حدیث نمبر: 10982
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَزَّازُ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، ثنا غوثُ بْنُ غَيْلَانَ بْنِ مُنَبِّهٍ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَفْوَانَ، عَنْ إِدْرِيسِ ابْنِ بِنْتِ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ مُنَبِّهٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْلَا مَا طُبِعَ الرُّكْنُ مِنْ أَنْجَاسِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَأَرْجَاسِهَا، وَأَيْدِي الظَّلَمَةِ، وَالْأَثَمَةِ لَاسْتُشْفِيَ بِهِ مِنْ كُلِّ عَاهَةٍ، وَلَأُبْقِيَ الْيَوْمَ كَهَيْئَةِ يَوْمَ خَلَقَهُ اللهُ، وَإِنَّمَا غَيَّرَهُ اللهُ بِالسَّوَادِ لِئَلَّا يَنْظُرَ أَهْلُ الدُّنْيَا إِلَى زِينَةِ الْجَنَّةِ، وَليَصيرَنَّ إِلَيْهَا، وَإِنَّهَا لَيَاقُوتَةٌ مِنْ يَاقُوتِ الْجَنَّةِ وَضَعَهُ اللهُ حِينَ أَنْزَلَ آدَمَ فِي مَوْضِعِ الْكَعْبَةِ قَبْلَ أَنْ تَكُونَ الْكَعْبَةُ، وَالْأَرْضُ يَوْمَئِذٍ طَاهِرَةٌ وَلَمْ يُعْمَلْ فِيهَا شَيْءٌ مِنَ الْمَعَاصِي، وَلَيْسَ لَهَا أَهْلٌ يُنَجِّسُونَها، فَوُضِعَ لَهُ صَفٌّ مِنَ الْمَلَائِكَةِ عَلَى أَطْرَافِ الْحَرَمِ يَحْرُسُونَهُ مِنْ سُكَّانِ الْأَرْضِ وَسُكَّانُها يَوْمَئِذٍ الْجِنُّ، لَا يَنْبَغِي لَهُمْ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَيْهِ لِأَنَّهُ شَيْءٌ مِنَ الْجَنَّةِ، فَالْمَلَائِكَةُ يَذُودونَهُمْ عَنْهُ وَهُمْ وُقُوفٌ عَلَى أَطْرَافِ الْحَرَمِ يَحْدِقُونَ بِهِ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ وَلِذَلِكَ سُمِّيَ الْحَرَمُ لِأَنَّهُمْ يَحُولُونَ فِيمَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر یہ نہ ہوتا کہ حجرِ اسود کو جاہلیت کی ناپاکیوں، گندگیوں اور ظالموں اور گنہگاروں کے ہاتھوں نے آلودہ کر دیا ہے، تو اس سے ہر بیماری کی شفا حاصل کی جاتی، اور آج بھی وہ اسی حالت میں باقی رہتا جس حالت میں اللہ نے اسے پیدا کیا تھا، اور اللہ نے اسے صرف اس لیے سیاہ کر دیا تاکہ اہلِ دنیا جنت کی زینت کی طرف نہ دیکھیں، اور یقیناً وہ اسی کی طرف لوٹ کر جائے گا۔ بے شک یہ جنت کے یاقوتوں میں سے ایک یاقوت ہے جسے اللہ نے اس وقت رکھا جب آدم علیہ السلام کو کعبہ کی جگہ اتارا، اس سے پہلے کہ کعبہ بنے، اور اس وقت زمین پاک تھی اور اس میں کوئی گناہ نہیں کیا گیا تھا، اور اس کے کوئی رہنے والے نہ تھے جو اسے ناپاک کرتے۔ تو اس کے لیے فرشتوں کی ایک صف حرم کی حدود پر مقرر کی گئی جو اسے زمین کے (اس وقت کے) رہنے والوں سے حفاظت کرتی تھی، اور اس وقت زمین کے رہنے والے جن تھے، ان کے لیے مناسب نہ تھا کہ وہ اس کی طرف دیکھیں کیونکہ وہ جنت کی ایک چیز تھی، تو فرشتے انہیں اس سے دور رکھتے تھے اور وہ حرم کی حدود پر کھڑے ہو کر ہر جانب سے اسے گھیرے رکھتے تھے، اور اسی لیے اسے 'حرم' کہا گیا کیونکہ وہ ان کے اور اس کے درمیان رکاوٹ بنے رہتے تھے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 10982
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 55، حدیث 11028