المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سالم عن ابن عمر باب: سالم کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 13083
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَشَارَ الْمُسْلِمِينَ فِيمَا يَجْمَعُهُمْ فِي الصَّلَاةِ "، فَقَالُوا: الْبُوقُ فَكَرِهَهُ مِنْ أَجْلِ الْيَهُودِ، ثُمَّ ذُكِرَ النَّاقُوسُ فَكَرِهَهُ مِنْ أَجْلِ النَّصَارَى، فَأُرِيَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ النِّدَاءَ عَبْدُ اللهِ بْنُ زَيْدٍ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَطَرَقَ الْأَنْصَارِيُّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا «فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَذَّنَ بِهِ»ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں سے مشورہ کیا کہ نماز کے لیے انہیں کس چیز سے جمع کیا جائے۔ لوگوں نے کہا: نرسنگا۔ آپ ﷺ نے یہودیوں سے مشابہت کی وجہ سے اسے ناپسند فرمایا۔ پھر ناقوس کا ذکر ہوا تو آپ ﷺ نے نصاریٰ سے مشابہت کی وجہ سے اسے بھی ناپسند فرمایا۔ چنانچہ اسی رات عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ، جو انصار میں سے ایک صحابی تھے، اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ - دونوں کو اذان کا خواب دکھایا گیا۔ انصاری صحابی رات ہی کو رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، تو ”رسول اللہ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور انہوں نے اذان دی۔“