المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سالم عن ابن عمر باب: سالم کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 13071
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عُمَرَ قَمِيصًا أَبْيَضَ , فَقَالَ: «أَجَدِيدٌ قَمِيصُكَ هَذَا أَمْ غَسِيلٌ؟» قَالَ: بَلْ غَسِيلٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَسْ جَدِيدًا، وَعِشْ حَمِيدًا، وَمُتْ شَهِيدًا، وَيَرْزُقُكُ اللهُ قُرَّةَ عَيْنٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» قَالَ: وَإِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللهِترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے عمر رضی اللہ عنہ کو سفید قمیص پہنے دیکھا تو پوچھا: ”کیا یہ تمہاری قمیص نئی ہے یا دھلی ہوئی؟“ انہوں نے کہا: بلکہ دھلی ہوئی ہے۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”نئی پہنو، تعریف کے ساتھ جیو، اور شہید ہو کر مرو، اور اللہ تمہیں دنیا اور آخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرمائے۔“ انہوں نے عرض کیا: اور آپ کو بھی، یا رسول اللہ!