حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ: «رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْبَعِيرِ حَيْثُ تَوَجَّهَ بِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اونٹ پر، وہ جس طرف بھی رخ کرتا، نماز پڑھتے دیکھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَسْوَدِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ تَصَدَّقَ عَلَى رَجُلٍ بِفَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللهِ فَوَجَدَهُ عُمَرُ يَبِيعُهَا، فَأَتَى إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى فُلَانٍ بِفَرَسٍ، وَإِنِّي وَجَدْتُهُ يَبِيعُهَا أَفَأَشْتَرِيهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَشْتَرِهَا، وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ»
ترجمہ
…پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے فلاں کو ایک گھوڑا صدقہ دیا تھا، اور اب میں نے دیکھا ہے کہ وہ اسے بیچ رہا ہے، کیا میں اسے خرید لوں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے مت خریدو، اور اپنے صدقے کی طرف واپس نہ لوٹو۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعٍ الطَّحَّانُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ بْنُ السَّرْحِ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ خَالِي، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ: سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَفَاتِحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ» ثُمَّ يَتْلُو هَذِهِ الْآيَةَ: {إِنَّ اللهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} [لقمان: ٣٤]
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”غیب کی کنجیاں پانچ ہیں،“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ”بےشک اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، اور وہی بارش برساتا ہے، اور وہی جانتا ہے جو رحموں میں ہے، اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا، اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا، بےشک اللہ خوب جاننے والا خبر رکھنے والا ہے“ [سورۃ لقمان: 34]۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ نَاسًا أَغَارُوا عَلَى إِبِلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَاقُوهَا، وَارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ، وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤْمِنًا، «فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آثَارِهِمْ، فَأُخِذُوا فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ» يُقَالُ هَذَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، وَيُقَالُ: عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، وَاللهُ أَعْلَمُ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے نبی کریم ﷺ کے اونٹوں پر چھاپہ مار کر انہیں ہانک لے گئے، اور اسلام سے مرتد ہو گئے، اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے مومن چرواہے کو قتل کر دیا۔ تو نبی کریم ﷺ نے ان کے تعاقب میں (لوگوں کو) بھیجا، انہیں پکڑ لیا گیا تو آپ ﷺ نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے، اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں۔
(کہا جاتا ہے کہ یہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر ہیں، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ ہیں، واللہ اعلم)
(کہا جاتا ہے کہ یہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر ہیں، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ ہیں، واللہ اعلم)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ، ثنا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «إِنَّمَا سَمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيُنَ الْعِرْنِينَ لِأَنَّهُمْ سَمَلُوا أَعْيُنَ الرُّعَاةِ»
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”نبی کریم ﷺ نے عرنیین کی آنکھیں صرف اس لیے پھوڑیں کیونکہ انہوں نے چرواہوں کی آنکھیں پھوڑی تھیں۔“