المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند عقيل بن أبي طالب باب: سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 14586
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثَنَا يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ عَقِيلَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي جُشَمِ بْنِ سَعْدٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ الْقَوْمُ فَجَعَلُوا يَزِفُّونَهُ يَقُولُونَ: بِالرِّفَاءِ وَالْبَنِينَ، فَقَالَ: لَا تَقُولُوا ذَلِكَ قَالُوا: كَيْفَ نَقُولُ يَا أَبَا يَزِيدَ قَالَ قُولُوا: «بَارَكَ اللهُ لَكُمْ، وَبَارَكَ اللهُ عَلَيْكُمْ، إنَّا كُنَّا نُؤْمَرُ بِذَلِكَ»ترجمہ
سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ نے بنو جشم بن سعد کی ایک عورت سے نکاح کیا، لوگ ان کے پاس آئے اور انہیں دلہا بنا کر لے جاتے ہوئے کہنے لگے: ”مبارک ہو اور بیٹے نصیب ہوں۔“ انہوں نے کہا: یہ مت کہو۔ لوگوں نے پوچھا: پھر ہم کیا کہیں، اے ابو یزید؟ انہوں نے کہا: کہو: ”اللہ تمہیں برکت دے اور تم پر برکت نازل کرے“، ہمیں یہی کہنے کا حکم دیا جاتا تھا۔