المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
محمد بن قيس المدني أبو حازم، عن ابن عمر باب: محمد بن قیس مدنی ابوحازم کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَابْلُتِّيُّ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ نَهِيكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسٍ الْمَدَنِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَقَدْ هَبَطَ عَلَيَّ مَلَكٌ مِنَ السَّمَاءِ مَا هَبَطَ عَلَى نَبِيٍّ قَبْلِي، وَلَا يَهْبِطُ عَلَى أَحَدٍ مِنْ بَعْدِي، وَهُوَ إِسْرَافِيلُ وَعِنْدَهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ، ثُمَّ قَالَ: أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ إِلَيْكَ أَمَرَنِي أَنْ أُخْبِرَكَ إِنْ شِئْتَ نَبِيًّا عَبْدًا، وَإِنْ شِئْتَ نَبِيًّا مَلَكًا، فَنَظَرْتُ إِلَى جِبْرِيلَ فَأَوْمَأَ جِبْرِيلُ إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: «نَبِيًّا عَبْدًا» فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنِّي قُلْتُ نَبِيًّا مَلَكًا، ثُمَّ شِئْتُ لَسَارَتِ الْجِبَالُ مَعِيَ ذَهَبًا»سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”مجھ پر آسمان سے ایک فرشتہ اترا جو مجھ سے پہلے کسی نبی پر نہیں اترا تھا اور نہ میرے بعد کسی پر اترے گا، وہ اسرافیل تھے اور ان کے ساتھ جبریل علیہ السلام تھے۔ انہوں نے کہا: السلام علیک یا محمد! پھر کہا: میں تیرے رب کا قاصد ہوں تیری طرف، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تجھے بتاؤں: اگر تو چاہے تو بندہ نبی بن جا، اور اگر چاہے تو بادشاہ نبی بن جا۔ میں نے جبریل علیہ السلام کی طرف دیکھا تو جبریل نے مجھے اشارہ کیا کہ عاجزی اختیار کرو۔“ نبی کریم ﷺ نے اس پر فرمایا: ”بندہ نبی۔“ پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں کہتا: بادشاہ نبی، پھر چاہتا تو پہاڑ میرے ساتھ سونا بن کر چلتے۔“