المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عطية العوفي، عن ابن عباس باب: عطیہ عوفی کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 12616
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَيْفَ أَنْعَمُ وَقَدِ الْتَقَمَ صَاحِبُ الْقَرْنِ الْقَرْنَ؟» وَحَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَبْهَتَهُ «يَنْتَظِرُ مَتَى يُؤْمَرُ فَيَنْفُخُ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ , فَكَيْفَ نَقُولُ؟ قَالَ: {حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ} [آل عمران: ١٧٣] ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ} [المدثر: ٨]ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں کیسے آرام کروں جبکہ صور والا صور کو اپنے منہ میں لے چکا ہے؟“ اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی پیشانی جھکائی، آپ ﷺ اس انتظار میں تھے کہ کب حکم ملے اور وہ پھونک ماریں۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! تو ہم کیا کہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے“ [آل عمران: 173]۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ”تو جب صور میں پھونک ماری جائے“ [المدثر: 8]۔