المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سالم عن ابن عمر باب: سالم کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 13076
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ وَثِيمَةَ بْنِ مُوسَى بْنِ الْفُرَاتِ أَبُو رِفَاعَةَ الْمِصْرِيُّ، قَالَ: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ زِبْرِيقَ الْحِمْصِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ: أَفْضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَيَسْمَعُ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا يُنْكِرُهُ "
«مَا نَعْلَمُ عُثْمَانَ جَاءَ بِشَيْءٍ مِنَ الْكَبَائِرِ، وَلَا قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ حِلِّهَا، وَلَكِنَّهُ هَذَا الْمَالُ إِنْ أَعْطَاكُمُوهُ رَضِيتُمْ، وَإِنْ أَعْطَى قُرَيْشًا سَخِطْتُمْ، إِنَّمَا تُرِيدُونَ أَنْ تَكُونُوا كَفَارِسَ أَوِ الرُّومِ لَا يَتْرُكُونَ لَهُمْ أَمِيرًا إِلَّا قَتَلُوهُ»ترجمہ
…ہم اس وقت کہا کرتے تھے جب رسول اللہ ﷺ حیات تھے: اس امت میں اپنے نبی کے بعد سب سے افضل ابوبکر ہیں، پھر عمر، پھر عثمان رضی اللہ عنہم، اور نبی کریم ﷺ یہ سنتے تھے اور اس پر انکار نہیں فرماتے تھے۔
”ہم نہیں جانتے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے کوئی کبیرہ گناہ کیا ہو، اور نہ کسی جان کو ناحق قتل کیا ہو، لیکن یہ مال، اگر وہ تمہیں دیں تو تم راضی ہو جاتے ہو، اور اگر قریش کو دیں تو تم ناراض ہو جاتے ہو۔ تم تو یہ چاہتے ہو کہ فارس یا روم کی طرح بن جاؤ، جو اپنے کسی حکمران کو باقی نہیں چھوڑتے مگر اسے قتل کر دیتے ہیں۔“