❮
❯
حدیث نمبر: 14587
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا زُهَيْرٌ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَتَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي جُشَمٍ فَدَخَلَ بِهَا، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالُوا: بِالرِّفَاءِ وَالْبَنِينَ قَالَ: لَا تَقُولُوا هَذَا، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَقُولَ بِالرِّفَاءِ وَالْبَنِينَ وَأَمَرَنَا أَنْ نَقُولَ: «بَارَكَ اللهُ لَكَ وَبَارَكَ عَلَيْكَ»
ترجمہ

امام حسن بصری رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور بنو جشم کی ایک عورت سے نکاح کیا، اس کے پاس گئے، پھر باہر نکلے تو لوگوں نے کہا: ”مبارک ہو اور بیٹے نصیب ہوں۔“ انہوں نے کہا: یہ مت کہو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ”مبارک ہو اور بیٹے نصیب ہوں“ کہنے سے منع فرمایا تھا اور ہمیں حکم دیا تھا کہ ہم کہیں: ”اللہ تمہارے لیے برکت فرمائے اور تم پر برکت نازل کرے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 14587
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 17، صفحہ 193، حدیث 515