المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عطية العوفي، عن ابن عباس باب: عطیہ عوفی کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 12617
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَسْبَاطٌ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: {فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ} [المدثر: ٨] قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ أَنْعَمُ وَصَاحِبُ الْقَرْنِ قَدِ الْتَقَمَ الْقَرْنَ؟» وَحَنَا جَبْهَتَهُ «يَسْتَمِعُ مَتَى يُؤْمَرُ؟» , فَقَالَ أَصْحَابُهُ: فَكَيْفَ نَقُولُ؟ قَالَ: «قُولُوا حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ»ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”تو جب صور میں پھونک ماری جائے“ [المدثر: 8] کے بارے میں فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں کیسے آرام کروں جبکہ صور والا صور کو منہ میں لے چکا ہے؟“ اور آپ ﷺ نے اپنی پیشانی جھکائی، سن رہے تھے کہ کب حکم ملے۔ صحابہ نے عرض کیا: تو ہم کیا کہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہو: ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔“