المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سالم عن ابن عمر باب: سالم کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 13068
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: «لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا أَبُو بَكْرٍ، وَلَا عُمَرُ يَلْبَسُونَ الْخَوَاتِمَ، وَلَا يَطْبَعُونَ كِتَابًا» حَتَّى كَتَبَهُ زِيَادُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، إِنَّكَ تَكْتُبُ إِلَيْنَا بِأَشْيَاءَ لَيْسَتْ لَهَا طَوَابِعُ , فَاتَّخَذَ عِنْدَ ذَلِكَ خَاتَمًا فَطُبِعَ بِهِترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”نہ رسول اللہ ﷺ، نہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور نہ عمر رضی اللہ عنہ انگوٹھیاں پہنتے تھے، اور نہ کسی خط پر مہر لگاتے تھے،“ یہاں تک کہ زیاد بن ابی سفیان نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو لکھا: آپ ہمیں ایسی چیزیں لکھ بھیجتے ہیں جن پر مہریں نہیں ہوتیں۔ تو انہوں نے اس پر ایک مہر بنوا لی اور اسی سے مہر لگانے لگے۔