حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي سُوَيْدٍ الذِّرَاعُ، ح وَحَدَّثَنَا طَالِبُ بْنُ قُرَّةَ الْأَذَنِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ متويه الْأَنْصَارِيُّ، ثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَا: ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، أَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، أَخْبَرَنِي عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: جَاءَتْ قُرَيْشٌ إِلَى أَبِي طَالِبٍ فَقَالُوا: إِنَّ ابْنَ أَخِيكَ يُؤْذِينَا فِي نَادِينَا وَفِي مَجْلِسِنَا، فَانْهَهُ عَنْ إِيذَائِنَا، فَقَالَ لِي: يَا عَقِيلُ، ائْتِ مُحَمَّدًا فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهِ فَأَخْرَجْتُهُ مِنْ كِبْسٍ - قَالَ طَلْحَةُ: بَيْتٌ صَغِيرٌ - فَجَاءَ فِي الظُّهْرِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ، فَجَعَلَ يَطْلُبُ الْفَيْءَ يَمْشِي فِيهِ مِنْ شِدَّةِ حَرِّ الرَّمْضَاءِ فَأَتَيْنَاهُمْ، فَقَالَ أَبُو طَالِبٍ: إِنَّ بَنِي عَمِّكَ زَعَمُوا أَنَّكَ تُؤْذِيهِمْ فِي نَادِيهِمْ وَفِي مَجْلِسِهِمْ، فَانْتَهِ عَنْ ذَلِكَ، فَحَلَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: «مَا تَرَوْنَ هَذَا الشَّمْسَ؟» قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «مَا أَنَا بِأَقْدَرَ أَنْ أَدَعَ ذَلِكَ مِنْكُمْ أَنْ تُشْعِلُوا مِنْهَا شُعْلَةً» ، قَالَ أَبُو طَالِبٍ: مَا كَذَبَنَا ابْنُ أَخِي قَطُّ فَارْجِعُوا
ترجمہ
سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوطالب نے (نبی کریم ﷺ سے) کہا: تمہارے چچازاد بھائیوں کا خیال ہے کہ تم انہیں ان کی مجلسوں اور بیٹھکوں میں تکلیف دیتے ہو، اس سے باز آ جاؤ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور فرمایا: ”کیا تم اس سورج کو دیکھتے ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس بات کو چھوڑنے کی اتنی ہی طاقت رکھتا ہوں جتنی تم اس سے ایک شعلہ سلگانے کی طاقت رکھتے ہو۔“ ابوطالب نے کہا: میرے بھتیجے نے آج تک ہم سے کبھی جھوٹ نہیں بولا، تم لوگ واپس چلے جاؤ۔
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثَنَا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، قَالَا: ثَنَا أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ عَقِيلَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَقِيلَ لَهُ: بِالرِّفَاءِ وَالْبَنِينَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا تَزَوَّجَ أَحَدُكُمْ، فَلْيُقَلْ لَهُ: بَارَكَ اللهُ لَكَ وَبَارَكَ عَلَيْكَ "
ترجمہ
امام حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے نکاح کیا تو انہیں کہا گیا: ”مبارک ہو اور بیٹے نصیب ہوں۔“ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”جب تم میں سے کوئی نکاح کرے تو اسے کہا جائے: اللہ تمہارے لیے برکت فرمائے اور تم پر برکت نازل کرے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْبَصْرِيُّ، أنَّهُ سَمِعَ الْحَسَنَ. قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَأَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ الْحَسَنِ، يَذْكُرُ عَنْ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي جُشَمٍ فَقِيلَ لَهُ: بِالرِّفَاءِ وَالْبَنِينَ، قَالَ: لَا تَقُولُوا ذَلِكَ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ذَلِكَ وَأَمَرَنَا أَنْ نَقُولَ: «بَارَكَ اللهُ لَكَ وَبَارَكَ عَلَيْكَ»
ترجمہ
سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ نے بنو جشم کی ایک عورت سے نکاح کیا تو انہیں کہا گیا: ”مبارک ہو اور بیٹے نصیب ہوں۔“ انہوں نے کہا: یہ مت کہو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا تھا اور ہمیں حکم دیا تھا کہ ہم کہیں: ”اللہ تمہارے لیے برکت فرمائے اور تم پر برکت نازل کرے۔“
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثَنَا يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ عَقِيلَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي جُشَمِ بْنِ سَعْدٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ الْقَوْمُ فَجَعَلُوا يَزِفُّونَهُ يَقُولُونَ: بِالرِّفَاءِ وَالْبَنِينَ، فَقَالَ: لَا تَقُولُوا ذَلِكَ قَالُوا: كَيْفَ نَقُولُ يَا أَبَا يَزِيدَ قَالَ قُولُوا: «بَارَكَ اللهُ لَكُمْ، وَبَارَكَ اللهُ عَلَيْكُمْ، إنَّا كُنَّا نُؤْمَرُ بِذَلِكَ»
ترجمہ
سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ نے بنو جشم بن سعد کی ایک عورت سے نکاح کیا، لوگ ان کے پاس آئے اور انہیں دلہا بنا کر لے جاتے ہوئے کہنے لگے: ”مبارک ہو اور بیٹے نصیب ہوں۔“ انہوں نے کہا: یہ مت کہو۔ لوگوں نے پوچھا: پھر ہم کیا کہیں، اے ابو یزید؟ انہوں نے کہا: کہو: ”اللہ تمہیں برکت دے اور تم پر برکت نازل کرے“، ہمیں یہی کہنے کا حکم دیا جاتا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا زُهَيْرٌ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَتَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي جُشَمٍ فَدَخَلَ بِهَا، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالُوا: بِالرِّفَاءِ وَالْبَنِينَ قَالَ: لَا تَقُولُوا هَذَا، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَقُولَ بِالرِّفَاءِ وَالْبَنِينَ وَأَمَرَنَا أَنْ نَقُولَ: «بَارَكَ اللهُ لَكَ وَبَارَكَ عَلَيْكَ»
ترجمہ
سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ (نکاح کے بعد) باہر نکلے تو لوگوں نے کہا: ”مبارک ہو اور بیٹے نصیب ہوں۔“ انہوں نے کہا: یہ مت کہو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ”مبارک ہو اور بیٹے نصیب ہوں“ کہنے سے منع فرمایا تھا اور ہمیں حکم دیا تھا کہ ہم کہیں: ”اللہ تمہارے لیے برکت فرمائے اور تم پر برکت نازل کرے۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ، ثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَاصِمٍ، ثَنَا الصَّبَّاحُ بْنُ مُحَارِبٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَدَخَلَ فَقِيلَ: بِالرِّفَاءِ وَالْبَنِينَ فَقَالَ: قُولُوا مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَارَكَ اللهُ فِيكُمْ وَبَارَكَ لَكُمْ»
ترجمہ
امام حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے، جب وہ داخل ہوئے تو انہیں کہا گیا: ”مبارک ہو اور بیٹے نصیب ہوں۔“ انہوں نے فرمایا: وہی کہو جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تم میں برکت ڈالے اور تمہارے لیے برکت رکھے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قدِمَ عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ الْبَصْرَةَ، فَتَزَوَّجَ امْرَأَةً فَقَالُوا لَهَا: بِالرِّفَاءِ وَالْبَنِينَ، قَالَ: لَا تَقُولُوا ذَلِكَ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ذَلِكَ وَأَمَرَنَا أَنْ نَقُولَ: «بَارَكَ اللهُ لَكَ وَبَارَكَ عَلَيْكَ»
ترجمہ
سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے نکاح کیا تو لوگوں نے اس سے کہا: ”مبارک ہو اور بیٹے نصیب ہوں۔“ انہوں نے کہا: یہ مت کہو، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا تھا اور ہمیں حکم دیا تھا کہ ہم کہیں: ”اللہ تمہارے لیے برکت فرمائے اور تم پر برکت نازل کرے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ، ثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ، ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ صُبَيْحٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَدِمَ عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے آنے کا ذکر ہے، اور آگے اسی جیسی حدیث بیان کی گئی ہے۔