کتب حدیث › المعجم الكبير للطبراني › ابواب › باب: محمد بن قیس مدنی ابوحازم کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
❮
❯
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَابْلُتِّيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ نَهِيكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسٍ الْمَدَنِيَّ أَبَا حَازِمٍ، يَقُولُ: ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ صَامَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، وَيَوْمَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ تَصَدَّقَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، بِمَا قَلَّ مِنْ مَالِهِ غُفِرَ لَهُ كُلُّ ذَنْبٍ عَمِلَهُ حَتَّى يَصِيرَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ مِنَ الْخَطَايَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو بدھ، جمعرات اور جمعہ کے دن روزہ رکھے، پھر جمعہ کے دن اپنے مال میں سے جتنا کم ہو صدقہ کرے، اس کا ہر گناہ بخش دیا جائے گا یہاں تک کہ وہ گناہوں سے ایسا ہو جائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے آج جنا ہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13251
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 347، حدیث 13308
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَابْلُتِّيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ نَهِيكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسٍ الْمَدَنِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَقَدْ هَبَطَ عَلَيَّ مَلَكٌ مِنَ السَّمَاءِ مَا هَبَطَ عَلَى نَبِيٍّ قَبْلِي، وَلَا يَهْبِطُ عَلَى أَحَدٍ مِنْ بَعْدِي، وَهُوَ إِسْرَافِيلُ وَعِنْدَهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ، ثُمَّ قَالَ: أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ إِلَيْكَ أَمَرَنِي أَنْ أُخْبِرَكَ إِنْ شِئْتَ نَبِيًّا عَبْدًا، وَإِنْ شِئْتَ نَبِيًّا مَلَكًا، فَنَظَرْتُ إِلَى جِبْرِيلَ فَأَوْمَأَ جِبْرِيلُ إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: «نَبِيًّا عَبْدًا» فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنِّي قُلْتُ نَبِيًّا مَلَكًا، ثُمَّ شِئْتُ لَسَارَتِ الْجِبَالُ مَعِيَ ذَهَبًا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”مجھ پر آسمان سے ایک فرشتہ اترا جو مجھ سے پہلے کسی نبی پر نہیں اترا تھا اور نہ میرے بعد کسی پر اترے گا، وہ اسرافیل تھے اور ان کے ساتھ جبریل علیہ السلام تھے۔ انہوں نے کہا: السلام علیک یا محمد! پھر کہا: میں تیرے رب کا قاصد ہوں تیری طرف، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تجھے بتاؤں: اگر تو چاہے تو بندہ نبی بن جا، اور اگر چاہے تو بادشاہ نبی بن جا۔ میں نے جبریل علیہ السلام کی طرف دیکھا تو جبریل نے مجھے اشارہ کیا کہ عاجزی اختیار کرو۔“ نبی کریم ﷺ نے اس پر فرمایا: ”بندہ نبی۔“ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں کہتا: بادشاہ نبی، پھر چاہتا تو پہاڑ میرے ساتھ سونا بن کر چلتے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13252
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 348، حدیث 13309
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَابْلُتِّيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ نَهِيكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: سمعْتُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللهِ مِنْ هَذِهِ السَّخْلَةِ عَلَى أَهْلِهَا، وَلَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ لَمْ يُعْطِهَا إِلَّا أَوْلِيَاءَهُ، وَأَحِبَّاءَهُ مِنْ خَلْقِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ حقیر ہے جتنا بکری کا یہ بچہ اپنے مالکوں کے نزدیک حقیر ہے، اور اگر دنیا اللہ کے نزدیک رائی کے دانے کے برابر بھی ہوتی تو وہ اسے اپنے دوستوں اور اپنی مخلوق میں سے اپنے محبوب بندوں کے سوا کسی کو نہ دیتا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13253
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 348، حدیث 13310
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَابْلُتِّيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ نَهِيكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: سمعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ , لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ الْحَيُّ الَّذِي لَا يَمُوتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا يُرِيدُ بِهَا إِلَّا وَجْهَهُ أَدْخَلَهُ اللهُ بِهَا جَنَّاتِ النَّعِيمِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو یہ کہے: اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کی تعریف ہے، اور وہ زندہ ہے جسے موت نہیں آتی، بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے - اور اس سے صرف اللہ کی رضا چاہے، تو اللہ اسے اس کے ذریعے نعمتوں والی جنتوں میں داخل کرے گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13254
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 349، حدیث 13311