المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
طاوس، عن ابن عباس باب: طاؤس کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 10971
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَمِينَةَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّا أَوْ رِمِّيَّا بِحَجَرٍ أَوْ عَصا: فَإِنَّ دِيَتَهُ مُغَلَّظَةٌ عَلَى عاقلتِهِ، وَمَنْ قُتِلَ بِيَدِهِ فَهُوَ قَوَدُ يَدِهِ، وَمَنْ حَالَ دُونَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ "ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی اندھی (بے سوچے سمجھے) لڑائی یا (بلا ارادہ) پتھر یا لاٹھی مارنے میں قتل ہو جائے، اس کی دیت اس کے قاتل کے خاندان پر بھاری (مغلظہ) ہو گی، اور جو اپنے ہاتھ سے (جان بوجھ کر) قتل کرے تو اس کا بدلہ اس کے ہاتھ سے (قصاص) لیا جائے گا، اور جو اس (قصاص لینے) میں رکاوٹ بنے، اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، نہ اس کا کوئی نفلی عمل قبول کیا جائے گا اور نہ کوئی فرض۔“