المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الشعبي عن ابن عباس باب: شعبی کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّرِيِّ بْنُ مِهْرَانَ النَّاقِدُ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ السَّمْتِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ اللَّخْمِيُّ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: «أَيُّكُمْ يَعْرِفُ الْقُسَّ بْنَ سَاعِدَةَ الْإِيَادِيَّ؟» قَالُوا: كُلُّنَا يَا رَسُولَ اللهِ يَعْرِفُهُ. قَالَ: «فَمَا فَعَلَ؟» قَالُوا: هَلَكَ قَالَ: " مَا أَنْسَاهُ بِعُكَاظٍ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ وَهُوَ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ، وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ، وَهُوَ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ اجْتَمِعُوا، وَاسْتَمَعُوا وَعُوا، مَنْ عَاشَ مَاتَ، وَمَنْ مَاتَ فَاتَ، وَكُلُّ مَا هُوَ آتٍ آتٍ، إِنَّ فِي السَّمَاءِ لَخَبَرًا , وَإِنَّ فِي الْأَرْضِ لَعِبَرًا , مِهَادٌ مَوْضُوعٌ، وَسَقْفٌ مَرْفُوعٌ , وَنُجُومٌ تَمُورُ , وَبِحَارٌ لَا تَغُورُ، أَقْسَمَ قُسٌّ قَسَمًا حَقًّا لَئِنْ كَانَ فِي الْأَرْضِ رِضًا لَيَكُونَنَّ بَعْدَهُ سَخَطٌ، إِنَّ لِلَّهِ لَدِينًا هُوَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ دِينِكُمُ الَّذِي أَنْتُمْ عَلَيْهِ، مَالِي أَرَى النَّاسَ يَذْهَبُونَ وَلَا يَرْجِعُونَ؟ أَرَضُوا فَأَقَامُوا، أَمْ تُرِكُوا فَنَامُوا؟ ثُمَّ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفِيكُمْ مَنْ يَرْوِي شِعْرَهُ؟» فَأَنْشَدَهُ: بَعْضُهُمْ:
[البحر الكامل]
فِي الذَّاهِبِينَ الْأَوَّلِيـ ... ـنَ مِنَ الْقُرُونِ لَنَا بَصَائِرْ
لَمَّا رَأَيْتُ مَوَارِدًا ... لِلْمَوْتِ لَيْسَ لَهَا مَصَادِرْ
وَرَأَيْتُ قَوْمِي نَحْوَهَا ... يَسْعَى الْأَصَاغِرُ، وَالْأَكَابِرْ
لَا يَرْجِعُ الْمَاضِي إِلَيَّ ... وَلَا مِنَ الْبَاقِينَ غَابِرْ
أَيْقَنْتُ أَنِّي لَا مَحَالَةَ ... حَيْثُ صَارَ الْقَوْمُ صَائِرْسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم میں سے قس بن ساعدہ ایادی کو کون جانتا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم سب اسے جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”پھر اس کا کیا بنا؟“ انہوں نے عرض کیا: وہ وفات پا چکا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اسے عکاظ کے میلے میں حرمت والے مہینے میں کبھی نہیں بھولتا، وہ سرخ اونٹ پر سوار تھا اور لوگوں کو خطاب کر رہا تھا، اور کہہ رہا تھا: اے لوگو! جمع ہو جاؤ، سنو اور یاد رکھو، جو جیا وہ مر گیا، اور جو مر گیا وہ جاتا رہا، اور جو کچھ آنے والا ہے وہ ضرور آئے گا۔ بےشک آسمان میں خبر ہے، اور زمین میں عبرتیں ہیں، ایک بچھا ہوا فرش ہے اور ایک اونچی چھت ہے، ستارے چلتے پھرتے ہیں، اور سمندر خشک نہیں ہوتے۔ قس نے سچی قسم کھائی کہ اگر زمین میں کوئی خوشی ہے تو اس کے بعد ناراضی ضرور آئے گی۔ بےشک اللہ کا ایک ایسا دین ہے جو اسے تمہارے اس دین سے زیادہ محبوب ہے جس پر تم ہو۔ مجھے کیا ہو گیا ہے کہ میں لوگوں کو جاتے دیکھتا ہوں مگر وہ لوٹتے نہیں؟ کیا وہ (اپنی جگہ پر) راضی ہو کر ٹھہر گئے، یا (وہیں) چھوڑ کر سلا دیے گئے؟“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی اس کے اشعار روایت کرتا ہے؟“ تو ان میں سے کسی نے یہ اشعار پڑھے: گزرے ہوئے پہلے زمانوں کے لوگوں میں ہمارے لیے عبرتیں ہیں
جب میں نے موت کے وہ گھاٹ دیکھے جن سے کوئی واپسی نہیں
اور میں نے اپنی قوم کو دیکھا کہ چھوٹے بڑے سب اسی طرف دوڑ رہے ہیں
نہ گزرا ہوا میری طرف لوٹتا ہے، اور نہ باقی رہنے والوں میں سے کوئی غائب رہنے والا ہے
مجھے یقین ہو گیا کہ میں بھی ضرور وہیں جاؤں گا جہاں یہ قوم جا چکی ہے۔