❮
❯
حدیث نمبر: 13990
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَجَلَسْتُ إِلَى شِيَخَةٍ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ شَيْخٌ يَتَوَكَّأُ عَلَى عَصًا، فَقَالَ لَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ: هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَقَامَ خَلْفَ سَارِيَةٍ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: زَعَمَ بَعْضُ الْقَوْمِ أَنَّكَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَقَالَ: الْجَنَّةُ لِلَّهِ يُدْخِلُهَا مَنْ يَشَاءُ، وَإِنِّي رَأَيْتُ رُؤْيَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَأَيْتُ كَأَنَّ رَجُلًا أَتَانِي فَقَالَ لِي انْطَلِقْ، فَذَهَبَ بِي فَأَخَذَنِي مَنْهَجًا عَظِيمًا، فَعُرِضَتْ لِي طَرِيقٌ عَنْ يَسَارِي فَأَرَدْتُ أَسْلُكَهَا، فَقَالَ: إِنَّكَ لَسْتَ مِنْ أَهْلِهَا، ثُمَّ عُرِضَتْ لِي طَرِيقٌ أُخْرَى عَنْ يَمِينِي فَسَلَكْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى جَبَلٍ زَلَقٍ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَزَجَّلَ بِي، فَإِذَا أَنَا عَلَى ذِرْوَتِهِ، فَلَمْ أَتَقَارَّ وَلَمْ أَتَمَالَكْ، وَإِذَا أَنَا بِعَمُودٍ فِي أَعْلَاهُ عُرْوَةٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَزَجَّلَ بِي حَتَّى أَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «رَأَيْتُ خَيْرًا، أَمَا الْمَنْهَجُ الْعَظِيمُ فَالْمَحْشَرُ، وَأَمَّا الطَّرِيقُ الَّتِي عُرِضَتْ لَكَ عَنْ يَسَارٍ فَطَرِيقُ أَهْلِ النَّارِ، وَلَسْتَ مِنْ أَهْلِهَا، وَأَمَّا الطَّرِيقُ الَّتِي عُرِضَتْ لَكَ عَنْ يَمِينِكَ فَطَرِيقُ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَمَّا الْجَبَلُ الزَّلَقُ فَمَنْزِلُ الشُّهَدَاءِ، وَأَمَّا الْعُرْوَةُ الَّتِي اسْتَمْسَكْتَ بِهَا فَعُرْوَةُ الْإِسْلَامِ، وَأَنْتَ مُسْتَمْسِكٌ بِهَا إِنْ شَاءَ اللهُ حَتَّى تَمُوتَ، وَأَنَا أَرْجُو أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» . وَهُوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ
ترجمہ

خرشہ بن حر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں مدینہ آیا اور نبی کریم ﷺ کی مسجد میں ایک بزرگ محفل میں بیٹھ گیا، تو ایک بزرگ آئے جو لاٹھی کا سہارا لے رہے تھے، لوگوں میں سے کسی نے کہا: یہ جنتی آدمی ہیں۔ وہ ایک ستون کے پیچھے کھڑے ہو کر دو رکعتیں پڑھنے لگے، تو میں ان کے پاس گیا اور کہا: بعض لوگوں کا خیال ہے کہ آپ جنتی آدمی ہیں۔ انہوں نے فرمایا: جنت تو اللہ کی ہے، جسے چاہے داخل کرے، اور میں نے نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ایک خواب دیکھا تھا: میں نے دیکھا کہ گویا ایک شخص میرے پاس آیا اور کہا: چلو۔ وہ مجھے لے کر چلا، تو ایک وسیع راستے پر لے آیا، پھر میرے بائیں جانب ایک راستہ سامنے آیا، میں نے اس پر چلنے کا ارادہ کیا تو اس نے کہا: تم اس کے اہل نہیں۔ پھر میرے دائیں جانب ایک اور راستہ سامنے آیا تو میں اس پر چل پڑا یہاں تک کہ ایک پھسلواں پہاڑ پر پہنچا، اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اوپر اچھال دیا، تو میں اس کی چوٹی پر تھا۔ میں نہ ٹھہر سکا اور نہ اپنے آپ پر قابو پا سکا، تو دیکھا کہ ایک ستون ہے جس کی چوٹی پر سونے کا ایک حلقہ ہے، اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اوپر اچھال دیا یہاں تک کہ میں نے حلقہ تھام لیا۔ میں نے یہ خواب نبی کریم ﷺ کو سنایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے بھلائی دیکھی، رہا وہ وسیع راستہ تو وہ محشر ہے، اور جو راستہ بائیں جانب سامنے آیا وہ جہنمیوں کا راستہ ہے، اور تم اس کے اہل نہیں، اور جو راستہ دائیں جانب سامنے آیا وہ جنتیوں کا راستہ ہے، اور وہ پھسلواں پہاڑ شہداء کا ٹھکانہ ہے، اور وہ حلقہ جسے تم نے تھاما وہ اسلام کا حلقہ ہے، اور تم اسے تھامے رہو گے، ان شاءاللہ، یہاں تک کہ تم مر جاؤ، اور مجھے امید ہے کہ میں بھی جنتیوں میں سے ہوں گا۔“ اور وہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تھے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13990
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 13، صفحہ 162، حدیث 393