حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْباعِ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ بِشْرٍ الْعِجْلِيُّ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْضَاءٍ، وَأَنْ لَا أَكُفَّ لِي ثَوْبًا وَلَا شَعْرًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور یہ کہ میں (سجدے میں) اپنے کپڑے یا بال نہ سمیٹوں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عبدوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَاءُ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْأَخْنَسِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، أَنَّ طَاوُسًا، أَخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وُجِّهْنَا عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ، وَأُمِرْنَا أَنْ لَا نَكُفَّ ثَوْبًا، وَلَا شَعْرًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہمیں سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور یہ کہ ہم اپنے کپڑے یا بال نہ سمیٹیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ يَمْنَحْهَا أَخَاهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس کے پاس زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو (بلا معاوضہ) کاشت کے لیے دے دے۔“
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمْ نَرَ لِلْمُتَحَابَّيْنِ مِثْلَ النِّكَاحِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک دوسرے سے محبت کرنے والوں کے لیے نکاح جیسی کوئی چیز ہم نے نہیں دیکھی۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «مِنَ السُّنَّةِ أَنْ تُمِسَّ عَقِبَيْكَ أَلْيَتَيْكَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”سنت یہ ہے کہ تمہاری ایڑیاں تمہاری سرینوں کو چھوئیں۔“
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، وَأَبُو خَلِيفَةَ، قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ، وَلَا أَكُفَّ شَعْرًا، وَلَا ثَوْبًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور یہ کہ میں بال یا کپڑا نہ سمیٹوں۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَا: ثنا عِمْرَانُ الْقَصِيرُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ كَبَّرَ ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ قَيَّامُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ حَقٌّ وَقَوْلُكَ حَقٌّ وَوَعْدُكَ حَقٌّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ أَنْتَ رَبُّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ رَبِّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب رات کو (نماز کے لیے) اٹھتے تو تکبیر کہتے پھر فرماتے: ”اے اللہ! تیرے ہی لیے تعریف ہے، تو آسمانوں اور زمین کو قائم رکھنے والا ہے، اور تیرے ہی لیے تعریف ہے، تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اور تیرے ہی لیے تعریف ہے، تو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اس کا رب ہے، تو حق ہے، تیرا فرمان حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تیری ملاقات حق ہے، جنت حق ہے، جہنم حق ہے، قیامت حق ہے۔ اے اللہ! میں تیرا ہی فرمانبردار ہوا، تجھ پر ہی ایمان لایا، تجھ ہی پر بھروسہ کیا، تیری ہی طرف رجوع کیا، تیری ہی مدد سے (باطل سے) جھگڑا کیا، اور تیرے ہی حضور فیصلہ لے آیا، تو ہمارا رب ہے اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے، اے میرے رب! مجھے بخش دے جو میں نے چھپایا اور جو ظاہر کیا، اور جو میں نے آگے کیا اور جو پیچھے کیا، تو ہی میرا معبود ہے، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَقَدْ نَسَلْتُهُ بِالْإِذْخِرِ، وَالصُّوفةِ» - يَعْنِي: الْمَنِيَّ -
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”میں نے اسے اذخر گھاس اور اون سے کھرچ ڈالا“ - یعنی منی کا ذکر ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ، ثنا نُوحُ بْنُ أَنَسٍ الْمُقْرِئُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُمِرْنَا أَنْ نَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْضَاءٍ، وَلَا نَكُفَّ شَعْرًا وَلَا ثَوْبًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہمیں سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور یہ کہ ہم بال یا کپڑا نہ سمیٹیں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ الْحَلَبِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: «مِنَ السُّنَّةِ فِي الصَّلَاةِ أَنْ تَضَعَ أَلْيَتَيْكَ عَلَى عَقِبَيْكَ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”نماز میں سنت یہ ہے کہ دو سجدوں کے درمیان اپنی سرینیں اپنی ایڑیوں پر رکھو۔“
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ فِي مِحَفَّتِهَا فَأَخْرَجَتْ صَبِيًّا فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللهِ أَلِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: «نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کا گزر ایک عورت کے پاس سے ہوا جو اپنی سواری (کجاوے) میں تھی، اس نے ایک بچہ نکالا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اور تمہیں (بھی اس کا) اجر ملے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَمِينَةَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّا أَوْ رِمِّيَّا بِحَجَرٍ أَوْ عَصا: فَإِنَّ دِيَتَهُ مُغَلَّظَةٌ عَلَى عاقلتِهِ، وَمَنْ قُتِلَ بِيَدِهِ فَهُوَ قَوَدُ يَدِهِ، وَمَنْ حَالَ دُونَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی اندھی (بے سوچے سمجھے) لڑائی یا (بلا ارادہ) پتھر یا لاٹھی مارنے میں قتل ہو جائے، اس کی دیت اس کے قاتل کے خاندان پر بھاری (مغلظہ) ہو گی، اور جو اپنے ہاتھ سے (جان بوجھ کر) قتل کرے تو اس کا بدلہ اس کے ہاتھ سے (قصاص) لیا جائے گا، اور جو اس (قصاص لینے) میں رکاوٹ بنے، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، نہ اس کا کوئی نفلی عمل قبول کیا جائے گا اور نہ کوئی فرض۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أُسَيْدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، وَطَاوُسٌ، وَعِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے احرام کی حالت میں نکاح کیا۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ في الْكُسُوفِ قَالَ: «قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ وَالْأُخْرَى مِثْلُ ذَلِكَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سورج گرہن کی نماز میں: ”قراءت کی، پھر رکوع کیا، پھر قراءت کی، پھر رکوع کیا، پھر قراءت کی، پھر رکوع کیا، پھر قراءت کی، پھر رکوع کیا، اور دوسری رکعت بھی اسی طرح تھی۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقراطيسيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ طَاوُسًا، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَنَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے: ”اے اللہ! میں تجھ سے اس علم سے پناہ مانگتا ہوں جو نفع نہ دے، اس دعا سے جو سنی نہ جائے، اس دل سے جو نہ جھکے، اور اس نفس سے جو سیر نہ ہو۔ اے اللہ! میں ان چاروں (چیزوں) سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُجَاشِعِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الْكَرْمَانِيُّ، ثنا أَبُو مُطِيعٍ، قَاضِي بَلْخٍ، عَنِ الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ عُمَارَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِمِنًى: «لَوْ يَعْلَمُ أَهْلُ الْجَمْعِ بِمَنْ حَلُّوا أَوْ بِمَنْ نَزَلُوا لَاسْتَبْشَرُوا بِالْفَضْلِ مِنْ رَبِّهِمْ بَعْدَ الْمَغْفِرَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے منیٰ میں فرمایا: ”اگر اجتماع میں شریک لوگ یہ جان لیں کہ وہ کن کے ساتھ ٹھہرے ہوئے ہیں، تو وہ مغفرت کے بعد اپنے رب کے فضل کی خوشخبری پر خوش ہو جائیں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ زَكَرِيَّا الْإِياديُّ، بِجَبَلَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ قَيْسٍ، ثنا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِمِنًى يَقُولُ: «لَوْ يَعْلَمُ أَهْلُ الْجَمْعِ بِمَنْ حَلُّوا لَاسْتَبْشَرُوا بِالْفَضْلِ بَعْدَ الْمَغْفِرَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو منیٰ میں یہ فرماتے سنا: ”اگر اجتماع میں شریک لوگ یہ جان لیں کہ وہ کن کے ساتھ ٹھہرے ہوئے ہیں، تو وہ مغفرت کے بعد فضل کی خوشخبری پر خوش ہو جائیں۔“
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، ثنا عِيسَى بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ طَاوُسًا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُمْ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ لَيْلَةً حَتَّى انْقَلَبَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ إِلَّا عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ منْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَمْسَةَ عَشَرَ رَجُلًا - أَوْ سِتَّةَ عَشَرَ - مَا بَلَغُوا سَبْعَةَ عَشَرَ، فَقَالَ عُثْمَانُ: لَا أَخْرُجُ اللَّيْلَةَ حَتَّى يَخْرُجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُصَلِّيَ مَعَهُ وَأَعْلَمُ مَا أَمْرُهُ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَرِيبٍ مِنْ ثُلُثِ اللَّيْلِ وَمَعَهُ بِلَالٌ وَلَمْ يَرَ فِي الْمَسْجِدِ أَحَدًا إِذْ سَمِعَ نَغَمَةً مِنْ كَلَامِهِمْ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَمَشَى إِلَيْهِمْ حَتَّى سَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: «مَا يُجْلِسُكُمْ هَذِهِ السَّاعَةِ؟» قَالُوا: يَا نَبِيُّ اللهِ انتظرناكَ لنَشْهَدَ الصَّلَاةَ مَعَكَ فَقَالَ لَهُمْ: «مَا صَلَّى صَلَاتَكُمْ هَذِهِ أُمَّةٌ قَطُّ قَبْلَكُمْ، وَمَا زِلْتُمْ فِي صَلَاةٍ بَعْدُ» وَقَالَ: «إِنَّ النُّجُومَ أَمَانُ السَّمَاءِ، فَإِذَا طُمِسَتِ النُّجُومُ أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوعَدُونَ، وَإِنِّي أَمَانٌ لِأَصْحَابِي فَإِذَا ذَهَبْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ، وَأَصْحَابِي أَمَانٌ لِأُمَّتِي فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ»
ترجمہ
...نبی کریم ﷺ رات کے قریب ایک تہائی حصے میں (نکلے) اور آپ ﷺ کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ تھے، مسجد میں کسی کو موجود نہ پایا، اتنے میں مسجد کے ایک کونے میں لوگوں کی گفتگو کی آواز سنی، تو آپ ﷺ ان کی طرف چلے یہاں تک کہ انہیں سلام کیا اور فرمایا: ”اس وقت تمہیں کس چیز نے بٹھا رکھا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہم آپ کے ساتھ نماز میں شریک ہونے کے لیے آپ کا انتظار کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم سے پہلے کسی امت نے تمہاری یہ نماز کبھی نہیں پڑھی، اور تم اب تک (اسی انتظار کی وجہ سے) نماز ہی میں شمار ہو رہے تھے۔“ اور فرمایا: ”بے شک ستارے آسمان کے لیے امان ہیں، جب ستارے مٹ جائیں گے تو آسمان پر وہ (عذاب) آ جائے گا جس کا اسے وعدہ دیا گیا ہے، اور میں اپنے صحابہ کے لیے امان ہوں، جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ پر وہ (فتنہ) آ جائے گا جس کا انہیں وعدہ دیا گیا ہے، اور میرے صحابہ میری امت کے لیے امان ہیں، جب میرے صحابہ چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ (فتنہ) آ جائے گا جس کا اسے وعدہ دیا گیا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «مَا أَحَدٌ أُزَكِّيهِ غَيْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”نبی کریم ﷺ کے سوا میں کسی کی پاکیزگی کی گواہی نہیں دیتا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا الْمُعَلِّمُ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَمْ تَنْهَهُ صَلَاتُهُ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ، لَمْ يَزْدَدْ مِنَ اللهِ إِلَّا بُعْدًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کی نماز اسے بےحیائی اور برائی سے نہ روکے، وہ اللہ سے مزید دوری ہی میں بڑھتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ يَعْلَى بْنُ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، وَمُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَجَابِرٍ رَضِي اللهُ عَنْهُم: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ «لَمْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا لِحَجِّهِمْ، وَعُمْرَتِهِمْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ نے اپنے حج اور عمرے کے لیے صفا و مروہ کے درمیان صرف ایک ہی سعی کی۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «ابْنُ آدَمَ سِتُّونَ وَثَلَاثُمِائَةِ مَفْصِلٍ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهَا فِي كُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ» قَالَ: «الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ يَتَكَلَّمُ بِهَا الرَّجُلُ صَدَقَةٌ، وَعَوْنُ الرَّجُلِ أَخَاهُ عَلَى الشَّيْءِ صَدَقَةٌ، وَالشربةُ مِنَ الْمَاءِ يَسْقِيهَا صَدَقَةٌ، وَإِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ابن آدم کے تین سو ساٹھ جوڑ ہیں، ہر جوڑ پر ہر دن ایک صدقہ ہے۔“ فرمایا: ”اچھی بات جو آدمی کہے وہ صدقہ ہے، آدمی کا اپنے بھائی کی کسی کام میں مدد کرنا صدقہ ہے، پانی کا وہ گھونٹ جو وہ کسی کو پلائے صدقہ ہے، اور راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَزَّازُ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا غوثُ بْنُ غَيْلَانَ بْنِ مُنَبِّهٍ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَفْوَانَ، عَنْ إِدْرِيسِ ابْنِ بِنْتِ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ مُنَبِّهٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْلَا مَا طُبِعَ الرُّكْنُ مِنْ أَنْجَاسِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَأَرْجَاسِهَا، وَأَيْدِي الظَّلَمَةِ، وَالْأَثَمَةِ لَاسْتُشْفِيَ بِهِ مِنْ كُلِّ عَاهَةٍ، وَلَأُبْقِيَ الْيَوْمَ كَهَيْئَةِ يَوْمَ خَلَقَهُ اللهُ، وَإِنَّمَا غَيَّرَهُ اللهُ بِالسَّوَادِ لِئَلَّا يَنْظُرَ أَهْلُ الدُّنْيَا إِلَى زِينَةِ الْجَنَّةِ، وَليَصيرَنَّ إِلَيْهَا، وَإِنَّهَا لَيَاقُوتَةٌ مِنْ يَاقُوتِ الْجَنَّةِ وَضَعَهُ اللهُ حِينَ أَنْزَلَ آدَمَ فِي مَوْضِعِ الْكَعْبَةِ قَبْلَ أَنْ تَكُونَ الْكَعْبَةُ، وَالْأَرْضُ يَوْمَئِذٍ طَاهِرَةٌ وَلَمْ يُعْمَلْ فِيهَا شَيْءٌ مِنَ الْمَعَاصِي، وَلَيْسَ لَهَا أَهْلٌ يُنَجِّسُونَها، فَوُضِعَ لَهُ صَفٌّ مِنَ الْمَلَائِكَةِ عَلَى أَطْرَافِ الْحَرَمِ يَحْرُسُونَهُ مِنْ سُكَّانِ الْأَرْضِ وَسُكَّانُها يَوْمَئِذٍ الْجِنُّ، لَا يَنْبَغِي لَهُمْ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَيْهِ لِأَنَّهُ شَيْءٌ مِنَ الْجَنَّةِ، فَالْمَلَائِكَةُ يَذُودونَهُمْ عَنْهُ وَهُمْ وُقُوفٌ عَلَى أَطْرَافِ الْحَرَمِ يَحْدِقُونَ بِهِ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ وَلِذَلِكَ سُمِّيَ الْحَرَمُ لِأَنَّهُمْ يَحُولُونَ فِيمَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر یہ نہ ہوتا کہ حجرِ اسود کو جاہلیت کی ناپاکیوں، گندگیوں اور ظالموں اور گنہگاروں کے ہاتھوں نے آلودہ کر دیا ہے، تو اس سے ہر بیماری کی شفا حاصل کی جاتی، اور آج بھی وہ اسی حالت میں باقی رہتا جس حالت میں اللہ نے اسے پیدا کیا تھا، اور اللہ نے اسے صرف اس لیے سیاہ کر دیا تاکہ اہلِ دنیا جنت کی زینت کی طرف نہ دیکھیں، اور یقیناً وہ اسی کی طرف لوٹ کر جائے گا۔ بے شک یہ جنت کے یاقوتوں میں سے ایک یاقوت ہے جسے اللہ نے اس وقت رکھا جب آدم علیہ السلام کو کعبہ کی جگہ اتارا، اس سے پہلے کہ کعبہ بنے، اور اس وقت زمین پاک تھی اور اس میں کوئی گناہ نہیں کیا گیا تھا، اور اس کے کوئی رہنے والے نہ تھے جو اسے ناپاک کرتے۔ تو اس کے لیے فرشتوں کی ایک صف حرم کی حدود پر مقرر کی گئی جو اسے زمین کے (اس وقت کے) رہنے والوں سے حفاظت کرتی تھی، اور اس وقت زمین کے رہنے والے جن تھے، ان کے لیے مناسب نہ تھا کہ وہ اس کی طرف دیکھیں کیونکہ وہ جنت کی ایک چیز تھی، تو فرشتے انہیں اس سے دور رکھتے تھے اور وہ حرم کی حدود پر کھڑے ہو کر ہر جانب سے اسے گھیرے رکھتے تھے، اور اسی لیے اسے 'حرم' کہا گیا کیونکہ وہ ان کے اور اس کے درمیان رکاوٹ بنے رہتے تھے۔“