کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: ابونصر اسدی کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَا: ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا الْأَغَرُّ بْنُ الصَّبَّاحِ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ الْأَسَدِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: تَرَدَّدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آيَةٍ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: «أَشَهِدَ الصَّلَاةَ مَعَكُمْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ؟» قَالُوا: لَا. قَالَ: فَرَأَى الْقَوْمُ أَنَّهُ إِنَّمَا فَقَدَهُ لِيَفْتَحَ عَلَيْهِ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ فجر کی نماز میں کسی آیت میں ادھر ادھر ہو گئے (رک گئے)، جب نماز مکمل کی تو لوگوں کی طرف رخ کیا اور فرمایا: ”کیا ابی بن کعب نے تمہارے ساتھ نماز پڑھی؟“ صحابہ نے عرض کیا: نہیں۔ راوی کہتے ہیں: تو لوگوں کی رائے یہ تھی کہ آپ ﷺ نے صرف اس لیے ان کے بارے میں پوچھا تاکہ وہ آپ کو (آیت) یاد دلا دیتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ الْأَغَرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَتِ الْأَوْسُ وَالْخَزْرَجُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بَيْنَهُمْ شَرٌّ، فَبَيْنَمَا هُمْ يَوْمًا جُلُوسٌ ذَكَرُوا مَا بَيْنَهُمْ حَتَّى غَضِبُوا، فَقَامَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ بِالسِّلَاحِ» فَنَزَلَتْ: {وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ وَأَنْتُمْ تُتْلَى عَلَيْكُمْ آيَاتُ اللهِ وَفِيكُمْ رَسُولُهُ} [آل عمران: ١٠١] الْآيَةُ كُلُّهَا، وَالْآيَتَانِ بَعْدَهَا إِلَى {وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ} [آل عمران: ١٠٣]
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: قبیلہ اوس اور خزرج کے درمیان جاہلیت میں دشمنی تھی، ایک دن وہ بیٹھے ہوئے آپس کی پرانی باتیں یاد کرنے لگے یہاں تک کہ غصے میں آ گئے، اور کچھ لوگ ایک دوسرے کی طرف اسلحہ لے کر کھڑے ہو گئے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی: ”اور تم کیسے کفر کرتے ہو حالانکہ تم پر اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں اور تم میں اس کا رسول موجود ہے“ [آل عمران: 101] پوری آیت، اور اس کے بعد کی دو آیتیں ”اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی“ [آل عمران: 103] تک۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَغَرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: {وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ وَأَنْتُمْ تُتْلَى عَلَيْكُمْ آيَاتُ اللهِ وَفِيكُمْ رَسُولُهُ} [آل عمران: ١٠١] قَالَ: «كَانَ الْأَوْسُ يَتَحَدَّثُونَ إِذْ ذَكَرُوا أَمْرَ الْجَاهِلِيَّةِ , فَغَضِبُوا حَتَّى كَانَ بَيْنَهُمْ حَرْبٌ، فَأَخَذُوا السِّلَاحَ , وَمَشَى بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ» ، فَنَزَلَتْ: {وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ، وَأَنْتُمْ تُتْلَى عَلَيْكُمْ آيَاتُ اللهِ} [آل عمران: ١٠١] إِلَى قَوْلِهِ: {فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا} [آل عمران: ١٠٣]
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”اور تم کیسے کفر کرتے ہو حالانکہ تم پر اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں اور تم میں اس کا رسول موجود ہے“ [آل عمران: 101] کے بارے میں فرماتے ہیں: قبیلہ اوس آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ انہوں نے جاہلیت کی باتیں یاد کیں، تو غصے میں آ گئے یہاں تک کہ ان کے درمیان جنگ چھڑنے لگی، انہوں نے اسلحہ اٹھا لیا اور ایک دوسرے کی طرف چل پڑے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی: ”اور تم کیسے کفر کرتے ہو…“ [آل عمران: 101] سے لے کر ”تو اس نے تمہیں اس سے بچا لیا“ [آل عمران: 103] تک۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ الْأَغَرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْتَحِنُ النِّسَاءَ؟ قَالَ: «كَانَ إِذَا أَتَتْهُ الْمَرْأَةُ لِتُسْلِمَ حَلَّفَهَا بِاللهِ مَا خَرَجَتْ لِبُغْضِ زَوْجٍ، وَبِاللهِ مَا خَرَجَتْ لِاكْتِسَابِ دِينَارٍ، وَبِاللهِ مَا خَرَجَتْ رَغْبَةً عَنْ أَرْضٍ إِلَى أَرْضٍ، وَبِاللهِ مَا خَرَجَتْ إِلَّا حُبًّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا: رسول اللہ ﷺ عورتوں کا امتحان کیسے لیتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ”جب کوئی عورت اسلام لانے کے لیے آپ ﷺ کے پاس آتی تو آپ ﷺ اسے اللہ کی قسم دلاتے: اللہ کی قسم! تم اپنے شوہر سے نفرت کی وجہ سے نہیں نکلیں، اللہ کی قسم! تم مال کمانے کے لیے نہیں نکلیں، اللہ کی قسم! تم کسی زمین کو چھوڑ کر دوسری زمین کی رغبت میں نہیں نکلیں، اللہ کی قسم! تم صرف اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں نکلی ہو۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَجَلِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ وَلِيدٍ الْكِنْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ الْأَغَرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي نَصْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ عُمَرٍ فِي ذِي الْقِعْدَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ذوالقعدہ میں تین عمرے کیے۔