المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
بشير بن أبي مسعود، عن أبيه باب: بشیر بن ابی مسعود کی اپنے والد سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَسْأَلُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ فَقَالَ عُرْوَةُ: مَسَّى الْمُغِيرَةُ بِصَلَاةِ الْعَصْرِ وَهُوَ عَلَى الْكُوفَةِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أبو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ: مَا هَذَا يَا مُغِيرَةُ؟ أَمَا وَاللهِ لَقَدْ عَلِمْتَ، لَقَدْ نَزَلَ جِبْرِيلُ فَصَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى النَّاسُ خَمْسَ صَلَوَاتٍ يَقُولُهُ، ثُمَّ قَالَ: «هَكَذَا أُمِرْتُ» ، فَقَالَ عُمَرُ لِعُرْوَةَ: اعْلَمْ مَا تَقُولُهُ، فَإِنَّ جِبْرِيلَ هُوَ الَّذِي أَقَامَ وَقْتَ الصَّلَاةِ قَالَ عُرْوَةُ: كَذَلِكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِابن شہاب (زہری) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عمر بن عبدالعزیز کو عروہ بن زبیر سے پوچھتے سنا، تو عروہ نے کہا: سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کوفہ کے امیر ہوتے ہوئے عصر کی نماز میں شام کر دی، تو سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے اور کہا: اے مغیرہ! یہ کیا ہے؟ اللہ کی قسم! تمہیں معلوم ہے، جبریل علیہ السلام اترے تو انہوں نے نماز پڑھی، تو رسول اللہ ﷺ نے بھی نماز پڑھی، اور لوگوں نے پانچ نمازیں اسی طرح پڑھیں، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اسی طرح حکم دیا گیا ہے۔“ اس پر عمر بن عبدالعزیز نے عروہ سے کہا: جان لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو، کیونکہ جبریل ہی نے نماز کا وقت مقرر کیا تھا۔ عروہ نے کہا: بشیر بن ابی مسعود اپنے والد کے حوالے سے یہی بیان کیا کرتے تھے۔