المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الشعبي عن ابن عباس باب: شعبی کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّاسِبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَقَالَ: «مَا مِنْ مَاءٍ، مَا مِنْ مَاءٍ؟» قَالُوا: لَا. قَالَ: «هَلْ مِنْ شَنٍّ؟» فَجَاءُوا بِالشَّنِّ، فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ، ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ فَنَبَعَ الْمَاءُ مِثْلَ عَصَا مُوسَى مِنْ أَصَابِعِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا بِلَالُ اهْتِفِ بِالنَّاسِ الْوُضُوءَ» فَأَقْبَلُوا يَتَوَضَّئُونَ مِنْ بَيْنَ أَصَابِعِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ هِمَّةُ ابْنِ مَسْعُودٍ الشُّرْبَ، فَلَمَّا تَوَضَّئُوا صَلَّى بِهِمُ الصُّبْحَ
ثُمَّ قَعَدَ لِلنَّاسِ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ أَعْجَبُ الْخَلْقِ إِيمَانًا؟» قَالُوا: الْمَلَائِكَةُ. قَالَ: «وََكَيْفَ لَا يُؤْمِنُ الْمَلَائِكَةُ وَهُمْ يُعَايِنُونَ الْأَمْرَ؟» قَالُوا: فَالنَّبِيُّونَ يَا رَسُولَ اللهِ , قَالَ: «وكَيْفَ لَا يُؤْمِنُ النَّبِيُّونَ، وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ عَلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ» ، قَالُوا: فَأَصْحَابُكَ يَا رَسُولَ اللهِ , قَالَ: «وَكَيْفَ لَا يُؤْمِنُ أَصْحَابِي وَهُمْ يَرَوْنَ مَا يَرَوْنَ؟ وَلَكِنَّ أَعْجَبَ النَّاسِ إِيمَانًا، قَوْمٌ يَجِيئُونَ مِنْ بَعْدِي، يُؤْمِنُونَ بِي وَلَمْ يَرَوْنِي، وَيُصَدِّقُونِي وَلَمْ يَرَوْنِي، أُولَئِكَ إِخْوَانِي»سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک دن رسول اللہ ﷺ نے صبح فرمایا: ”پانی نہیں ہے؟ پانی نہیں ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا کوئی چمڑے کا برتن (مشکیزہ) ہے؟“ چنانچہ وہ مشکیزہ لے آئے، اسے رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھا گیا، آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اس پر رکھا، پھر اپنی انگلیاں پھیلائیں تو رسول اللہ ﷺ کی انگلیوں سے موسیٰ علیہ السلام کے عصا کی طرح پانی ابل پڑا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بلال! لوگوں کو وضو کے لیے پکارو۔“ چنانچہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے وضو کرنے لگے، اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خواہش پینے کی تھی۔ جب لوگ وضو کر چکے تو آپ ﷺ نے انہیں فجر کی نماز پڑھائی۔
پھر آپ ﷺ لوگوں کے لیے بیٹھ گئے اور فرمایا: ”اے لوگو! مخلوق میں سب سے زیادہ عجیب ایمان کس کا ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: فرشتوں کا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”فرشتے کیوں ایمان نہ لائیں جبکہ وہ (حقیقت) کو آنکھوں سے دیکھتے ہیں؟“ صحابہ نے عرض کیا: پھر انبیاء کا، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”انبیاء کیوں ایمان نہ لائیں جبکہ ان پر آسمان سے وحی نازل ہوتی ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: پھر آپ کے صحابہ کا، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے صحابہ کیوں ایمان نہ لائیں جبکہ وہ وہی دیکھتے ہیں جو دیکھتے ہیں؟ لیکن سب سے زیادہ عجیب ایمان والے وہ لوگ ہیں جو میرے بعد آئیں گے، وہ مجھ پر ایمان لائیں گے حالانکہ انہوں نے مجھے نہیں دیکھا، اور وہ میری تصدیق کریں گے حالانکہ انہوں نے مجھے نہیں دیکھا، وہی میرے بھائی ہیں۔“