حدیث نمبر: 14791
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي رَجَاءٍ الْعَبَّادَانِيُّ، ثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ أَسِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: إِنِّي لَبَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحَجِّ وَإِنَّ زَبَدَ نَاقَتِهِ لَيَقَعُ عَلَى ظَهْرِي فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «أَدُّوا إِلَى كُلِّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، وَالْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ، وَمَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ أَوِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ فَعَلَيْهُ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ»
ترجمہ

سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: حج کے دن میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے تھا اور آپ ﷺ کی اونٹنی کا جھاگ میری پیٹھ پر گر رہا تھا، تو میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”ہر حق دار کو اس کا حق ادا کرو، اور بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا، اور زانی کے لیے پتھر ہے (یعنی محرومی)، اور جو اپنے آزاد کرنے والوں کے سوا کسی اور کی طرف اپنی ولاء منسوب کرے یا اپنے باپ کے سوا کسی اور کی طرف اپنا نسب جوڑے، اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو، نہ اس سے کوئی فرض قبول کیا جائے گا اور نہ کوئی نفل۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14791
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 261، حدیث 719