المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
طاوس، عن ابن عباس باب: طاؤس کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَا: ثنا عِمْرَانُ الْقَصِيرُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ كَبَّرَ ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ قَيَّامُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، أَنْتَ حَقٌّ وَقَوْلُكَ حَقٌّ وَوَعْدُكَ حَقٌّ وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ وَالْجَنَّةُ حَقٌّ وَالنَّارُ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ أَنْتَ رَبُّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ رَبِّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ أَنْتَ إِلَهِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ»سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب رات کو (نماز کے لیے) اٹھتے تو تکبیر کہتے پھر فرماتے: ”اے اللہ! تیرے ہی لیے تعریف ہے، تو آسمانوں اور زمین کو قائم رکھنے والا ہے، اور تیرے ہی لیے تعریف ہے، تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اور تیرے ہی لیے تعریف ہے، تو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اس کا رب ہے، تو حق ہے، تیرا فرمان حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تیری ملاقات حق ہے، جنت حق ہے، جہنم حق ہے، قیامت حق ہے۔ اے اللہ! میں تیرا ہی فرمانبردار ہوا، تجھ پر ہی ایمان لایا، تجھ ہی پر بھروسہ کیا، تیری ہی طرف رجوع کیا، تیری ہی مدد سے (باطل سے) جھگڑا کیا، اور تیرے ہی حضور فیصلہ لے آیا، تو ہمارا رب ہے اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے، اے میرے رب! مجھے بخش دے جو میں نے چھپایا اور جو ظاہر کیا، اور جو میں نے آگے کیا اور جو پیچھے کیا، تو ہی میرا معبود ہے، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔“