المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
بشير بن أبي مسعود، عن أبيه باب: بشیر بن ابی مسعود کی اپنے والد سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ح، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْعُتْبِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُمْ كَانُوا عَلَى كَرَاسِيِّ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَمَعَهُمْ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ فَدَعَاهُ الْمُؤَذِّنُ لِصَلَاةِ الْعَصْرِ فَأَمَّنِي قَبْلَ أنْ نُصَلِّيَهَا، فَلَمَّا رَجَعُوا قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: هَلْ شَعَرْتَ أنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ نَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى مَعَهُ فَأَخْبَرَهُ بِوَقْتِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ عُمَرُ: مَا تَقُولُ يَا عَبْدَ اللهِ؟ فَقَالَ عُرْوَةُ عِنْدَ ذَلِكَ: أَخْبَرَنِي بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: نَزَلَ عَلَيَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْهَاجِرَةَ حِينَ تَزِيغُ الشَّمْسُ وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا فِي شِدَّةِ الْحَرِّ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُرْتَفِعَةٌ يَسِيرُ الرَّجُلُ حَتَّى يَنْصَرِفَ مِنْهَا إِلَى ذِي الْحُلَيْفَةِ سِتَّةَ أَمْيَالٍ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ، وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتِ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ إِذَا اسْوَدَّ الْأُفُقُ، وَيُصَلِّي الصُّبْحَ بِغَلَسٍ، ثُمَّ صَلَّاهَا يَوْمًا فَأَسْفَرَ بِهَا، ثُمَّ لَمْ يَعُدْ إِلَى الْإِسْفَارِ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ " وَاللَّفْظُ لِأَبِي صَالِحٍ(ابن شہاب کہتے ہیں:) وہ لوگ عمر بن عبدالعزیز کی مجلس میں کرسیوں پر بیٹھے تھے اور ان کے ساتھ عروہ بن زبیر بھی تھے، مؤذن نے انہیں عصر کی نماز کے لیے بلایا تو انہوں نے نماز پڑھنے سے پہلے تاخیر کی۔ جب وہ واپس آئے تو عروہ بن زبیر نے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ جبریل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ پر اترے اور آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ ﷺ کو نماز کا وقت بتایا؟ اس پر سیدنا عمر (بن عبدالعزیز) نے پوچھا: تم کیا کہہ رہے ہو، اے عبداللہ؟ اس پر عروہ نے کہا: مجھے بشیر بن ابی مسعود انصاری نے ابومسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جبریل علیہ السلام مجھ پر اترے تو میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی۔“ (راوی کہتے ہیں) میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ ظہر کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھلتا، اور کبھی سخت گرمی میں اسے مؤخر کر دیتے، اور عصر کی نماز اس وقت پڑھتے جب سورج سفید اور بلند ہوتا، آدمی چل کر ذوالحلیفہ تک - جو چھ میل کا فاصلہ ہے - غروبِ آفتاب سے پہلے پہنچ جاتا، اور مغرب کی نماز سورج غروب ہوتے ہی پڑھتے، اور عشاء کی نماز جب افق سیاہ ہو جاتا تو پڑھتے، اور فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھتے، پھر ایک دن آپ ﷺ نے اسے روشنی پھیلنے پر پڑھا، اس کے بعد پھر کبھی روشنی پھیلنے تک تاخیر نہیں کی یہاں تک کہ اللہ نے آپ ﷺ کو وفات دے دی۔
یہ الفاظ ابوصالح کی روایت کے ہیں۔