❮
❯
حدیث نمبر: 14583
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي سُوَيْدٍ الذِّرَاعُ، ح وَحَدَّثَنَا طَالِبُ بْنُ قُرَّةَ الْأَذَنِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ متويه الْأَنْصَارِيُّ، ثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَا: ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، أَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، أَخْبَرَنِي عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: جَاءَتْ قُرَيْشٌ إِلَى أَبِي طَالِبٍ فَقَالُوا: إِنَّ ابْنَ أَخِيكَ يُؤْذِينَا فِي نَادِينَا وَفِي مَجْلِسِنَا، فَانْهَهُ عَنْ إِيذَائِنَا، فَقَالَ لِي: يَا عَقِيلُ، ائْتِ مُحَمَّدًا فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهِ فَأَخْرَجْتُهُ مِنْ كِبْسٍ - قَالَ طَلْحَةُ: بَيْتٌ صَغِيرٌ - فَجَاءَ فِي الظُّهْرِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ، فَجَعَلَ يَطْلُبُ الْفَيْءَ يَمْشِي فِيهِ مِنْ شِدَّةِ حَرِّ الرَّمْضَاءِ فَأَتَيْنَاهُمْ، فَقَالَ أَبُو طَالِبٍ: إِنَّ بَنِي عَمِّكَ زَعَمُوا أَنَّكَ تُؤْذِيهِمْ فِي نَادِيهِمْ وَفِي مَجْلِسِهِمْ، فَانْتَهِ عَنْ ذَلِكَ، فَحَلَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَصَرِهِ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ: «مَا تَرَوْنَ هَذَا الشَّمْسَ؟» قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «مَا أَنَا بِأَقْدَرَ أَنْ أَدَعَ ذَلِكَ مِنْكُمْ أَنْ تُشْعِلُوا مِنْهَا شُعْلَةً» ، قَالَ أَبُو طَالِبٍ: مَا كَذَبَنَا ابْنُ أَخِي قَطُّ فَارْجِعُوا
ترجمہ

سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: قریش ابوطالب کے پاس آئے اور کہا: تمہارا بھتیجا ہمیں ہماری بیٹھک اور ہماری مجلس میں تکلیف دیتا ہے، لہٰذا اسے ہمیں تکلیف دینے سے روکو۔ ابوطالب نے مجھ سے کہا: اے عقیل! محمد (ﷺ) کو لے آؤ۔ میں آپ ﷺ کے پاس گیا اور آپ کو ایک ”کِبس“ سے نکال لایا (طلحہ کہتے ہیں: یعنی ایک چھوٹا سا گھر)، آپ ﷺ ظہر کے وقت سخت گرمی میں تشریف لائے اور تپتی زمین کی شدید گرمی کی وجہ سے سایہ تلاش کر کے اس میں چلنے لگے، پھر ہم ان لوگوں کے پاس پہنچے تو ابوطالب نے (نبی کریم ﷺ سے) کہا: تمہارے چچازاد بھائیوں کا خیال ہے کہ تم انہیں ان کی مجلسوں اور بیٹھکوں میں تکلیف دیتے ہو، اس سے باز آ جاؤ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور فرمایا: ”کیا تم اس سورج کو دیکھتے ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس بات کو چھوڑنے کی اتنی ہی طاقت رکھتا ہوں جتنی تم اس سے ایک شعلہ سلگانے کی طاقت رکھتے ہو۔“ ابوطالب نے کہا: میرے بھتیجے نے آج تک ہم سے کبھی جھوٹ نہیں بولا، تم لوگ واپس چلے جاؤ۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14583
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 191، حدیث 511