے ہو، اے عبداللہ؟ اس پر عروہ نے کہا: مجھے بشیر بن ابی مسعود انصاری نے ابومسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جبریل علیہ السلام مجھ پر اترے تو میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی۔“ (راوی کہتے ہیں) میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ ظہر کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھلتا، اور کبھی سخت گرمی میں اسے مؤخر کر دیتے، اور عصر کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج سفید اور بلند ہوتا، آدمی چل کر ذوالحلیفہ تک - جو چھ میل کا فاصلہ ہے - غروبِ آفتاب سے پہلے پہنچ جاتا، اور مغرب کی نماز سورج غروب ہوتے ہی پڑھتے، اور عشاء کی نماز جب افق سیاہ ہو جاتا تو پڑھتے، اور فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھتے، پھر ایک دن آپ ﷺ نے اسے روشنی پھیلنے پر پڑھا، اس کے بعد پھر کبھی روشنی پھیلنے تک تاخیر نہیں کی یہاں تک کہ اللہ نے آپ ﷺ کو وفات دے دی۔
یہ الفاظ ابوصالح کی روایت کے ہیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14788
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 259، حدیث 716
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، ثَنَا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعُقَيْلٍ، وَيُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ وَأَمْسَى بِصَلَاةِ الْعَصْرِ: أَمَا وَاللهِ لَقَدْ عَلِمْتَ يَا مُغِيرَةَ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ نَزَلَ فَصَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «هَكَذَا أُمِرْتُ»
ترجمہ
(سیدنا ابومسعود نے مغیرہ سے عصر کی نماز کے بارے میں کہا:) اللہ کی قسم! اے مغیرہ، تمہیں معلوم ہے کہ جبریل علیہ السلام اترے اور نماز پڑھی تو رسول اللہ ﷺ نے بھی نماز پڑھی، پھر انہوں نے نماز پڑھی تو رسول اللہ ﷺ نے بھی نماز پڑھی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اسی طرح حکم دیا گیا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14789
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 260، حدیث 717
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ حَزْمٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، كَانَ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ فِي زَمَانِ الْحَجَّاجِ وَالْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ فَكَانَ ذَلِكَ زَمَانَ يُؤَخِّرُونَ فِيهِ الصَّلَاةَ فَحَدَّثَ عُرْوَةُ عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ أَوْ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ، كِلَاهُمَا قَدْ صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، صَلِّ الظُّهْرَ فَقَامَ فَصَلَّى، ثُمَّ أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ صَلِّ الْعَصْرَ، فَقَامَ فَصَلَّى، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، صَلِّ الْمَغْرِبَ فَصَلَّى، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ الْأَحْمَرُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، قُمْ فَصَلِّ الْعِشَاءَ، فَقَامَ فَصَلَّى، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ صَلِّ الصُّبْحَ، فَقَامَ فَصَلَّى، ثُمَّ أَتَاهُ الْغَدَ وَظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلُهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ قُمْ فَصَلِّ الظُّهْرَ، فَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ صَلِّ الْعَصْرَ، فَقَامَ فَصَلَّى، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَقْتٌ وَاحِدٌ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ صَلِّ الْمَغْرِبَ فَصَلَّى، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ ذَهَبَ سَاعَةٌ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ قُمْ فَصَلِّ، ثُمَّ أَتَاهُ حِينَ أَسْفَرَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ صَلِّ الصُّبْحَ، فَقَامَ فَصَلَّى، ثُمَّ قَالَ: «مَا بَيْنَ هَذَيْنِ وَقْتٌ»
ترجمہ
(روایت جاری ہے) پھر جبریل علیہ السلام رات کا کچھ حصہ گزرنے پر آئے اور کہا: اے محمد! کھڑے ہو کر نماز پڑھو۔ پھر جب روشنی پھیل گئی تو آئے اور کہا: اے محمد! فجر کی نماز پڑھو۔ چنانچہ آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی، پھر جبریل علیہ السلام نے فرمایا: ”ان دونوں کے درمیان ہی (عشاء کا) وقت ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14790
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 260، حدیث 718