حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّمَا النَّاسُ كَالْإِبِلِ الْمِائَةِ لَا تَكَادُ تَجِدُ فِيهَا رَاحِلَةً»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ اونٹوں کے سو کے ریوڑ کی طرح ہیں، جن میں تمہیں سواری کے قابل اونٹ مشکل سے ملتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ السَّالِمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ الْأَعْشَى، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، وَمُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلال رات کو اذان دیتے ہیں، سو تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دیں۔“
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ أَحْمَدَ الْفَوْزِيُّ الْحِمْصِيُّ، ثنا جَدِّي خَطَّابُ بْنُ عُثْمَانَ الْفَوْزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ فِي السَّفَرِ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى جَمَعَ بَيْنَهَا، وَبَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب سفر میں چلنا مشکل ہو جاتا تو آپ ﷺ مغرب کو مؤخر کر دیتے یہاں تک کہ اسے عشاء کی نماز کے ساتھ جمع کر لیتے۔
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ أَحْمَدَ الْفَوْزِيُّ الْحِمْصِيُّ، ثنا جَدِّي خَطَّابُ بْنُ عُثْمَانَ الْفَوْزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ فَاتَتْهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَكَأَنَّمَا، وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کی عصر کی نماز فوت ہو گئی، گویا اس کے گھر والے اور مال اس سے چھین لیے گئے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَرَضَ فِي الْبَعْلِ وَفِيمَا سَقَتِ الْأَنْهَارُ الْعُشُورَ، وَمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفَ الْعَشْرِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بارانی زمین اور نہروں سے سیراب ہونے والی پیداوار میں عشر (دسواں حصہ)، اور ڈول سے سینچی جانے والی پیداوار میں نصف عشر (بیسواں حصہ) مقرر فرمایا۔
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْرَقُ، ثنا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ فِي آخِرِ حَيَاتِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: «أَرَأَيْتُكُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ، فَإِنَّ رَأْسَ مِائَةٍ لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ عَلَى الْأَرْضِ أَحَدٌ»
ترجمہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری دور میں عشاء کی نماز پڑھائی، جب سلام پھیرا تو فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے اپنی اس رات کے بارے میں؟ سو سال کے سر پر آج زمین پر موجود لوگوں میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔“
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ أَحْمَدَ الْفَوْزِيُّ الْحِمْصِيُّ، ثنا جَدِّي خَطَّابُ بْنُ عُثْمَانَ الْفَوْزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ افْتَتَحَ التَّكْبِيرَ فِي الصَّلَاةِ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى جَعَلَهُمَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ إِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ» ، ثُمَّ قَالَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے نماز میں تکبیر کہی تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر تک اٹھائے، پھر جب رکوع کے لیے تکبیر کہی تو ایسا ہی کیا۔“ پھر آپ ﷺ نے ”سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ کہا اور ایسا ہی کیا، پھر ”رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ“ کہا اور ایسا ہی کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَيْوِيلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَانَ إِذَا كَبَّرَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حِذَاءَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ» ، وَإِذَا قَالَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» قَالَ: «رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ، وَلَا يَفْعَلُ فِي السُّجُودِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز میں تکبیر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھاتے، اور جب رکوع کرتے تو ایسا ہی کرتے، اور جب سر اٹھاتے تو ایسا ہی کرتے، اور جب ”سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ کہتے تو ”رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ“ کہتے اور ایسا ہی کرتے، اور سجدے میں ایسا نہیں کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ سُفْيَانَ الرَّقِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ قُسْطٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ، ثُمَّ يَقُولُ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ: «اللهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ، وَيَسْجُدُ» حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ} [آل عمران: ١٢٨]
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ”سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ“ کہتے، پھر سجدہ کرنے سے پہلے فرماتے: ”اے اللہ! فلاں فلاں پر لعنت فرما،“ پھر تکبیر کہتے اور سجدہ کرتے، یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”آپ کو اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں“ [سورۃ آل عمران: 128]۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ سُفْيَانَ الرَّقِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ قُسْطٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةً، وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَى مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ، ثُمَّ انْصَرَفُوا وَقَامُوا فِي مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ مُقْبِلِينَ عَلَى الْعَدُوِّ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَضَى هَؤُلَاءِ رَكْعَةً وَهَؤُلَاءِ رَكْعَةً»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے صلاۃ الخوف پڑھائی، دو گروہوں میں سے ایک کو ایک رکعت پڑھائی جبکہ دوسرا گروہ دشمن کے سامنے موجود رہا، پھر وہ پلٹے اور اپنے ساتھیوں کی جگہ دشمن کی طرف منہ کیے کھڑے ہو گئے، اور وہ (دوسرے) آ گئے تو نبی کریم ﷺ نے انہیں ایک رکعت پڑھائی، پھر آپ ﷺ نے سلام پھیرا، پھر ان لوگوں نے اپنی ایک رکعت پوری کی اور ان لوگوں نے اپنی ایک رکعت پوری کی۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ صَلَّاهَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے، انہوں نے یہ نماز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ادا کی تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو چیز آگ پر پکی ہو اس (کے کھانے) سے وضو کرو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اپنی شرمگاہ کو چھوئے وہ وضو کرے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْظُرَ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ أَخِيهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے آدمی کو اپنے بھائی کی شرمگاہ کی طرف دیکھنے سے منع فرمایا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَى أَنْ يُصَلَّى عَلَى قَارِعَةِ الطَّرِيقِ أَوْ يُضْرَبَ فِيهَا الْخَلَاءُ أَوْ يُبَالَ فِيهَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے راستے کے درمیان نماز پڑھنے، یا وہاں رفع حاجت کرنے، یا پیشاب کرنے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنْ قُرَّةَ، وَعُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ تم میں سے ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگے۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَبُو صَالِحٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةُ الْقَاعِدِ مِثْلُ نِصْفِ صَلَاةِ الْقَائِمِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کی نماز کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی نماز کے نصف کے برابر ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعٍ الْمِصْرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالُوا: ثنا أَبُو مُصْعَبٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ، عَنِ ابْنِ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَانَ يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، وَقُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ "
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ فجر کی دو رکعتوں میں سورۃ الکافرون اور سورۃ الاخلاص پڑھا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: «لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا أَبُو بَكْرٍ، وَلَا عُمَرُ يَلْبَسُونَ الْخَوَاتِمَ، وَلَا يَطْبَعُونَ كِتَابًا» حَتَّى كَتَبَهُ زِيَادُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، إِنَّكَ تَكْتُبُ إِلَيْنَا بِأَشْيَاءَ لَيْسَتْ لَهَا طَوَابِعُ , فَاتَّخَذَ عِنْدَ ذَلِكَ خَاتَمًا فَطُبِعَ بِهِ
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”نہ رسول اللہ ﷺ، نہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور نہ عمر رضی اللہ عنہ انگوٹھیاں پہنتے تھے، اور نہ کسی خط پر مہر لگاتے تھے،“ یہاں تک کہ زیاد بن ابی سفیان نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا: آپ ہمیں ایسی چیزیں لکھ بھیجتے ہیں جن پر مہریں نہیں ہوتیں۔ تو انہوں نے اس پر ایک مہر بنوا لی اور اسی سے مہر لگانے لگے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا حَبِيبٌ كَاتَبُ مَالِكٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَفِظَنِي فِي أَصْحَابِي وَرَدَ عَلَيَّ حَوْضِي، وَمَنْ لَمْ يَحْفَظْنِي فِي أَصْحَابِي لَمْ يَرَنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا مِنْ بَعِيدٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے میرے صحابہ کے بارے میں میری حرمت کا خیال رکھا وہ میرے حوض پر آئے گا، اور جس نے میرے صحابہ کے بارے میں میری حرمت کا خیال نہ رکھا وہ قیامت کے دن مجھے دور ہی سے دیکھے گا۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى يَبْدُوَ يَصْفَرَّ أَوْ يَحْمَرَّ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے پھلوں کو زرد یا سرخ ہونے سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عُمَرَ قَمِيصًا أَبْيَضَ , فَقَالَ: «أَجَدِيدٌ قَمِيصُكَ هَذَا أَمْ غَسِيلٌ؟» قَالَ: بَلْ غَسِيلٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَسْ جَدِيدًا، وَعِشْ حَمِيدًا، وَمُتْ شَهِيدًا، وَيَرْزُقُكُ اللهُ قُرَّةَ عَيْنٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» قَالَ: وَإِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللهِ
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے عمر رضی اللہ عنہ کو سفید قمیص پہنے دیکھا تو پوچھا: ”کیا یہ تمہاری قمیص نئی ہے یا دھلی ہوئی؟“ انہوں نے کہا: بلکہ دھلی ہوئی ہے۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”نئی پہنو، تعریف کے ساتھ جیو، اور شہید ہو کر مرو، اور اللہ تمہیں دنیا اور آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرمائے۔“ انہوں نے عرض کیا: اور آپ کو بھی، یا رسول اللہ!
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ تَمِيمٍ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ فِي السَّفَرِ يُؤَخِّرُ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا، وَبَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب سفر میں چلنا آپ ﷺ کے لیے جلدی کا باعث ہوتا تو مغرب کی نماز کو مؤخر کر دیتے یہاں تک کہ اسے عشاء کی نماز کے ساتھ جمع کر لیتے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ تَمِيمٍ، ثنا الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسَبِّحُ وَهُوَ عَلَى دَابَّتِهِ لَا يُبَالِي حَيْثُ كَانَ وَجْهُهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: ”رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر (نفلی) نماز پڑھتے، اس کی پروا کیے بغیر کہ ان کا رخ کس طرف ہے۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ حَيَّانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ بَاعَ نَخْلًا بَعْدَ أَنْ يُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلَّذِي بَاعَهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ، وَمَنْ بَاعَ عَبْدًا، وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلَّذِي بَاعَهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کھجور کے درخت پیوند لگنے کے بعد بیچے تو اس کا پھل بیچنے والے کا ہے، الا یہ کہ خریدار شرط لگا لے، اور جو غلام بیچے اور اس کے پاس مال ہو تو اس کا مال بیچنے والے کا ہے، الا یہ کہ خریدار شرط لگا لے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ، أنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " كُنَّا نَقُولُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ "
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں (افضلیت کے اعتبار سے) کہا کرتے تھے: ابوبکر، پھر عمر، پھر عثمان رضی اللہ عنہم۔“
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ وَثِيمَةَ بْنِ مُوسَى بْنِ الْفُرَاتِ أَبُو رِفَاعَةَ الْمِصْرِيُّ، قَالَ: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ زِبْرِيقَ الْحِمْصِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ: أَفْضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَيَسْمَعُ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا يُنْكِرُهُ "
«مَا نَعْلَمُ عُثْمَانَ جَاءَ بِشَيْءٍ مِنَ الْكَبَائِرِ، وَلَا قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ حِلِّهَا، وَلَكِنَّهُ هَذَا الْمَالُ إِنْ أَعْطَاكُمُوهُ رَضِيتُمْ، وَإِنْ أَعْطَى قُرَيْشًا سَخِطْتُمْ، إِنَّمَا تُرِيدُونَ أَنْ تَكُونُوا كَفَارِسَ أَوِ الرُّومِ لَا يَتْرُكُونَ لَهُمْ أَمِيرًا إِلَّا قَتَلُوهُ»
«مَا نَعْلَمُ عُثْمَانَ جَاءَ بِشَيْءٍ مِنَ الْكَبَائِرِ، وَلَا قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ حِلِّهَا، وَلَكِنَّهُ هَذَا الْمَالُ إِنْ أَعْطَاكُمُوهُ رَضِيتُمْ، وَإِنْ أَعْطَى قُرَيْشًا سَخِطْتُمْ، إِنَّمَا تُرِيدُونَ أَنْ تَكُونُوا كَفَارِسَ أَوِ الرُّومِ لَا يَتْرُكُونَ لَهُمْ أَمِيرًا إِلَّا قَتَلُوهُ»
ترجمہ
…ہم اس وقت کہا کرتے تھے جب رسول اللہ ﷺ حیات تھے: اس امت میں اپنے نبی کے بعد سب سے افضل ابوبکر ہیں، پھر عمر، پھر عثمان رضی اللہ عنہم، اور نبی کریم ﷺ یہ سنتے تھے اور اس پر انکار نہیں فرماتے تھے۔
”ہم نہیں جانتے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے کوئی کبیرہ گناہ کیا ہو، اور نہ کسی جان کو ناحق قتل کیا ہو، لیکن یہ مال، اگر وہ تمہیں دیں تو تم راضی ہو جاتے ہو، اور اگر قریش کو دیں تو تم ناراض ہو جاتے ہو۔ تم تو یہ چاہتے ہو کہ فارس یا روم کی طرح بن جاؤ، جو اپنے کسی حکمران کو باقی نہیں چھوڑتے مگر اسے قتل کر دیتے ہیں۔“
”ہم نہیں جانتے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے کوئی کبیرہ گناہ کیا ہو، اور نہ کسی جان کو ناحق قتل کیا ہو، لیکن یہ مال، اگر وہ تمہیں دیں تو تم راضی ہو جاتے ہو، اور اگر قریش کو دیں تو تم ناراض ہو جاتے ہو۔ تم تو یہ چاہتے ہو کہ فارس یا روم کی طرح بن جاؤ، جو اپنے کسی حکمران کو باقی نہیں چھوڑتے مگر اسے قتل کر دیتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى ابْنِ جُرَيْجٍ، ثنا زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ: «كَانَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيِ الْجِنَازَةِ وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ يَمْشُونَ أَمَامَهَا» ، «قَالَ أَبِي هَذَا الْحَدِيثَ» وَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِنَّمَا هُوَ عَنِ الزُّهْرِيِّ مُرْسَلٌ، وَحَدِيثُ سَالِمٍ فَعَلَ ابْنُ عُمَرَ، وَحَدِيثُ ابْنُ عُيَيْنَةَ كَأَنَّهُ وَهِمَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ جنازے کے آگے چلتے تھے، اور رسول اللہ ﷺ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی اس کے آگے چلتے تھے۔
(امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں: یہ زہری سے مرسل ہے، جبکہ سالم کی روایت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اپنے عمل پر مبنی ہے، اور ابن عیینہ کی روایت میں گویا وہم ہوا ہے۔)
(امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں: یہ زہری سے مرسل ہے، جبکہ سالم کی روایت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اپنے عمل پر مبنی ہے، اور ابن عیینہ کی روایت میں گویا وہم ہوا ہے۔)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ كَانُوا يَمْشُونَ أَمَامَ الْجِنَازَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”نبی کریم ﷺ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما جنازے کے آگے چلتے تھے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ وَيُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ يَمْشُونَ أَمَامَ الْجِنَازَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”میں نے نبی کریم ﷺ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو جنازے کے آگے چلتے دیکھا۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ أَبِي عَتِيقٍ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَمْشِي أَمَامَ الْجِنَازَةِ، وَقَالَ: «قَدْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَمْشِي بَيْنَ يَدَيْهَا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جنازے کے آگے چلتے تھے اور فرماتے: ”رسول اللہ ﷺ اس کے آگے چلتے تھے، اور ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی۔“
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ، وَلَا يُسْلِمُهُ، مَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللهُ فِي حَاجَتِهِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فِي الدُّنْيَا، فَرَّجَ اللهُ عَنْهُ بِهَا كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بےیار و مددگار چھوڑتا ہے۔ جو شخص اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا رہے، اللہ اس کی حاجت پوری کرنے میں لگا رہتا ہے، اور جو کسی مسلمان کی دنیا کی کوئی مشکل دور کرے، اللہ اس کی وجہ سے قیامت کے دن کی مشکلات میں سے ایک مشکل اس سے دور کر دے گا، اور جو کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے، اللہ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ»
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الصَّائِغُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَرْفَعُوا أَبْصَارَكُمْ إِلَى السَّمَاءِ فَتْلَتَمِعَ - يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ -»
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الصَّائِغُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَرْفَعُوا أَبْصَارَكُمْ إِلَى السَّمَاءِ فَتْلَتَمِعَ - يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ -»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن ایک ہی بل سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔“
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی نگاہیں آسمان کی طرف نہ اٹھاؤ، ورنہ وہ اچک لی جائے گی“ - یعنی نماز میں۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی نگاہیں آسمان کی طرف نہ اٹھاؤ، ورنہ وہ اچک لی جائے گی“ - یعنی نماز میں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَشَارَ الْمُسْلِمِينَ فِيمَا يَجْمَعُهُمْ فِي الصَّلَاةِ "، فَقَالُوا: الْبُوقُ فَكَرِهَهُ مِنْ أَجْلِ الْيَهُودِ، ثُمَّ ذُكِرَ النَّاقُوسُ فَكَرِهَهُ مِنْ أَجْلِ النَّصَارَى، فَأُرِيَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ النِّدَاءَ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَطَرَقَ الْأَنْصَارِيُّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا «فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَذَّنَ بِهِ»
ترجمہ
…اس رات اذان کا خواب عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ، جو انصار میں سے ایک صحابی تھے، اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ دونوں کو دکھایا گیا۔ انصاری صحابی رات کو رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو رسول اللہ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور انہوں نے اسی کے مطابق اذان دی۔
حَدَّثَنَا أَبُو شُبَيْلٍ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَاقِدٍ، ثنا أَبِي، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَرْقَمَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَرَأَ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ سُورَةً، أَقْرَأَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَا يَقْرَآنِ بِهِمَا، فَقَامَا ذَاتَ لَيْلَةٍ يُصَلِّيَانِ فَلَمْ يَقْدِرَا مِنْهَا عَلَى حَرْفٍ، فَأَصْبَحَا غَادِيَيْنِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَا لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا مِمَّا نُسِخَ وَأُنْسِيَ، فَالْهَوْا عَنْهَا» فَكَانَ الزُّهْرِيُّ يَقْرَؤُهَا، {مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا} [البقرة: ١٠٦] بِضَمِّ النُّونِ خَفِيفَةً "
ترجمہ
…وہ دونوں ایک رات نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو اس (سورت) کا ایک لفظ بھی یاد نہ کر سکے، صبح ہوتے ہی دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ان (آیات) میں سے ہے جو منسوخ کر کے بھلا دی گئیں، سو اسے چھوڑ دو۔“ زہری اسے ”مَا نَنْسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنْسِهَا“ نون پر ضمہ کے ساتھ ہلکا پڑھتے تھے [سورۃ البقرہ: 106]۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَتْ أَكْثَرُ أَيْمَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا وَمُصَرِّفِ الْقُلُوبِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ کی اکثر قسم یہ ہوتی تھی: ”نہیں، دلوں کو پھیرنے والے (اللہ) کی قسم۔“
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى بْنِ بِنْتِ دَاوُدَ أَبِي هِنْدَ، ثنا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «مَا حُمِلَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسٌ قَطُّ، وَلَا يَوْمَ بَدْرٍ إِلَى الْمَدِينَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ کی طرف کبھی کوئی (کٹا ہوا) سر نہیں لایا گیا، بدر کے دن بھی مدینہ کی طرف نہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَرَ بِحَدِّ الشِّفَارِ، وَأَنْ يُوَارَى عَنِ الْبَهَائِمِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے چھری تیز کرنے اور اسے (ذبح کے وقت) جانوروں کی نظروں سے چھپانے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زِمَامٍ الْعَلَّافُ، ثنا مَيْمُونُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ: سُئِلَ عَنِ الْمُتْعَةِ فَقَالَ: حَرَامٌ فَقِيلَ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ لَا يَرَى بِهَا بَأْسًا فَقَالَ: أَمَا وَاللهِ لَقَدْ عَلِمَ ابْنُ عَبَّاسٍ «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا يَوْمَ حُنَيْنٍ وَمَا كُنَّا مُسَافِحِينَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے متعہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: حرام ہے۔ کہا گیا: ابن عباس رضی اللہ عنہما تو اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ تو انہوں نے فرمایا: ”سن لو! اللہ کی قسم، ابن عباس کو خوب معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حنین کے دن اس سے منع فرما دیا تھا، اور ہم بدکار نہیں تھے۔“
…