کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: خرشہ بن حر کی سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَجَلَسْتُ إِلَى شِيَخَةٍ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ شَيْخٌ يَتَوَكَّأُ عَلَى عَصًا، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ: هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَقَامَ خَلْفَ سَارِيَةٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: زَعَمَ بَعْضُ الْقَوْمِ أَنَّكَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَقَالَ: الْجَنَّةُ لِلَّهِ يُدْخِلُهَا مَنْ يَشَاءُ، وَإِنِّي رَأَيْتُ رُؤْيَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَأَيْتُ كَأَنَّ رَجُلًا أَتَانِي فَقَالَ لِي انْطَلِقْ، فَذَهَبَ بِي فَأَخَذَنِي مَنْهَجًا عَظِيمًا، فَعُرِضَتْ لِي طَرِيقٌ عَنْ يَسَارِي فَأَرَدْتُ أَسْلُكَهَا، فَقَالَ: إِنَّكَ لَسْتَ مِنْ أَهْلِهَا، ثُمَّ عُرِضَتْ لِي طَرِيقٌ أُخْرَى عَنْ يَمِينِي فَسَلَكْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى جَبَلٍ زَلَقٍ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَزَجَّلَ بِي، فَإِذَا أَنَا عَلَى ذِرْوَتِهِ، فَلَمْ أَتَقَارَّ وَلَمْ أَتَمَالَكْ، وَإِذَا أَنَا بِعَمُودٍ فِي أَعْلَاهُ عُرْوَةٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَزَجَّلَ بِي حَتَّى أَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «رَأَيْتُ خَيْرًا، أَمَا الْمَنْهَجُ الْعَظِيمُ فَالْمَحْشَرُ، وَأَمَّا الطَّرِيقُ الَّتِي عُرِضَتْ لَكَ عَنْ يَسَارٍ فَطَرِيقُ أَهْلِ النَّارِ، وَلَسْتَ مِنْ أَهْلِهَا، وَأَمَّا الطَّرِيقُ الَّتِي عُرِضَتْ لَكَ عَنْ يَمِينِكَ فَطَرِيقُ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَمَّا الْجَبَلُ الزَّلَقُ فَمَنْزِلُ الشُّهَدَاءِ، وَأَمَّا الْعُرْوَةُ الَّتِي اسْتَمْسَكْتَ بِهَا فَعُرْوَةُ الْإِسْلَامِ، وَأَنْتَ مُسْتَمْسِكٌ بِهَا إِنْ شَاءَ اللهُ حَتَّى تَمُوتَ، وَأَنَا أَرْجُو أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» . وَهُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ
ترجمہ
… (اس منظر پر) میں قرار نہ پکڑ سکا اور اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا، پھر اچانک میں نے ایک ستون دیکھا جس کے اوپر سونے کا ایک کڑا تھا، تو (کسی نے) میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اوپر اٹھایا یہاں تک کہ میں نے وہ کڑا پکڑ لیا۔ میں نے یہ خواب نبی کریم ﷺ کے سامنے بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے بھلائی دیکھی ہے، وہ بڑا راستہ حشر (کا میدان) ہے، اور بائیں طرف جو راستہ تمہیں دکھایا گیا وہ جہنمیوں کا راستہ ہے، اور تم اس کے اہل میں سے نہیں ہو، اور دائیں طرف جو راستہ تمہیں دکھایا گیا وہ جنتیوں کا راستہ ہے، اور وہ پھسلواں پہاڑ شہداء کی منزل ہے، اور جو کڑا تم نے تھاما وہ اسلام کا مضبوط کڑا ہے، تم اسے تھامے رہو گے، اگر اللہ نے چاہا، یہاں تک کہ تمہاری موت آئے، اور مجھے امید ہے کہ میں جنتیوں میں سے ہوں گا۔“ اور وہ (خواب دیکھنے والے) عبداللہ بن سلام تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا فِي حَلْقَةٍ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ فِيهَا شَيْخٌ حَسَنُ الْهَيْأَةِ، وَهُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ، فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُمْ حَدِيثًا حَسَنًا، فَلَمَّا قَامَ، قَالَ الْقَوْمُ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا، قُلْتُ: وَاللهِ لَأَتَّبِعَنَّهُ فَلَأَعْلَمَنَّ مَكَانَ بَيْتِهِ، قَالَ: فَتَبِعْتُهُ حَتَّى كَادَ أَنْ يَخْرُجَ مِنَ الْمَدِينَةِ، ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَهُ، فَاسْتَأْذَنْتُ فَأَذِنَ لِي، فَقَالَ: مَا حَاجَتُكَ يَا ابْنَ أَخٍ؟، قُلْتُ لَهُ: سَمِعْتُ الْقَوْمَ يَقُولُونَ لَكَ لَمَّا قُمْتَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا، فَأَعْجَبَنِي أَنْ أَكُونَ مَعَكَ، قَالَ: اللهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ، وَسَأُحَدِّثُكَ مِمَّنْ قَالُوا ذَلِكَ؟، بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أَتَانِي آتٍ، فَقَالَ: قُمْ، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَإِذَا أَنَا بِجَوَادٍ عَلَى شِمَالِي، فَذَهَبْتُ لِآخُذَ فِيهَا، فَقَالَ لِي: لِتَأْخُذْ فِيهَا فَإِنَّهَا طَرَفُ أَصْحَابِ الشِّمَالِ، وَإِذَا جَوَادٌ عَلى يَمِينِي فَقَالَ لِي: خُذْ هَهُنَا، فَأَتَيْنَا جَبَلًا، فَقَالَ: اصْعَدْ فَوْقَ هَذَا، فَجَعَلْتُ إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَصْعَدَ خَرَرْتُ عَلَى أُمَّتِي، فَفَعَلْتُ ذَلِكَ مِرَارًا، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتَّى أَتَى بِي عَمُودًا رَأْسُهُ فِي السَّمَاءِ وَأَسْفَلُهُ فِي الْأَرْضِ، فِي أَعْلَاهُ حَلْقَةٌ، فَقَالَ لِي: اصْعَدْ إِلَى فَوْقَ هَذَا، قُلْتُ: كَيْفَ أَصْعَدُ فَوْقَ هَذَا وَرَأْسِي فِي السَّمَاءِ؟، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَزَجَّلَ بِي فَإِذَا أَنَا مُتَعَلِّقٌ بِالْحَلْقَةِ، ثُمَّ صَرْفَ الْعَمُودَ فَخَرَّ وَبَقِيَتُ مُتَعَلِّقًا بِالْحَلْقَةِ حَتَّى الصُّبْحِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ، قَالَ: «أَمَّا الطُّرُقُ الَّتِي رَأَيْتُ عَنْ يَسَارِكَ فَهِيَ طُرُقُ أَصْحَابِ الشِّمَالِ، وَأَمَّا الطُّرُقُ الَّتِي رَأَيْتَ عَنْ يَمِينِكَ فَهِيَ طُرُقُ أَصْحَابِ الْيَمِينِ، وَأَمَّا الْجَبَلُ فَهُوَ مَنْزِلُ الشُّهَدَاءِ وَلَنْ تَنَالَهُ، وَأَمَّا الْعَمُودُ فَهُوَ عَمُودُ الْإِسْلَامِ، وَأَمَّا الْعُرْوَةُ فَهِيَ عُرْوَةُ الْإِسْلَامِ، وَلَنْ تَزَالَ مُتَمَسِّكًا بِهَا حَتَّى تَمُوتَ» . ثُمَّ قَالَ لِي: «أَتَدْرِي كَيْفَ خَلَقَ اللهُ الْخَلْقَ؟» ، قُلْتُ: لَا، قَالَ: " خَلَقَ اللهُ آدَمَ، فَقَالَ: تَلِدُ فُلَانًا، وَيَلِدُ فُلَانٌ فُلَانًا، وَيَلِدُ فُلَانٌ فُلَانًا، وَيَلِدُ فُلَانٌ فُلَانًا أَجَلُهُ كَذَا، وَعَمَلُهُ كَذَا وَكَذَا، وَرِزْقُهُ كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ "
ترجمہ
… پھر (وہ) ستون گر پڑا اور میں صبح تک اس کڑے سے لٹکا رہا، پھر میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو بتایا، یہ خواب آپ کے سامنے بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو راستے تم نے اپنی بائیں طرف دیکھے وہ بائیں ہاتھ والوں کے راستے ہیں، اور جو راستے تم نے اپنی دائیں طرف دیکھے وہ دائیں ہاتھ والوں کے راستے ہیں، اور وہ پہاڑ شہداء کی منزل ہے اور تم اسے کبھی نہیں پا سکو گے، اور وہ ستون اسلام کا ستون ہے، اور وہ کڑا اسلام کا کڑا ہے، تم ہمیشہ اسے تھامے رہو گے یہاں تک کہ تمہاری موت آئے۔“ پھر آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے اللہ نے مخلوق کو کیسے پیدا کیا؟“ میں نے عرض کیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے آدم کو پیدا کیا، پھر فرمایا: تم سے فلاں پیدا ہوگا، اور فلاں سے فلاں پیدا ہوگا، اور فلاں سے فلاں پیدا ہوگا، اور فلاں سے فلاں پیدا ہوگا، اس کی مدتِ زندگی اتنی ہوگی، اس کا عمل ایسا ایسا ہوگا، اور اس کا رزق اتنا ہوگا، پھر اس میں روح پھونکی جائے گی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، قَالَ: «لَا أُحَدِّثُكُمْ إِلَّا عَنْ نَبِيٍّ مُرْسَلٍ أَوْ عَنْ كِتَابٍ مُنَزَّلٍ، إِنَّ عَبْدًا لَوْ أَذْنَبَ كُلَّ ذَنْبٍ، ثُمَّ تَابَ إِلَى اللهِ قَبْلَ مَوْتِهِ بِيَوْمٍ قَبِلَ مِنْهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: میں تمہیں کسی بھیجے گئے نبی یا کسی نازل شدہ کتاب کے حوالے کے بغیر کوئی بات نہیں بتاتا: اگر کوئی بندہ ہر گناہ کر ڈالے، پھر اپنی موت سے ایک دن پہلے اللہ کی طرف توبہ کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَلَامٍ، فَقَالَ: " أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا هُوَ فِي كِتَابِ اللهِ؟، فَذَكَرَ قَوْمًا يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ، يَقُولُ إِبْرَاهِيمُ: يَا رَبِّ حَرَقْتَ بَنِيَّ، فَيَخْرُجُونَ مِنْهَا "
ترجمہ
خرشہ بن حر بیان کرتے ہیں: میں مدینہ آیا تو مجھے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ملے، انہوں نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایک ایسی حدیث نہ سناؤں جو اللہ کی کتاب میں ہے؟ پھر انہوں نے ان لوگوں کا ذکر کیا جو جہنم سے نکالے جائیں گے، ابراہیم علیہ السلام کہیں گے: اے میرے رب! تو نے میری اولاد کو جلا دیا، چنانچہ وہ اس سے نکال لیے جائیں گے۔