المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يحنس مولى الزبير، عن ابن عمر باب: یحنس، زبیر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام، کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 13250
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ قَطَنِ بْنِ وَهْبٍ أَنَّ يُحَنَّسَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فِي الْفِتْنَةِ فَجَاءَتْهُ مَوْلَاةٌ لَهُ تُسَلِّمُ عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي أَرَدْتُ الْخُرُوجَ، وَاشْتَدَّ عَلَيْنَا الزَّمَانُ، فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: اقْعُدِي لَكَاعِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا، وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلَّا كَانَتْ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ»ترجمہ
…اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! میں نکلنا چاہتی ہوں، اور ہم پر زمانہ سخت ہو گیا ہے۔ تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا: بیٹھی رہو، نادان عورت! میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ”اس (مدینہ) کی مشقت اور سختی پر جو بھی صبر کرے گا، وہ قیامت کے دن اس کے لیے سفارشی یا گواہ بنے گی۔“