❮
❯
حدیث نمبر: 14783
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: كُنَّا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَأَخَّرَ صَلَاةَ الْعَصْرِ، فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ: حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ أَخَّرَ الصَّلَاةَ مَرَّةً - يَعْنِي الْعَصْرَ - فَقَالَ لَهُ أَبُو مَسْعُودٍ: «أَمَا وَاللهِ يَا مُغِيرَةُ، لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أُنْزِلَ فَصَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى النَّاسُ مَعَهُ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى النَّاسُ مَعَهُ، حَتَّى عَدَّ خَمْسَ صَلَوَاتٍ» . فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: انْظُرْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةَ، وَإنَّ جِبْرِيلَ هُوَ سَنَّ وَقْتَ الصَّلَاةِ، فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ: كَذَلِكَ حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: فَمَا زَالَ عُمَرُ يَعْلَمُ وَقْتَ الصَّلَاةِ بِعَلَامَةٍ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا
ترجمہ

امام زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے ساتھ تھے کہ انہوں نے عصر کی نماز میں تاخیر کی، تو عروہ نے ان سے کہا: مجھے بشیر بن ابی مسعود انصاری نے بتایا کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک بار نماز - یعنی عصر - میں تاخیر کی، تو سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: سنو! اے مغیرہ! اللہ کی قسم تمہیں معلوم ہے کہ جبریل علیہ السلام اترے اور انہوں نے نماز پڑھی تو رسول اللہ ﷺ نے بھی نماز پڑھی اور لوگوں نے آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر وہ دوبارہ اترے اور نماز پڑھی تو رسول اللہ ﷺ نے بھی نماز پڑھی اور لوگوں نے آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، یہاں تک کہ انہوں نے پانچ نمازیں شمار کیں۔ اس پر عمر بن عبدالعزیز نے عروہ سے کہا: دیکھو اے عروہ! تم کیا کہہ رہے ہو، کیا جبریل ہی نے نماز کا وقت مقرر کیا تھا؟ عروہ نے ان سے کہا: مجھے بشیر بن ابی مسعود نے اسی طرح بتایا ہے۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ عمر بن عبدالعزیز دنیا سے رخصت ہونے تک ایک علامت کے ذریعے نماز کا وقت پہچانتے رہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14783
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 256، حدیث 711