کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ابوبردہ بن ابی موسیٰ کی سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ، فَقَالَ: «انْطَلِقْ مَعِي إِلَى الْمَنْزِلِ تُصَلِّي فِي مَسْجِدٍ صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَشْرَبُ فِي قَدَحٍ شَرِبَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ إِلَى مَنْزِلِهِ فَصَلَّيْتُ فِي مَسْجِدِهِ، وَأَطْعَمَنِي تَمْرًا، وَسَقَانِي سَوِيقًا
ترجمہ
ابوبردہ بیان کرتے ہیں: میں مدینہ آیا تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے، انہوں نے فرمایا: ”میرے ساتھ گھر چلو، اس مسجد میں نماز پڑھو گے جس میں رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی تھی، اور اس پیالے میں پیو گے جس میں رسول اللہ ﷺ نے پیا تھا۔“ چنانچہ میں ان کے ساتھ ان کے گھر گیا، ان کی مسجد میں نماز پڑھی، انہوں نے مجھے کھجوریں کھلائیں اور ستو پلایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَجَلَسْتُ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، فَقَالَ: «أَلَا تَنْطَلِقُ إِلَى الْمَنْزِلِ وَتُصَلِّي فِي مَسْجِدٍ صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَشْرَبُ فِي قَدَحٍ شَرِبَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَقَالَ لِي: «إِنَّكَ بِأَرْضٍ فَاشٍ بِهَا الرِّيَاءُ، وَإِنَّ مِنَ الرِّيَاءِ أَنْ يُسَلِّمَ الرَّجُلُ السَّلَامَ فَيُهْدَى لَهُ فَيَقْبَلُهَا»
ترجمہ
ابوبردہ بیان کرتے ہیں: میں مدینہ آیا اور سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھ گیا، انہوں نے فرمایا: ”کیا تم گھر نہیں چلو گے، اس مسجد میں نماز پڑھو گے جس میں رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی تھی، اور اس پیالے میں پیو گے جس میں رسول اللہ ﷺ نے پیا تھا؟“ چنانچہ میں ان کے ساتھ چلا گیا، انہوں نے مجھ سے فرمایا: ”تم ایسی سرزمین میں ہو جہاں ریاکاری عام ہے، اور ریاکاری میں سے یہ بھی ہے کہ آدمی (کسی کو) سلام کرے پھر اسے تحفہ دیا جائے تو وہ اسے قبول کر لے۔“