کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: عطیہ عوفی کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَيْفَ أَنْعَمُ وَقَدِ الْتَقَمَ صَاحِبُ الْقَرْنِ الْقَرْنَ؟» وَحَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَبْهَتَهُ «يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ فَيَنْفُخُ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ , فَكَيْفَ نَقُولُ؟ قَالَ: {حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ} [آل عمران: ١٧٣] ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ} [المدثر: ٨]
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں کیسے آرام کروں جبکہ صور والا صور کو اپنے منہ میں لے چکا ہے؟“ اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی پیشانی جھکائی، آپ ﷺ اس انتظار میں تھے کہ کب حکم ملے اور وہ پھونک ماریں۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! تو ہم کیا کہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے“ [آل عمران: 173]۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ”تو جب صور میں پھونک ماری جائے“ [المدثر: 8]۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَسْبَاطٌ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: {فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ} [المدثر: ٨] قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدِ الْتَقَمَ الْقَرْنَ؟» وَحَنَا جَبْهَتَهُ «يَسْتَمِعُ مَتَى يُؤْمَرُ؟» , فَقَالَ أَصْحَابُهُ: فَكَيْفَ نَقُولُ؟ قَالَ: «قُولُوا حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”تو جب صور میں پھونک ماری جائے“ [المدثر: 8] کے بارے میں فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں کیسے آرام کروں جبکہ صور والا صور کو منہ میں لے چکا ہے؟“ اور آپ ﷺ نے اپنی پیشانی جھکائی، سن رہے تھے کہ کب حکم ملے۔ صحابہ نے عرض کیا: تو ہم کیا کہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہو: ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ سَابُورَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، {وَلَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ} [المدثر: ٦] قَالَ: «لَا تُعْطِي الرَّجُلَ عَطَاءً رَجَاءَ أَنْ يُعْطِيَكَ أَكْثَرَ مِنْهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”اور زیادہ حاصل کرنے کی نیت سے احسان مت جتاؤ“ [المدثر: 6] کے بارے میں فرماتے ہیں: ”یعنی کسی کو کچھ اس امید پر مت دو کہ وہ تمہیں اس سے زیادہ دے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ الْخُوَارِزْمِيُّ، ثنا سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْإِمَاءِ» قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: وَلِمَ نَهَى عَنْهِ؟ قَالَ: «مَخَافَةَ أَنْ يَعْجِزْنَ فَتُعْجَزْنَ»
ترجمہ
عطیہ عوفی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے سنا: ”رسول اللہ ﷺ نے باندیوں کی (بدکاری کی) کمائی سے منع فرمایا۔“ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ ﷺ نے اس سے کیوں منع فرمایا؟ انہوں نے فرمایا: ”اس خدشے سے کہ وہ (کمانے سے) عاجز آ جائیں تو (بدکاری پر) مجبور کی جائیں۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الْمِصِّيصِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ مُبَشِّرِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَرْكَعُ قَبْلَ الْجُمُعَةِ أَرْبَعًا، وَبَعْدَهَا أَرْبَعًا لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ سے پہلے چار رکعتیں اور اس کے بعد چار رکعتیں پڑھتے، ان کے درمیان کوئی سلام نہ پھیرتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ طَارِقٍ الْوَابِشِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخْرَجَهُ إِلَى بَدْرٍ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ وَعَدَنِي بَدْرًا، وَأَنْ يُغْنِمَنِي عَسْكَرَهُمْ، وَمَنْ قَتَلَ قَتِيلًا فَلَهُ كَذَا وَكَذَا مِنْ غَنَائِمِهِمْ إِنْ شَاءَ اللهُ، وَمَنْ أَسَرَ أَسِيرًا فَلَهُ كَذَا وَكَذَا مِنْ غَنَائِمِهِمْ إِنْ شَاءَ اللهُ» فَلَمَّا تَوَافَقُوا قَذَفَ اللهُ فِي قُلُوبِ الْمُشْرِكِينَ الرُّعْبَ، فَلَمَّا اقْتَتَلُوا هَزَمَهُمُ اللهُ , فَاتَّبَعَهُمْ سَرَعَانُ النَّاسِ فَقَتَلُوا سَبْعِينَ، وَأَسَرُوا سَبْعِينَ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کی طرف نکلتے وقت فرمایا: ”اللہ عزوجل نے مجھ سے بدر (میں فتح) کا اور ان کے لشکر کو مالِ غنیمت بنانے کا وعدہ فرمایا ہے، اور جو کوئی ایک آدمی کو قتل کرے تو اسے ان کے مالِ غنیمت میں سے اتنا اتنا ملے گا، اگر اللہ نے چاہا، اور جو کوئی ایک آدمی کو قید کرے تو اسے ان کے مالِ غنیمت میں سے اتنا اتنا ملے گا، اگر اللہ نے چاہا۔“ جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو اللہ نے مشرکین کے دلوں میں رعب ڈال دیا، پھر جب لڑائی ہوئی تو اللہ نے انہیں شکست دی، تو تیز رفتار لوگوں نے ان کا تعاقب کیا، ستر کو قتل کیا اور ستر کو قید کیا۔