المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عامر الشعبي، عن أبي مسعود باب: عامر شعبی کی سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: وَعَدَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْلِ الْعَقَبَةِ يَوْمَ الْأَضْحَى وَنَحْنُ سَبْعُونَ رَجُلًا، قَالَ عُقْبَةُ: إنِّي لَأَصْغَرُهُمْ سِنًّا، فَأَتَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَوْجِزُوا فِي الْخُطْبَةِ فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ كُفَّارَ قُرَيْشٍ» فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، سَلْنَا لِرَبِّكَ وَسَلْنَا لِنَفْسِكَ وَسَلْنَا لِأَصْحَابِكَ، وَأَخْبِرْنَا مَا لَنَا مِنَ الثَّوَابِ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَلَيْكَ، فَقَالَ: «أَمَّا الَّذِي أَسْأَلُ لِرَبِّي تُؤْمِنُوا بِهِ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَأَمَّا الَّذِي أَسْأَلُ لِنَفْسِي فَإِنِّي أَسْأَلُكُمُ أنْ تُطِيعُونِي أَهْدِكُمْ سَبِيلَ الرَّشَادِ، وَأَسْأَلُكُمْ لِي وَلِأَصْحَابِي أَنْ تُواسُونَا فِي ذَاتِ أَيْدِيكُمْ وأَنْ تَمْنَعُونَا مِمَّا مَنَعْتُمْ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ، فَإِذَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ فَلَكُمْ عَلَى اللهِ الْجَنَّةُ وَعَلَيَّ» قَالَ: فَمَدَدْنَا أَيْدِيَنَا فَبَايَعْنَاهُ(روایت کا آغاز حذف ہے، سیدنا عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہم سے عقبہ کے دامن میں قربانی کے دن ملاقات کا وعدہ کیا، اور ہم ستر آدمی تھے۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ان میں سب سے کم عمر تھا۔ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”بیعت مختصر کر لو، کیونکہ مجھے تم پر قریش کے کفار کا خطرہ ہے۔“ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم سے اپنے رب کے لیے، اپنے لیے اور اپنے ساتھیوں کے لیے جو چاہیں مانگیں، اور ہمیں بتائیں کہ اللہ عزوجل اور آپ کی طرف سے ہمارے لیے کیا اجر ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اپنے رب کے لیے یہ مانگتا ہوں کہ تم اس پر ایمان لاؤ اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ، اور اپنے لیے یہ مانگتا ہوں کہ تم میری اطاعت کرو تاکہ میں تمہیں راہِ راست دکھاؤں، اور اپنے اور اپنے ساتھیوں کے لیے یہ مانگتا ہوں کہ تم اپنے مال میں سے ہمارے ساتھ ہمدردی کرو اور جس چیز سے تم اپنے آپ کو بچاتے ہو اس سے ہمیں بھی بچاؤ، اگر تم ایسا کرو گے تو اللہ کے ہاں تمہارے لیے جنت ہے اور میرے ذمے بھی یہی ضمانت ہے۔“ راوی کہتے ہیں: تو ہم نے اپنے ہاتھ بڑھائے اور آپ ﷺ سے بیعت کی۔