المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند عقيل بن أبي طالب باب: سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 14585
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْبَصْرِيُّ، أنَّهُ سَمِعَ الْحَسَنَ. قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَأَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنِ الْحَسَنِ، يَذْكُرُ عَنْ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي جُشَمٍ فَقِيلَ لَهُ: بِالرِّفَاءِ وَالْبَنِينَ، قَالَ: لَا تَقُولُوا ذَلِكَ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ذَلِكَ وَأَمَرَنَا أَنْ نَقُولَ: «بَارَكَ اللهُ لَكَ وَبَارَكَ عَلَيْكَ»ترجمہ
سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ نے بنو جشم کی ایک عورت سے نکاح کیا تو انہیں کہا گیا: ”مبارک ہو اور بیٹے نصیب ہوں۔“ انہوں نے کہا: یہ مت کہو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا تھا اور ہمیں حکم دیا تھا کہ ہم کہیں: ”اللہ تمہارے لیے برکت فرمائے اور تم پر برکت نازل کرے۔“