المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
خرشة بن الحر، عن عبد الله بن سلام باب: خرشہ بن حر کی سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا فِي حَلْقَةٍ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ فِيهَا شَيْخٌ حَسَنُ الْهَيْأَةِ، وَهُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ، فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُمْ حَدِيثًا حَسَنًا، فَلَمَّا قَامَ، قَالَ الْقَوْمُ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا، قُلْتُ: وَاللهِ لَأَتَّبِعَنَّهُ فَلَأَعْلَمَنَّ مَكَانَ بَيْتِهِ، قَالَ: فَتَبِعْتُهُ حَتَّى كَادَ أَنْ يَخْرُجَ مِنَ الْمَدِينَةِ، ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَهُ، فَاسْتَأْذَنْتُ فَأَذِنَ لِي، فَقَالَ: مَا حَاجَتُكَ يَا ابْنَ أَخٍ؟، قُلْتُ لَهُ: سَمِعْتُ الْقَوْمَ يَقُولُونَ لَكَ لَمَّا قُمْتَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا، فَأَعْجَبَنِي أَنْ أَكُونَ مَعَكَ، قَالَ: اللهُ أَعْلَمُ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ، وَسَأُحَدِّثُكَ مِمَّنْ قَالُوا ذَلِكَ؟، بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أَتَانِي آتٍ، فَقَالَ: قُمْ، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَإِذَا أَنَا بِجَوَادٍ عَلَى شِمَالِي، فَذَهَبْتُ لِآخُذَ فِيهَا، فَقَالَ لِي: لِتَأْخُذْ فِيهَا فَإِنَّهَا طَرَفُ أَصْحَابِ الشِّمَالِ، وَإِذَا جَوَادٌ عَلى يَمِينِي فَقَالَ لِي: خُذْ هَهُنَا، فَأَتَيْنَا جَبَلًا، فَقَالَ: اصْعَدْ فَوْقَ هَذَا، فَجَعَلْتُ إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَصْعَدَ خَرَرْتُ عَلَى أُمَّتِي، فَفَعَلْتُ ذَلِكَ مِرَارًا، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتَّى أَتَى بِي عَمُودًا رَأْسُهُ فِي السَّمَاءِ وَأَسْفَلُهُ فِي الْأَرْضِ، فِي أَعْلَاهُ حَلْقَةٌ، فَقَالَ لِي: اصْعَدْ إِلَى فَوْقَ هَذَا، قُلْتُ: كَيْفَ أَصْعَدُ فَوْقَ هَذَا وَرَأْسِي فِي السَّمَاءِ؟، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَزَجَّلَ بِي فَإِذَا أَنَا مُتَعَلِّقٌ بِالْحَلْقَةِ، ثُمَّ صَرْفَ الْعَمُودَ فَخَرَّ وَبَقِيَتُ مُتَعَلِّقًا بِالْحَلْقَةِ حَتَّى الصُّبْحِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ، قَالَ: «أَمَّا الطُّرُقُ الَّتِي رَأَيْتُ عَنْ يَسَارِكَ فَهِيَ طُرُقُ أَصْحَابِ الشِّمَالِ، وَأَمَّا الطُّرُقُ الَّتِي رَأَيْتَ عَنْ يَمِينِكَ فَهِيَ طُرُقُ أَصْحَابِ الْيَمِينِ، وَأَمَّا الْجَبَلُ فَهُوَ مَنْزِلُ الشُّهَدَاءِ وَلَنْ تَنَالَهُ، وَأَمَّا الْعَمُودُ فَهُوَ عَمُودُ الْإِسْلَامِ، وَأَمَّا الْعُرْوَةُ فَهِيَ عُرْوَةُ الْإِسْلَامِ، وَلَنْ تَزَالَ مُتَمَسِّكًا بِهَا حَتَّى تَمُوتَ» . ثُمَّ قَالَ لِي: «أَتَدْرِي كَيْفَ خَلَقَ اللهُ الْخَلْقَ؟» ، قُلْتُ: لَا، قَالَ: " خَلَقَ اللهُ آدَمَ، فَقَالَ: تَلِدُ فُلَانًا، وَيَلِدُ فُلَانٌ فُلَانًا، وَيَلِدُ فُلَانٌ فُلَانًا، وَيَلِدُ فُلَانٌ فُلَانًا أَجَلُهُ كَذَا، وَعَمَلُهُ كَذَا وَكَذَا، وَرِزْقُهُ كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ "خرشہ بن حر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں مدینہ کی مسجد میں ایک حلقے میں بیٹھا تھا جس میں ایک خوبصورت وضع قطع والے بزرگ بھی تھے، اور وہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تھے۔ وہ لوگوں کو ایک اچھی حدیث سنانے لگے، جب وہ کھڑے ہوئے تو لوگوں نے کہا: جسے یہ اچھا لگے کہ وہ کسی جنتی آدمی کو دیکھے تو اس شخص کو دیکھ لے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں ضرور ان کے پیچھے جاؤں گا اور ان کے گھر کا پتہ معلوم کروں گا۔ چنانچہ میں ان کے پیچھے گیا یہاں تک کہ وہ مدینہ سے نکلنے کے قریب پہنچ گئے، پھر اپنے گھر میں داخل ہوئے، میں نے اجازت مانگی تو انہوں نے اجازت دے دی، اور پوچھا: تمہیں کیا ضرورت ہے، اے بھتیجے؟ میں نے ان سے کہا: میں نے لوگوں کو یہ کہتے سنا جب آپ کھڑے ہوئے تھے: جسے یہ اچھا لگے کہ وہ کسی جنتی آدمی کو دیکھے تو اس شخص کو دیکھ لے، تو مجھے یہ پسند آیا کہ میں آپ کے ساتھ رہوں۔ انہوں نے فرمایا: اللہ ہی جنتیوں کو بہتر جانتا ہے، اور میں تمہیں بتاتا ہوں کہ انہوں نے ایسا کیوں کہا: میں سویا ہوا تھا کہ ایک آنے والا میرے پاس آیا اور کہا: اٹھو۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑا، میں اس کے ساتھ چل پڑا، تو دیکھا کہ میری بائیں جانب ایک شاہراہ ہے، میں اس پر چلنے لگا تو اس نے کہا: اس پر مت چلو کیونکہ یہ بائیں والوں کا راستہ ہے، اور میری دائیں جانب ایک شاہراہ تھی، تو اس نے کہا: یہاں سے چلو۔ ہم ایک پہاڑ کے پاس پہنچے، تو اس نے کہا: اس پر چڑھو۔ میں جب بھی چڑھنے کی کوشش کرتا تو اپنی سرین کے بل گر پڑتا، میں نے ایسا کئی بار کیا، پھر وہ مجھے لے کر چلا یہاں تک کہ ایک ایسے ستون کے پاس آیا جس کا سرا آسمان میں اور نچلا حصہ زمین میں تھا، اس کے اوپر ایک حلقہ تھا، تو اس نے کہا: اس کے اوپر چڑھو۔ میں نے کہا: میں اس کے اوپر کیسے چڑھوں جبکہ اس کا سرا آسمان میں ہے؟ اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اچھال دیا تو میں حلقے سے لٹک گیا، پھر اس نے ستون کو ہٹا دیا تو وہ گر گیا اور میں صبح تک حلقے سے لٹکا رہا۔ میں نبی کریم ﷺ کے پاس گیا اور انہیں یہ خواب سنایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ راستے جو تم نے اپنی بائیں جانب دیکھے وہ بائیں والوں کے راستے ہیں، اور جو راستے تم نے اپنی دائیں جانب دیکھے وہ دائیں والوں کے راستے ہیں، اور وہ پہاڑ شہداء کا ٹھکانہ ہے اور تم اسے کبھی نہیں پاؤ گے، اور وہ ستون اسلام کا ستون ہے، اور وہ حلقہ اسلام کا حلقہ ہے، اور تم ہمیشہ اسے تھامے رہو گے یہاں تک کہ تم مر جاؤ۔“ پھر مجھ سے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے اللہ نے مخلوق کو کیسے پیدا کیا؟“ میں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے آدم کو پیدا کیا، پھر فرمایا: تم فلاں کو جنم دو گے، اور فلاں فلاں کو جنم دے گا، اور فلاں فلاں کو جنم دے گا، اور فلاں فلاں کو جنم دے گا، اس کی عمر اتنی ہوگی، اس کا عمل ایسا ایسا ہوگا، اور اس کا رزق ایسا ایسا ہوگا، پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔“